افغانستان ڈیورنڈ لائن اور پاکستان

ذیشان احمد

۰۴ اکتوبر ۲۰۲۳ء

برصغیر پر قابض برطانوی حکومت کو یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ اسے افغانستان کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے کیونکہ اس دوران افغانستان میں امیر عبدالرحمٰن خان کی حکومت قائم تھی جنہیں روس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ان خدشات کے پیشِ نظر وائسرائے ہند نے امیر عبدالرحمٰن خان سے رابطے بڑھائے اور تعلقات استوار کرنا شروع کیے، پھر ستمبر 1893ء میں والی افغان کی دعوت پر برطانوی ہند کے وزیر امورِ خارجہ Henry Mortimer Durand کابل گئے۔ اس کے دو ماہ بعد دونوں حکومتوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا جس کے بعد افغانستان اپنے علاقوں چترال، چلاس، سوات، بنیر، دیر، کرم، باجوڑ، وزیرستان، چمن اور دیگر پر اپنے دعوے سے دستبردار ہو گیا۔ ان علاقوں اور افغانستان کے درمیان ایک سرحدی لائن کھینچ دی گئی جسے ڈیورنڈ لائن یا خطِ ڈیورنڈ کہتے ہیں۔ امیر عبدالرحمٰن خان کے انتقال کے بعد ان کے جانشین امیر حبیب اللہ خان والی افغانستان بنے، قابض برطانوی حکومت نے انہیں ہندوستان آنے کی سرکاری دعوت دی مگر امیر حبیب اللہ خان اصرار کے باوجود ہندوستان نہیں گئے البتہ انہوں نے برطانوی حکومت کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ اپنے والد کی طرف سے کیے گئے تمام معاہدوں کے پابند رہیں گے۔ اس پیغام کے بعد برطانوی حکومت نے اپنا نمائندہ کابل بھیجا جس نے اس معاہدے کو تجدید کرتے ہوئے ان کے دستخط لیے۔ 1947ء میں ہندوستان سے برطانوی انخلاء کے بعد افغانستان نے خطِ ڈیورنڈ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ معاہدہ قابض برطانوی حکومت کے ساتھ ہوا تھا اور چونکہ برطانیہ یہ خطہ چھوڑ کر چلا گیا ہے لہٰذا اس کے جانے سے یہ معاہدہ بھی اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ افغانستان اپنے اس دعوے پر حق بجانب ہے یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے، سرِدست جو معاملہ قابل غور ہے وہ کل نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی زیرِ صدارت قومی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا فیصلہ ہے جس کے مطابق یکم نومبر تک غیر قانونی طور پر مقیم تمام باشندوں کو اپنے اثاثے فروخت کر کے نکل جانے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے، بصورت دیگر ڈیڈ لائن ختم ہونے پر ان کی جائیدادیں ضبط کر کے انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ معاملہ اگر واقعی غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندگان تک ہی رہے تو درست ہے لیکن مشاہدہ اس کے برعکس ہے یہاں دیگر سرکاری دفاتر کی طرح نادرا میں بھی ایڑیاں گھسنی پڑتی ہیں تب جا کر عام پاکستانی کا کام ہوتا ہے۔ تو پشتون برادری سے تعلق رکھنے والا فرد یہ کس طرح ثابت کر پائے گا کہ وہ افغانی نہیں بلکہ پاکستانی پشتون ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس کے پاس دستاویزات مکمل ہوں گے اسے کیسی پریشانی؟ تو جناب! اس ملک میں پچھلے پانچ دہائیوں سے بنگالی برادری اپنی شناخت کے لیے تگ و دو کر رہی ہے ان کے پاس دستاویزات بھی ہیں اور وہ تمام ثبوت بھی جو کسی شخص کے پاکستانی ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں، مگر جس نسلی عصبیت نے ہم سے ہمارا مشرقی بازو علیحدہ کیا تھا یہ بنگالی آج بھی اسی عصبیت اور نفرت کا شکار ہیں، انہیں تمام تر ثبوتوں اور دستاویزات کے باوجود صرف زبان اور ثقافت کی بنیاد پر یہ کہہ کر نکال باہر کیا جاتا ہے کہ آپ بنگلہ دیشی ہیں لہٰذا آپ بنگلہ دیش جائیں۔ ہمارے پالیسی ساز ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے سابق چیف جسٹس (ر) اطہر من اللہ تین سال قبل اپنے ایک ریمارکس میں یہ کہہ چکے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر قومی رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے خلاف پٹیشنز فائل ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ہمارے ادارے کیسے یہ توقع رکھ رہے ہیں کہ پشتون برادری اس عصبیت سے محفوظ رہ سکے گی؟ انہیں افغانی کہہ کر خوار نہیں کیا جائے گا؟ آپ کو یاد ہو گا جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ جو سابق سینیٹر بھی ہیں اور جن کا بیٹا فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ ہے جس نے وطن کے دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے ایسے شخص کو افغانی کہہ کر ان کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا تھا۔ حافظ صاحب ایک بڑی جماعت کے رہنما تھے، حزبِ اختلاف سے تعلق رکھتے تھے اور نیشنل میڈیا میں ان کا موقف لیا جاتا تھا اس کے باوجود انہیں اپنی شناخت بحال کروانے کے لیے تگ و دو کرنا پڑی تھی، آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ عام پختون شہری کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پختون برادری میں احساس محرومی پیدا ہو گی، بغاوت کے جذبات ابھریں گے۔ گزشتہ ماہ افغان رہنما جنرل مبین خان نے ایک ٹاک شو کے دوران پاکستانی صحافی حسن خان کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگلے پانچ برسوں میں پاکستانی افغانستان آنے پر مجبور ہو جائیں گے مزید کہا کہ پاکستان ہماری سرزمین ہے اور ہم اسے واپس حاصل کریں گے۔ اور یہ صرف باتیں نہیں ہیں انہوں نے اپنے ایکس (سابق ٹویٹر) اکاؤنٹ پر جو پروفائل پکچر لگائی ہوئی ہے اس میں افغانستان کا نقشہ ہے، وہ اس نقشے میں ڈیورنڈ لائن کے اِس طرف آ گئے ہیں اور تقریباً آدھے پاکستان کو افغانستان دکھا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم اپنے پختون شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے کہیں جنرل مبین کے دعوے کو سچا ثابت کرنے تو نہیں جا رہے ہیں؟ جس طرح ہم عالمی فورمز پر کھلے بندوں کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر اسی قسم کا مطالبہ افغانستان کی جانب سے کیا جانے لگا تو کیا ہم اس قابل رہیں گے کہ پختون بیلٹ پر ریفرنڈم کروا سکیں؟

جنرل مبین خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ان کی پروفائل پکچر جس میں پاکستانی علاقوں کو افغان علاقے دکھائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں