لاہور میں عمران خان کی سیکیورٹی خیبرپختونخوا پولیس کے سپرد

پنجاب پولیس کی اعلیٰ کمان لاہور میں عمران خان کے لیے خیبرپختونخوا پولیس سے سیکیورٹی مانگنے کے حکومتی فیصلے پر ناخوش ہے اور اسے ملک کی سب سے بڑی اور انتہائی پیشہ ورانہ صوبائی پولیس فورس کی توہین کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان کی سیکیورٹی میں دوبارہ کسی کوتاہی کا ذمہ دار کون ہوگا کیونکہ اب لاہور پولیس کو عمران خان کے سیکیورٹی معاملات ترتیب دینے کی اجازت نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پنجاب پولیس کے پاس بھی ایلیٹ پولیس کمانڈوز موجود ہیں جنہیں خاص طور پر اعلیٰ شخصیات اور وی وی آئی پی موومنٹ کی حفاظت کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی سیکیورٹی کو ’آؤٹ سورس‘ کرنے کا فیصلہ حکومت پنجاب کی اپنی پولیس فورس پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ حالات میں صوبے کی پہلے سے ’سیاست زدہ پولیس‘ کے حوصلے پست کر سکتا ہے۔ زمان پارک میں خیبر پختونخوا پولیس کمانڈوز کی تعیناتی کی مخصوص مدت کے دوران رہائش اور خوراک سمیت تمام اخراجات حکومتِ پنجاب برداشت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کمانڈوز کا تعلق خیبرپختونخوا پولیس کی اعلیٰ تربیت یافتہ کمپنیوں ’ریپڈ رسپانس فورس‘ اور ’اسپیشل کومبیٹ یونٹ‘ سے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے بھی عمران خان کی رہائش گاہ پر 500 کے قریب اہلکاروں پر مشتمل بھاری فورس تعیناتی کر رکھی ہے جن میں 60 اعلیٰ تربیت یافتہ پنجاب ایلیٹ پولیس کمانڈوز بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں