پاکستان میں حرام اجزا والی 23 اشیا کھلے عام فروخت

حکومت کی جانب سے پابندی عائد کی جانے کے باوجود ذرائع ابلاغ میں تشہیر نہ ہونے کے سبب عوام حرام مصنوعات استعمال کررہی ہے۔ غیر ملکی برانڈ چاکلیٹ، کینڈی اور جیلی پروڈکٹس سرفہرست۔ جیلاٹن کی عالمی پیداوار کا 44 فیصد خنزیر کے اجزا سے تیار ہوتا ہے۔ حلال ذرائع سے پیداوار صرف 2 فیصد ہے۔

مئی 2014ء کے آخر میں ملائشیا میں حرام اشیا کی فروخت کے حوالے سے ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا۔ حکام کی طرف سے کیے جانے والے ٹیسٹوں سے ثابت ہوا کہ ملک بھر میں بکثرت فروخت ہونے والے چاکلیٹ برانڈ، کیڈبری کی دو مصنوعات ’’کیڈبری ڈیری ملک ہیزل نٹ‘‘ اور کیڈبری ڈیری ملک روسٹڈ آلمنڈ‘‘ میں خنزیر کے ڈی این اے کے اجزا پائے گئے ہیں۔ اس انکشاف پر ملائشیا میں غم و غصے سے بے قابو عوام نے برطانوی برانڈ کیڈبری اور اس کی مالک کمپنی Mondelez International Inc پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا۔ اس کے بعد دونوں حرام مصنوعات بازار سے اٹھا لی گئیں اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے علاوہ سعودی عرب میں بھی کیڈبری کی مصنوعات کی جانچ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان پروڈکٹس کو ملائشیا میں حلال مصنوعات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ادارے JAKIM کی طرف سے پاس کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ملائشیا کی نیشنل فتویٰ کونسل نے کیڈبری کی ان دو مصنوعات کی فروخت روکنے کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ رائے ظاہر کی گئی کہ کمپنی کو اس وقت تک سزا نہ دی جائے، جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ یہ حرکت جان بوجھ کر کی گئی ہے۔ کونسل کے چیئر مین عبدالشکور حسین نے بتایا ’’حکام کو تفتیش کرنا چاہیے کہ یہ خدشات و الزامات درست ہیں اور یہ ملاوٹ کس مرحلے پر ہوئی اور ایسا دانستہ ہوا یا یہ محض حادثہ تھا؟‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’جن مسلمانوں نے حلال سرٹیفکیٹ کی حامل یہ اشیا کھائی ہیں، انہیں ان میں ناپاک جانور کے اجزا کی موجودگی کے باوجود اپنے جسموں کی پاکیزگی کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام کوئی بے لچک مذہب نہیں ہے‘‘۔
کیڈبری کی مصنوعات پاکستان میں بھی ہر جگہ دستیاب ہیں اور ایک معاصر کے مطابق، پاکستان کیڈبری کی سب سے تیزی سے بڑھتی پانچ پارکیٹوں میں شامل ہے۔
پاکستان میں حلال اور حرام مصنوعات کے درمیان تفریق انتہائی کٹھن اور محنت طلب کام ہے۔ ملک بھر میں، خصوصاً بڑے شہروں کی سپر مارکیٹوں اور جنرل اسٹوروں میں غیر ملکی امپورٹڈ اشیا کی بھرمار ہے، جنہیں فروخت کنندگان محض بڑی کمپنیوں کے نام اور شہرت کی وجہ سے بے دریغ درآمد کر لیتے ہیں اور صارفین بھی بنا سوچے سمجھے انہیں استعمال کر لیتے ہیں۔ اگر پاکستان میں ان اشیا اور ان میں شامل اجزا کو حلال یا حرام قرار دینے والے کوئی ادارے موجود بھی ہیں تو ان کی کارکردگی برائے نام ہے، اور ان کی طرف سے حرام ہونے کی وجہ سے ممنوع قرار دی گئی اشیا کی عوام کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے 23 غیر ملکی مصنوعات کو حرام اجزا کی بنیاد پر ممنوع قرار دیا تھا اور ملک بھر میں ان کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس اقدام کی کوئی تشہیر سامنے نہیں آئی، جس کے سبب یہ تمام مصنوعات پاکستان بھر میں دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں۔
ان مصنوعات میں کرافٹ فوڈز کی جیل او (Jell-O)، مارس انکارپوریٹڈ کی ذیلی کمپنی Wriggly کی اسکٹلز (Skittles)، مونڈیلیز کیڈبری کی ببلیشیس (Bubblicious)، یونی لیور امریکا کی راگو ساس (Ragu)، پاسکویل انٹرنیشنل کی یوگی کڈز (Yogikids)، پرفیٹی وان میلے کمپنی کی چپا چپ ببل (Chupa Cup Bubble)، کنور کی رائس سائڈز چکن بروکولی، کنور کی پاستا سائڈز چکن بروکولی، کنور کا پاستا سائڈز کریمی چکن، کنور کا چکن ٹونائٹ، پکنک کمپنی کا چکن، کنور کا چکن سوپ، بیچلرز کمپنی کا سلم اے سوپ، بیچلرز کمپنی کا کپ اے سوپ، ہائینز کمپنی کا ڈنر چکن، ٹیولپ کمپنی کا چکن کڈز ساسیجز، کیلوگ کے پاپ ٹارٹس، یپی (Yupy) کمپنی کی یپی اسٹرابیری لیف، یپی فٹ بالز، یپی فروٹ کاک ٹیلز اور یپی گمی پیزا شامل ہیں۔ اگر اس فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو ان میں سب سے بڑی تعداد بچوں کی کینڈی اور جیلی پروڈکٹس کی ہے، جو دیگر اجزا کے علاوہ جیلاٹن سے تیار کی جاتی ہیں۔
جیلاٹن ایک بے رنگ یا ہلکے پیلے رنگ کا بے بو، بے ذائقہ، بھر بھرا اور پانی میں حل پذیر پروٹین ہے جوCollagen سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جبکہ Collagen خود جانوروں (بشمول مچھلی اور پرندوں) کی کھال، اتصالی ریشوں (Connective Tissues) اور ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ادویات، کاسمیٹکس، کیپسول کے خول اور فوٹوگرافی وغیرہ میں جیلاٹن کا استعمال عام ہے اور اس کے کئی اور استعمال بھی ہیں۔ جیلاٹن کے کھانے پینے کی اشیا میں استعمال کے علاوہ بھی اس قدر طبی اور صنعتی فوائد ہیں کہ اس کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمارے لیے انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کا حصول زیادہ تر حرام ذرائع سے ہوتا ہے۔ یعنی جیلاٹن کی عالمی پیداوار کا 44 فیصد خنزیر کی کھال اور ہڈیوں سے، 28 فیصد گائے کی ہڈیوں اور صرف ایک فیصد مچھلی اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جیلاٹن کا 39 فیصد مغربی یورپ، 2فیصد مشرقی یورپ، 20 فیصد شمالی امریکا اور 17 فیصد لاطینی امریکا میں تیار ہوتا ہے، جبکہ باقی تمام ملکوں کا حصہ صرف 22 فیصد ہے۔ گائے حاصل کردہ جیلاٹن بھی کیوں کہ غیر مسلم ممالک میں بنتا ہے، اس لیے اس کا حلال ہونا بھی یقینی نہیں ہوتا، کیوں کہ صرف شرعی طریقے سے ذبح کی گئی گائے سے حاصل شدہ جیلاٹن ہی حلال ہو گا۔ اس لحاظ سے ماہرین کی رائے میں جیلاٹن کی کل عالمی پیداوار کا صرف 2 فیصد حلال پر مشتمل ہے۔ لہٰذا یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ امپورٹڈ اور اسمگل شدہ جیلی کی مصنوعات حرام جیلاٹن سے تیار شدہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو ان سے گریز کرنا چاہیے اور حکومت کو بھی یہ بات سختی سے یقینی بنانا چاہیے کہ ایسی مصنوعات مارکیٹوں میں فروخت نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں