مصر کا ’’بلٹ پروف‘‘ جوان جسے فرعون کا لقب دیا گیا ہے

’’فرعون‘‘ مصر کے قدیم بادشاہوں کا لقب ہوا کرتا تھا۔ اب مصر میں مافوق الفطرت قُویٰ کا مالک ایک ایسا شخص سامنے آیا ہے، جس کی محیر العقول صلاحیتوں کے پیش نظر اسے بھی ’’فرعون مصر‘‘ کا لقب دے دیا گیا ہے۔ کریم عبدالفضیل حسین نامی شخص کو رب تعالیٰ نے 360 گھوڑوں کے برابر قوت عطا کی ہے۔ فرعون کہلانے والے کریم عبدالفضیل حسین کا بدن لوہے کی طرح مضبوط ہے، جس پر گولی بھی اثر نہیں کرتی، شیشے کی کرچیاں بسکٹ کی طرح کھاتا ہے، جبکہ آج تک اس نے نیند بھی نہیں لی۔ مصری جریدے ’’الیوم السابع‘‘ اور ’’العربیہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ، ایکشن فلموں میں ناقابل یقین صلاحیتوں کا مظاہرہ تو ہر ایک نے دیکھا ہو گا، مگر مصر میں ایک ایسا شخص سامنے آ گیا ہے، جس نے فلمی خیالات کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ مصر کے صوبے اسیو ط میں پیدا ہونے والے 38 سالہ کریم عبدالفضیل حسین یقینی طور پر ایک مافوق الفطرت انسان ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اسے بیان کرنا محال ہے، جبکہ انسانی عقل بھی اس کا یقین کرنے میں مشکل میں پڑ جاتی ہے۔ کریم کو اس کی محیر العقول قوتوں اور صلاحیتوں کے پیش نظر مصریوں نے ’’کریم فرعون‘‘ اور ’’فرعون مصر‘‘ کا لقب دے دیا ہے۔ کریم کا تعلق صوبے اسیوط کے الہلایل کے قبیلے سے ہے۔ کریم کی مافوق الفطرت قوتوں کا انکشاف 8 برس کی عمر میں ہوا، جب وہ شیشے اور بلیڈوں کو شکر کی میٹھی گولی کی طرح کھا جاتا تھا۔ کچا گوشت اس کی مرغوب ترین غذا ہے، جبکہ وہ چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت نہیں سوتااور مسلسل جاگتے رہنے کی بنا پر اسے کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوتی جبکہ میڈیکل سائنس کے مطابق اگر انسان 10 دن تک نیند نہ لے اور مسلسل جاگتا رہے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی گفتگو ہوئے کریم فرعون نے بتایاکہ جب سے اس نے آنکھ کھولی ہے کبھی محو خواب ہونے کا مزا نہیں چکھا۔ تاہم وہ کچھ دیر کے لئے آرام ضرور کرتا ہےاور اس دوران اس کی پلکیں کوشش کے باوجود بند نہیں ہوتیں۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ اگر کریم پر گولیاں برسائی جائیں تو اس کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ آگ بھی اس کے جسم کو نہیں جلاتی۔ کریم فرعون کا کہنا ہے کہ 8 برس کی عمر میں وہ ایک روز لسی پی رہا تھا کہ اچانک محسوس ہواکہ شیشے کا گلاس اس کے ہاتھ میں ٹوٹ گیا ہے۔ کریم کو اپنی طاقت کااندازہ نہیں تھا ، اس لئے اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مضبوطی سے گلاس کو تھاما تھا اور وہ پاش پاش ہو گیا، جس پر اس نے نہ صرف یہ کہ شیشے کو کھا لیا، بلکہ اس کی لذت کریم کو شیرینی کی طرح محسوس ہوئی۔ اس کے بعد اس نے محسوس کیا کہ پکے ہوئے گوشت کی نسبت اس کو کچا گوشت زیادہ مرغوب لگتا ہے۔ ایک مرتبہ اس کے ہاتھ پر چُھری گر گئی تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس سے کریم کو اپنے جسم کی غیر معمولی مضبوطی کا ادراک ہوا۔ اس کے بعد اس نے آزمانے کےلئے ایک چاقو لے کر خود کو گھونپنے کی کوشش کی تو اسے کوئی تکلیف ہی محسوس نہ ہوئی۔ ایک مرتبہ سلائی کی سوئی لے کر اپنی گردن میں داخل کی تو وہ آر پار ہو کر دوسری جانب سے نکل آئی، جبکہ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا۔ اس عمل سے کریم کو کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی۔ کریم فرعون نے اپنی اس غیر معمولی صورت حال کے حوالے سے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تو مکمل چیک اَپ اور کئی ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ :’’کریم کے 2 دل، 2 جگر اور 4 گردے ہیں اور اس کا دماغ بھی عام انسانی دماغ کی طرح نہیں ، بلکہ گانٹھ دار شاخوں کا پیچیدہ مررکب ہےجبکہ کھال کی موٹائی اس نوعیت کی ہے، جس پر گولیاں اثر نہیں ہو سکتیں‘‘۔ مگر ایسا کیوں ہے؟ ڈاکٹر اس کی کوئی طبی توجیہ پیش نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا ہےکہ یہ محض قدرت کی دین ہے۔ کریم فرعون کے میڈیکل چیک اَپ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی طاقت 360HP یعنی 360 گھوڑوں کے برابر ہے۔ کریم فرعون کے جسم کا بیرونی حصہ ہی اتنا مضبوط نہیں، بلکہ اس کے اندرونی اعضا بھی فولادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیشے کے ٹکڑوں اور بلیڈز کو بسکٹ کی طرح کھا لیتا ہے۔ کریم نے اپنی مافوق الفطرت طاقت کے اظہار کے لئے متعدد دلچسپ مشاغل اپنا رکھے ہیں۔ وہ اپنی دو انگلیوں سے سکے کو کاغذ کی طرح بہ آسانی چیر لیتا ہے ۔ اس نے کئی افراد کی موجودگی میں سکے کو اپنی دو پلکوں کے درمیان رکھ کر اسے دبایا تو وہ ایسے ہی مڑ گیا، جیسے ہتھوڑے سے مارا گیا ہو۔اس اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے بھاری گاڑیوں کو کھینچ کر دکھایا اور اپنے دانتوں کے ذریعے سامان سے لدے ٹرک کو کھینچنے کا مظاہرہ بھی کیا۔ ان مظاہر کو دیکھ کر ناظرین کے لئے اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ’’العربیہ‘‘ کی کیمرہ ٹیم کے سامنے کریم نے بہت سے مشاغل کا مظاہرہ کیا، جن میں شیشوں اور بلیڈوں کو کھانا، بکھری ہوئی کرچیوں سے منہ دھونا، شیشوں کے ٹکڑوں پر سونا شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کریم کی آنکھوں کا اندرونی حصہ بھی اتنا مضبوط ہے کہ وہ ہتھیلی میں شیشے کے ٹکڑے بھر کر آنکھوں میں لگاتا ہے۔ کریم کے ساتھی اس کی آنکھوں کی پتلیاں کھولتے ہیں اور وہ تیز دھار کانچ کے ٹکڑے اپنی آنکھوں میں مارتا ہے۔ دیکھنے والے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ،مگرفرعون مصر کو کچھ نہیں ہوتا۔ العربیہ ٹیم کے سامنے کریم نے تین طاقتور آدمیوں کو اپنے اوپر کھڑا کر کے خود کو تیز دھار خنجر گھونپا، مگر اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا، بلکہ خنجر ہی مڑ گیا۔ اس کے بعد ایک آدمی نے کریم کے سینے پر 60 کلو گرام وزنی پتھر رکھ کر توڑا، جبکہ کریم شیشوں پر لیٹا ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کریم فرعون کے چاروں بچے (تین بیٹے اور ایک بیٹی) نے بھی موروثی طور پر اپنے باپ کی طاقت حاصل کی ہے۔ محسن، احمد، برضہ اور نورہان نامی یہ بچے شیشے کی کرچیوں پر سو جاتے ہیں۔ اس دوران ان پر کوئی گرے بھی تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کریم فرعون اپنے بچوں کو بھی قمیصیں اتار کر کانچ پر لٹاتا ہے، اپنابھاری بھرکم بوجھ ان پر ڈال کر زور دیتا ہے، مگر چاروں بچوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ کریم کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کی طاقت دکھانے کے لئے ان کو ایک عمارت کی چھٹی منزل سے نیچے پھینکنے کا مظاہرہ کرے گا، تاہم العربیہ کی ٹیم نے اس کو ایسا کرنے روک دیا۔ کریم کی اس محیر العقول قوت کو دیکھ کر ’’بطلجیہ‘‘ نامی غنڈہ جماعت سمیت مصر کی کئی شریر قوتوں نے اس سے رابطہ کر کے اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی اور اسےمنہ مانگی اجرت دینے کا بھی لالچ دیا، مگر کریم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خداداد قوت کو خلق خدا کو نقصان پہنچانے کے لئے ہرگز استعمال نہیں کرے گا۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ مصری حکام یا نوجوانوں کے وزیر سے ملاقات کر کے ان سے مطالبہ کرے کہ اس مافق الفطرت صلاحیتوں سے ملک کے لئے کسی طور فائدہ اٹھایا جائے۔ کریم کا کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کے لئے میلے منعقد کرنے کے لئے تیار ہے، جو اس کی غیر معمولی طاقت کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ ان میلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی وہ اپنے ملک کے لئے عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کریم فلمی صنعت اور اشتہاروں میں بھی کام کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس کا کہنا ہے کہاگر موقع دیا گیا تو وہ مصر اور عرب دنیا میں ایکشن فلموں کا ستارہ ثابت ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں