ہم جنس پرستی معاشرتی ناسور ہے

Faizi
کالم نگار: ریحان الدین فیضی
(فیضی کے قلم سے)

ہم جنس پرستی ہمیشہ سے ایک معاشرتی ناسور رہا ہے۔ اس حوالے سے شریعت مطہرہ میں سخت سزائیں مقرر ہیں اور عالم اسلام میں بھی اس حوالے سے قوانین مرتب کیے گئے ہیں جو نافذالعمل بھی ہیں ۔ لیکن اسی معاشرے میں ایک ناسور طبقہ بھی ہے جو خود کو لبرل کہلاتا ہے اس طبقے کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے ہم جنس پرستی کا یہ وائرس انسانی معاشرے میں سرایت کر جائے۔ ہم جنس پرستی نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی باقاعدہ کوئی انجمن ہے بلکہ یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جو نفسانی خواہشات کے حامل ان نفسیاتی مریضوں کو لاحق ہے۔ یہ لوگ خود تو اس وائرس کا شکار ہیں ہی مگر اس وائرس کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے جنون کی حد تک سرگرداں بھی رہتے ہیں۔ ہم جنس پرستی ایک ایسا دلدل ہے جو اس میں پھنستا ہے وہ اپنے ساتھ کئی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے، ایسے لوگ معاشرے میں دھتکارے جاتے ہیں۔ خاندانی طبقات کا لحاظ بھی ان میں ختم ہو جاتا ہے نیز خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ازدواجی قانون کو بھی بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ازدواجی تعلق سے بے زار یہ طبقہ سب سے پہلے اپنا انتقام خاندانی نظام کے پاک سسٹم سےبغاوت کر کے لیتا ہے۔

اس فعل قبیح کی شروعات حضرت لوط علیہ السلام کے دور میں ہوئی تھی، اس وقت ہم جنس پرستی کا رجحان صرف مردوں میں پایا جاتا تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۸۱ میں بھی فرمایا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور بار بار انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کرتے رہے لیکن ان کی قوم انہیں اور ان کے ساتھوں کو تنگ کرتی تھی۔ جب وہ اپنی ناپاک حرکتوں میں حد سے تجاوز کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان  پر اپنا عذاب مسلط کیا اور ان کی بستی الٹ دی اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ شیطان سے پوچھا کہ؛ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قبیح گناہ کون سا ہے؟‘‘ شیطان نے جواب دیا ’’ہم جنس پرستی‘‘ یعنی مرد مرد سے اور عورت عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔ (تفسیر روح البیان 197/3)

پاکستان پوری دنیا میں ایک مضبوط اسلامی اور فلاحی ریاست ہےجس کی بنیاد پر کلمہ لا الٰہ اللہ درج ہے، جس کے آئین کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور جناب نبی کریمﷺ کے درود پاک سے ہوتی ہے، جس کے قوانین میں قرآن و سنت کی باتوں کو احترام سے سنا بھی جاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کے لیے بنیادی کردار بھی ادا کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں کے کفر کا پردہ بھی سب سے پہلے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے بے نقاب کیا ہے۔ جہاں پاکستان ایک اسلامی اور فلاحی ریاست ہے وہیں معاشرے کے کچھ دھتکارے ہوئے لوگ جو ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے بے ہودہ نعرے اور ناپاک عزائم لے کر اس پاک سرزمین کو ناپاک کرنے نکلے ہیں انہیں عالمی برادری کی جانب سے باقاعدہ فنڈنگ کی جاتی ہےتا کہ پاکستان میں رحمت الٰہی سے معطر فضاؤں کو الودہ کیا جا سکے لیکن الحمداللہ یہ آج تک ناکام و نامراد ہوئے ہیں آئندہ بھی شکست انہی کے مقدر ہو گی۔

حال ہی میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے اسلامی اور پاکستانی تہذیب کے برعکس ایک غیراخلاقی اور بےہودہ فلم’’ JoyLand‘‘ ریلیز کی ہےاس فلم میں ہم جنس پرستی کو فطری تقاضہ قرار دیتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی مہذب اور سلجھے ہوئے طبقے کی جانب سے اس کے خلاف پرزور احتجاج کیا جا رہا تھا۔ جس کے بعد پاکستان میں یہ فلم Censored ہو گئی تھی۔ لیکن چونکہ ملک دشمن قوتیں اور عالمی برادی پاکستان میں یہ غلاظت پھیلانا چاہتے ہیں لہٰذا عالمی دباؤ کے بعد حکومت نے اس فلم کو سنیما میں چلانے کی اجازت دے دی ہے مگر پنجاب حکومت نے ابھی تک اس پابندی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ پنجاب کی طرح اس فلم کو پورے ملک میں سے اتروانے کی ازسر نو پلاننگ کی ضرورت ہے۔ یہ فلم اس فعل قبیح کی طرف ناجائز دعوت کا ذریعہ ہے جو ہماری نسل نو کے لاشعور پر حملہ آور ہو کر انہیں متاثر کر سکتی ہے۔ اس برائی سے ہم سب کو عافیت مانگنی چاہیے۔

قارئین کرام! انسانی زندگی گزارنے کے لیے شریعت مطہرہ نے ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا ہے جس پر عمل کر کے ایک کامیاب زندگی گزاری جا سکتی ہے جو آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل، جائز اور ناجائز، صحیح اور غلط کا واضح فرق رکھا ہے۔ اب یہ ہماری نیتوں پر منحصر ہے کہ ہم کس چیز کو اپناتے ہیں۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور جناب نبی کریمﷺ کی امت میں سے ہیں تو ہم اسی چیز کے طالب ہوں گے جس کی طلب جناب نبی کریمﷺ نے کی تھی اور ان چیزوں سے پناہ مانگیں گے جن سے نبی کریمﷺنے پناہ مانگی تھی۔ یاد رکھیں! ہر برائی ایک جڑ اور بنیاد ہوتی ہے۔ معاشرے میں ازدواجی قوانین میں بگاڑ کی پہلی شکل یہی فعل قبیح یعنی ہم جنس پرستی ہے۔ یہ گناہ عظیم ہے اس گناہ سے حفاظت کی ہمیں دعائیں مانگنی چاہیے اور جو حالات نظر آ رہے ہیں ایسے میں ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی چاہئے۔ اس برائی میں ملوث اور اس کے نام لیوا افراد کی صحبت سے اجتناب کرتے ہوئے ان کے لیے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیئے کیوں کہ گناہ گاروں کے لیے ہدایت کی دعا مانگنا سنت نبویﷺ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مکروہ فعل اور قبیح گناہ سے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے۔۔۔ آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں