ایران نے اقوام متحدہ کی نئی تشکیل کردہ غیر جانب دار کمیٹی کو مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اسلامی ملک کی قانونی حیثیت کو چیلنج کررہے ہیں، جنہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر نذر آتش کیں اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مظاہرین خاص طور پر خواتین کے حقوق کی بات کررہے ہیں لیکن وہ ایرانی سپریم لیڈر کے زوال کا مطالبہ بھی کررہے ہیں، مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے ایرانی ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مظاہرے 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک ایرانی حکومت کے لیے چند بڑے چینلجوں میں سے ایک ہیں، حکام نے متعدد پچھلے مظاہروں کو کچل دیا تھا۔ایران ملک میں جاری اس انتشار کا ذمہ دار غیر ملکی دشمنوں اور ان کے ایجنٹس کو ٹھہراتا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نصیر کنانی کا کہنا تھا کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ مغربی ممالک ان مظاہروں میں ملوث ہیں، جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔انہوں نے تفصیلات ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مخصوص اطلاعات ہیں، جس کے مطابق امریکا، اس کے کچھ اتحادی اور مغربی ممالک کا ان مظاہروں میں کردار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے مظاہرین کی ہلاکت کی تعداد نہیں بتائی ہے لیکن نائب وزیر خارجہ علی بگھیری نے بتایا کہ تقریبا 50 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہیں، سرکاری طور پر پہلی بار سیکیورٹی فورسز کی اموات کی تعداد کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس تعداد میں فورسز جیسا کہ پاسداران انقلاب وغیرہ کی اموات بھی شامل ہیں یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں