جادو کی قدیم اور پُر اسرار کتاب جسے آج تک کوئی مکمل نہیں پڑھ سکا

پُراسرار کتاب کی حفاظت جنات کرتے ہیں۔ اس میں درج کالے جادو کے عملیات سے کوئی بھی شخص قوی الجثہ جنات کو تصرف میں کر سکتا ہے۔ کوشش کرنے والے اکثر لوگ پاگل پن، مرگی یا جنات کے حملے کا شکار ہوتے رہے۔ کئی عرب ممالک میں اس پُراسرار کتاب پر پابندی عائد ہے۔

چھٹی صدی ہجری کو عربی زبان میں لکھی گئی کتاب ’’الشمس المعارف الکبریٰ‘‘ روحانی عملیات پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جو عملیات کی دنیا میں ایک پراسرار حیثیت رکھتی ہے۔ اورآج بھی متنازع ہونے کے باعث سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک میں پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ عام طور پر اس کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد یہی جانتے ہیں کہ اسے چھٹی صدی ہجری کے ایک عالم جو کہ روحانی عملیات پر خاصا عبور رکھتے تھے نے قلم بند کیا تھا جس میں روحانی عملیات، جنات کو قابو کرنے اور دیگر بہت سے عملیات موجود ہیں لیکن اس کی اصل حقیقت سے وہی آگاہ ہیں جو یا تو روحانی علوم سے شُد بُد رکھتے ہیں یا پھر انہیں عربی کے علاوہ عبرانی اور یہود کے زیر استعمال دیگر زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ اکثر عرب ممالک کی عوام کی جانب سے اس بات پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر روحا نی عملیات کی اس کتاب پر ان کی حکومتوں کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے؟ انٹرنیٹ پر موجود عرب ممالک کے بلاگرز خصوصاً سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے اس سوال کو بڑی شدت سے اٹھاتے ہیں۔معترضین کی جانب سے اٹھائے گئے سولات کے جوابات میں عام طور سے دین اسلام کا گہرا فہم رکھنے والے حضرات کی جانب سے جوابات میں یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ چونکہ اس کتاب میں روحانی علوم اور جنات کو قابو کرنے کے علاوہ ’’ کالے جادو ‘‘ پر مشتمل بھی کئی طریقے درج ہیں ، اس وجہ سے اسلامی ممالک کی حکومتیں اس کتاب کو اپنی سرزمین پر پھیلانے میں مانع ہیں۔ یہ بات بھی انتہائی سر گرمی سے اٹھائی جاتی ہے کہ اگر اس کتاب کو لکھنے والے اپنے زمانے کے جانے مانے عالم دین تھے تو ان کی جانب سے روحانی علوم اور جنات کو قابو کرنے کے حوالے سے لکھی جانے والی اپنی کتاب میں ’’ کالے جادو ‘‘ کے طریقوں کا کیوں ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے بارے میں پائے جانے والے عمومی سوالات اور اعتراضات اسی قسم کے ہیں لیکن اس کا ایک اور انتہائی اہم پہلو بھی ہےجس سے عوام الناس کی اکثریت لاعلم ہے۔
عرب پورٹل پر اس کتاب کے حوالے سے پائی جانے والی معلومات کے مطابق مذکورہ کتاب اپنی تالیف کے بعد تقریباً سو سال تک کسی کے کام کی نہیں تھی کیوں کہ جو بھی اسے پڑھنے کی کوشش کرتا یا تو وہ مجنون ہو جاتا یا پھر جنات اس پر حاوی ہو جاتے۔ سو سال تک یہ کتاب فقط ایک ہی نسخے پر مشتمل رہی مگر بعد کے زمانے میں کسی نامعلوم شخص کی جانب سے اس کتاب میں کچھ کمی بیشی کرتے ہوئے اس کے کئی نسخے بنائے گئے تھے ۔ چونکہ کتاب کے مصنف کی جانب سے مذکورہ کتاب میں بعض ایسے طریقے ذکر گئے تھے جنہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی عام شخص انتہائی آسانی سے قوی الجثہ جنات کو اپنے قابو میں کر سکتا تھا، اس لئے جنات اس کتاب کی حفاظت کرتے تھے کہ کوئی اسے پڑھ نہ پائے۔ بعد ازاں ایک نامعلوم عامل کی جانب سے اس میں کچھ تحریف کرتےہوئے ایسے جادوئی نسخوں کو نکال دیا گیا تھا جس کی بنا پر جنات اس کتاب کی حفاظت پر خود کو مامور کئے ہوئے تھےلیکن اب بھی اس کتاب میں موجود کالے علوم اور جنات کو قابو کرنے کے دیگر طریقوں کی موجودگی کے باعث کوئی عام شخص اس پوری کتاب کو سمجھ کر نہیں پڑھ پاتااور اس کی کوشش کرنے والے افراد پاگل پن، مرگی، جنون، سحر یا دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ علماء کی جانب سے احتیاط کو بروئے کار رکھتے ہوئے اس کتاب اور اس کے مصنف پر انتہائی محتاط انداز میں تبصرہ کیا جاتا ہے لیکن بعض ذرائع سے ملنے والی معلومات میں مذکورہ کتاب کے مؤلف کو براہِ راست یہودی اور اس کتاب کو اسلام کے نام پر کفر کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں اس کتاب پر سخت ترین پابندی ہے۔
سعودی عرب میں ’’جادو‘‘ اور اس سے متعلقہ کتابوں اور چیزوں پر تبصرہ کرنے والاآن لائن پورٹل ’’ القائمۃالکتب السحر العربیہ‘‘ اس کتاب اور اس کے مؤلف کے حوالے سے علماء کا مؤقف بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’مذکورہ کتاب کے مؤلف ’’امام احمد بن علی البونی‘‘ پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں پیدا ہوئے اور چھٹی صدی ہجری کے اوائل میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ ان کا آبائی تعلق ’’الجزائر ‘‘کے شہر ’’بونہ‘‘ سے تھا۔ اس کتاب کا تعلق فقہی یا دینی امور سے ہونے کے بجائے خالص روحانی علوم سے ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں اللہ رب العزت کے اسماء کی صفات اور مختلف سورتوں کی صفات کے علاوہ جنات کو قابو کرنے اور ان سے نجات پانے کے طریقے ذکر کئے ہیں لیکن یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ اس کتاب میں بعض سورتوں کے درمیان عبرانی یا کسی ایسی زبان کے بعض ایسے الفاظ لکھے گئے ہیں جو سمجھ سے بالا تر ہیں۔ اس بنا پر اس کتاب کو علماء کی جانب سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔‘‘ معروف عربی ویب پورٹل ’’ الوطنیہ‘‘ کی جانب سے اس سلسلے میں لکھا گیا ہے کہ زمانہ قدیم میں اس کتاب کے حوالے سے نہ صرف یہ بات خاصی مشہور رہی ہے کہ اس کے پڑھنے والے مجنون، مرگی یا جنات کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں بعض مصدقہ واقعات بھی موجود ہیں۔ چھٹی صدی ہجری کے آخر میں یہ کتاب محمد بن علی بن زائد کی تحویل میں تھی ۔ مذکورہ شخص ایک مالدار تاجر تھا اور مزید دولت کے حصول کے چکر میں اس کی جانب سے یہ کتاب بھاری قیمت خرچ کر کے حاصل کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس وقت اس کتاب کا صرف وہی ایک نسخہ تھا جو محمد بن علی نے حاصل کیا تھا۔ بعد میں کچھ ردّو بدل کے ساتھ اس زمانے کے حساب سے اس کی متعدد کاپیاں کروائی گئیں۔ اس شخص کا بیان ہے کہ جب بھی وہ اس کتاب کو کھول کر پڑھنے کی کوشش کرتا تو اس کے سامنے ایک سیاہ ہیولہ آ موجود ہوتا جس کی جسامت کی سیاہی اور چہرے پر چھائی نحوست سے وہ بے ہوش ہو جاتا۔کئی مرتبہ کی کوششوں کے بعد با لآخر اس کی جانب سے یہ کتاب ایک عالم دین کے حوالے کر دی گئی تھی۔ اسی سے متعلق کچھ اور روایات بھی تلاش کرنے پر سامنے آتی ہیں جن کی رو سے پتا چلتا ہے کہ مذکورہ کتاب کی حفاظت پر شیاطین جنات مامور تھے کیونکہ کتاب میں موجود بعض جادوئی طریقوں کے استعمال پر وہ انسانوں کی غلامی میں آ سکتے تھے۔ چونکہ کتاب خود ایک جادوئی عملیات کا نادر ذخیرہ تھی، اس بنا پر وہ اس بات پر بھی قادر نہ تھے کہ مذکورہ کتاب کو کچھ نقصان پہنچا سکتے۔ مذکورہ چند واقعات کے بعد یہ کتاب منظر عام سے غائب ہو گئی تھی اور ساتویں صدی ہجری میں جب وہ ایک بارپھر منظر عام پر آئی تو اس میں موجود مواد کو ایک حد تک حذف کیا جا چکا تھا۔ مذکورہ کتاب میں موجود وظائف و جادوئی طریقہ کار میں سے اب بھی بعض ایسے ہیں جنہیں پڑھنے والا اگر کوئی عام انسان ہو جو عملیات کی ذرہ برابر بھی شُد بُد نہ رکھتا ہوتو وہ خود فوری کسی ناگہانی آفت یا بلا سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اب تک اس بات کی وضاحت نہیں ہو سکی ہے کہ مذکورہ کتاب کے وہ کون سے حصے، بول یا جُز ہیں جنہیں پڑھنے سے انسان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اب تک سامنے آنے والے واقعات میں ہر وہ شخص اپنے اوپر آنے والی ناگہانی آفت کے بعد یہ بات سرے سے ہی بھول چکا تھاکہ وہ کس حصے، بول یا جُز کو پڑھ رہا تھا۔ اگرچہ علماء کا عموماً اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ کتاب بظاہر قرآنی آیات و روحانی وظائف کا مجموعہ ہونے کے باوجود اپنے اندر کثرت سے پائے جانے والے غیر معروف الفاظ و جملوں کی بنا پر بڑی حد تک مشکوک حیثیت کی حامل ہے لیکن یمن سے تعلق رکھنے والے پچھلی صدی کے روحانی عامل ’’علی بن ابراہیم‘‘ نے اس پر خاصی سیر حاصل بحث کے ہے۔ چونکہ علی بن ابراہیم کا تعلق خود روحانیات سے تھا، اس کے علاوہ انہیں عربی کے علاوہ عبرانی اور دیگر کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ، اس لئے انہوں نے اس کتاب پر تحقیق کرتے ہوئے اس کے مصنف کو محتاط انداز میں یہودیوں کا شکار کیا ہوا قرار دیا ہے۔ کتاب میں موجود ’’سورۃ الجن‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ عام طور سے قرآن مجید میں پائی جانے والی سورۃ الجن دو سے تین صفحات پر مشتمل ہوتی ہےلیکن مذکورہ کتاب میں لکھی گئی یہ سورۃ صرف اس لئے تیرہ صفحات تک طویل ہو گئی ہے کہ کیونکہ اس میں جابجاعبرانی زبان میں پائے جانے والے شیطانی و جادوئی بولوں کو لکھا گیاہے۔ مذکورہ عامل کا کہنا ہے کہ در اصل احمد بن علی البونی’’گل گمیش‘‘ اور ’’ہمورابی‘‘کی تعلیمات کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ دونوں افراد حضرت سلیمان علیہ السلام کی امت سے پائے جانے والے اس گمراہ گروہ کے سربراہان میں شمار ہوتے ہیں جو سلیمان علیہ السلام کے بعد کالے جادو اور شیطانی علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ دونوں افراد یہودی النسل اور اپنے زمانے کے انتہائی بگڑے ہوئے شمار ہوتے تھے۔ انہی سے چلنے والے شیطانی علوم اور کالے جادو کے بولوں کو اس کتاب میں جابجا قرآنی آیات میں چھپایا گیا ہے۔
آٹھویں صدی ہجری کی ابتدا تک اس کتاب کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں پائی جاتی تھی۔ چونکہ یہ کتاب طباعت کے مرحلے سے گزرنے کے بعد بھی عام نہیں ہوئی تھی ، اس لئے عوام الناس کی گفتگو میں کتاب کے قصے تو تھے لیکن وہ اس کی زیارت سے محروم تھے ۔ مذکورہ کتاب آٹھویں صدی ہجری میں اس وقت منظر عام پر آئی اور دنیا بھر کے علماء اور عوام الناس میں اس سلسلے میں بحث چھڑ گئی تھی ، جب مذکورہ کتاب کو جامعۃ الازہر کے زیر اہتمام چلنے والے طباعت کے ادارے نے شیخ حسینی کی ہدایت کے مطابق ان کے خرچے پر اس کتاب کو شائع کیا گیا تھا۔ اگرچہ بعض علماء کی جانب سے شیخ حسینی کی شخصیت کو کافی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن دیگر علماء اور روحانی علوم سے وابستگی رکھنے والے ماہرین کا ایک طبقہ شیخ حسینی کی شخصیت کو بھی کتاب کے مؤلف احمد بن علی البونی کی طرح ہی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایسے علماء کا کہنا کہ شیخ حسینی بھی دراصل اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں ، جنہوں نے ایک ایسے موقع پر اس کتاب کو دوبارہ جِلا بخشی تھی جب لوگ اسے نظر انداز کرتے جا رہے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب مختلف اسلامی ریاستوں کی جانب سے اس کتاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ اسلامی ریاستیں ان علاقوں میں سیاسی سیاق و سباق تبدیل ہونے باوجود آج بھی قائم ہیں۔ اگرچہ اس موقع پر شائع کی جانے والی یہ کتاب بڑی حد تک اپنی اصلی حالت میں تھی لیکن محددود تعداد میں شائع ہونے کے سبب رفتہ رفتہ وہ معدوم ہوتی گئی اور آج بازار میں اس نام سے دستیاب اس کتاب کی اصل روح کو بڑی حد تک تبدیل کیا جا چکاہے جس سے وہ اب اصل نسخے غائب کر دیئے گئے ہیں جن کا تعلق براہِ راست جنات کو قابو کرنے اور کالے جادو کے ذریعے کام نکلوانے وغیرہ سے بنتا تھا۔ یمنی روحانی عامل علی بن ابراہیم کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ مذکورہ کتاب میں بعض مقامات پر شیطانی علوم اور جنات کی مدد لینے کے طریقے اس انداز میں لکھے گئے تھے کہ اس سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا ان طریقوں کے ذریعے براہِ راست اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جا رہی ہے لیکن یہاں لکھے گئے طریقوں اور الفاظ کے معنی جاننے والےافراد ہی اس بات کا علم رکھتے تھے کہ ان الفاظ اور جملوں کا کیا مطلب تھا۔ اگرچہ اب اس قسم کی دیگر بہت سی باتیں اس کتاب سے حذف کی جا چکی ہیں لیکن اس سلسلے میں اصلی کتاب میں لکھے گئے ایک طریقے کے مطابق کس طرح انسان اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ سکتا تھا، کتاب میں بنائے گئے خاکوں کے درمیان آیات قرآنیہ، انبیاء کرام ؑ کے نام، معروف فرشتوں کے ناموں کے علاوہ بعض اسماء الحسنیٰ بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ ان خاکوں کے نیچے اسے استعمال کرنے کے طریقہ کار کے مطابق اگر انہیں استعمال کیا جائے تو براہِ راست فرشتے اس کی مدد کو پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کا مطلب جاننے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ در حقیقت اس عمل کا تعلق کسی طور پر بھی پرمروجہ روحانی علوم سے نہیں بنتا تھا بلکہ یہاں قرآنی آیات کی بے حرمتی کے ذریعے دراصل شیطانی علوم کا ذکر کیا گیا تھا۔ عرب بلاگز پر اس کتاب کے سلسلے میں پائی جانے والی معلومات کے مطابق اُس ایک شخص کا قصہ خاصہ مشہور ہے جس کی جانب سے اس کتاب کے بعض ایسے حصوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو علماء کی جانب سے مشکوک ٹھہرے تھے۔ اس کی پاداش میں مذکورہ شخص کو کئی سال تک در در کی ٹھوکریں کھانا پڑی تھیں۔
الوطنیہ کے مطابق اگرچہ زمانہ قدیم سے تعلق ہونے کی بنا پر مذکورہ شخص کا پورا نام و نسب تو ریکارڈ کا حصہ نہیں رہا البتہ وہ اپنے لقب ’’الساعی‘‘سے خاصا مشہوررہا ہے۔ اساعی کا تعلق یمن کے قدیم علاقے عدن سے تھا اور وہ یہاں دسویں صدی ہجری کے بعد واقع ہوا۔ تاریخی حوالوں سے الساعی کے لقب سے مشہور اس شخص کی جانب سے ابتدا میں جب اس کتاب کے بعض ایسے حصوں کو حاصل کر کے ان پر عمل کی کوشش کی گئی تھی جو کافی مشکوک ہونے کے علاوہ متروک ہو گئے تھے تو اسے پہلے پہل جنات کی جانب اس کام سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ الساعی کا تعلق روحانی عملیات سے کسی حد تک رہا تھا، اس لئے وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ تھا کہ جنات کی جانب سے اسے اس کام سے روکنے کے لئے کس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی جانب سے ابتدا میں ہی کچھ اسیے اعمال کر لئے گئے تھے جس کی بنا پر جنات اس تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ غالباً یہ حصار تھا یا اسی قسم کی کوئی اور چیز۔ الساعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا شاطر تھا کہ اس کی جانب سے جنات سے بچاؤ کے تمام تر طریقے اختیار کئے گئے تھے، اسی وجہ سے وہ چند قوی الجثہ جنات کو قابو کرنے کے آخری مرحلے تک پہنچ چکا تھا لیکن یہاں پر جنات نے اسے مات دے دی۔ کئی برسوں تک غائب دماغی کی کیفیت سے گزرنے کے بعد جب اسے واپس ہوش آیا تھا تو اس کی جانب سے بتائی جانے والی تفصیل سے ہی یہ معلوم ہو سکا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ یہ بات آج تک کوئی جاننے سے قاصر ہے کہ الساعی پر ہونے والے جناتی اثر کا توڑ کیا تھا اور کس نے کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ الساعی اپنے حواس میں آنے کے بعد خود بھی یہ بھول چکا تھا کہ اس نے کون سا علم اختیارکیا تھا جبکہ وہ ماضی میں اپنی جانب سے اختیار کئے جانے والے دیگر عملیات کے بارے میں بھی کچھ معلومات نہیں رکھتا تھا۔ خیرت انگیز طور اسے اپنی ماضی کی ساری زندگی میں سے صرف وہی عمل تمام تر تفصیلات کے ساتھ یاد تھا جس میں اسے جنات نے نشانہ بنایا تھا۔ شاید جنات نے اس کے دماغ سے تمام تر معلومات محو کر دی تھیں اور عبرت کے طور پر اسے اس واقعے کو یاد رکھنے دیا تھا۔ بہرحال الساعی سے ملنے والی معلومات کے مطابق، جنات کو قابو کرنے کے آخری مرحلے میں اسے پاک صاف ہو کر قبرستان کے ایک خاص مقام پر پہنچ کر چلہ کاٹنا تھا۔ یہی بات الساعی کو لے ڈوبی کیونکہ وہ رات کے وقت جب قبرستان پہنچا تو وہاں شدید اندھیرا چھایاہوا تھا۔ اگرچہ الساعی قبرستان میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا تھالیکن ایک مقام پر وہ ایک ایسی قبر پر اپنا قدم جما بیٹھا جو اگرچہ زیادہ پرانی تو نہ تھی لیکن اس کا وزن سہارنے کے قابل نہ تھی۔ الساعی کے اس قبر میں گرتے ہی اس کا بدن ناپاک ہو گیا تھا کیونکہ قبر میں لاش گلی سڑی حالت میں موجود تھی۔ یہی وہ موقع تھا جو جنات کے لئے انتہائی کار گر ثابت ہوا اور انہوں نے براہِ راست الساعی کے دماغ پر اثر ڈالا تھا۔ الساعی کا بیان ہے کہ قبر میں گرنے تک کے تمام واقعات اسے اچھی طرح یاد ہیں۔ اسے یہاں تک بھی یاد ہے کہ قبر یں گرنےکے اس کے سر پر کسی نے انتہائی بھاری پتھر یا کائی دھاتی چیز ماری تھی جس کے بعد اسے ہوش نہ رہا تھا۔ دراصل یہ کوئی بھاری پتھر یا کوئی دھاتی شے نہ تھی بلکہ جنات نے الساعی کے دماغ پر حملہ کیا تھا جس کی بنا پر الساعی اسی قبر میں پڑا رہا تھا۔ صبح قرب و جوار سے گزرنے والے لوگوں نے اسے قبر میں گلے سڑے مردے کے ساتھ بے ہوشی کی حالت میں اسے کیڑوں کی خوراک بنتے دیکھاتو وہ اسے نکال کر باہر لے آئے تھے۔ چونکہ الساعی نے اپنے عمل کے لئے اپنے علاقے سے دور ایک قبرستان کا رخ کیا تھا، اس لئے یہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اگلے قریباً دس سال تک الساعی اس علاقے میں اِدھر اُدھر بے مقصد دیوانہ وار پھرتا رہا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں الساعی (کوشش کرنے والا) مشہور ہو گیا۔ دس سال بعد ایک دن اچانک ہی اپنی دیوانگی اور حالت غیر سے دوبارہ صحیح ہونے والے الساعی نے جب لوگوں کو اپنے قصہ کے بارے میں بتایا تو پہلےتو کسی کی جانب سے اس پر اعتبار ہی نہیں کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں علماء اور روحانی علوم میں شُد بُد رکھنے والے حضرات کی جناب سے الساعی کی باتوں کی تصدیق کے بعد وہ لوگوں میں خاصا مشہور ہو گیا تھا۔اپنی ماضی کی شخصیت اور اپنے اوپر گزرنے والے حالات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں الساعی نے عبادت، زہد و تقویٰ اختیار کر لیا تھا۔ وہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں جی سکا اور چند سال بعد ہی اس دنیا سے چل بسا۔
محترم قارائین! آج بھی الشمس المعارف الکبریٰ کے نام سے عملیات کی کتب موجود ہیں جن کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے مگر یہ وہ کتاب نہیں ہے جو احمد بن علی البونی نے قلم بندکی تھی۔ بلکہ اس نام کو استعمال کر تے ہوئے مختلف عامل حضرات اپنی کتاب کا نام الشمس المعارف الکبریٰ رکھ دیتے ہیں اور مصنف کا نام احمد بن علی البونی لکھتے ہوئے خود کو مترجم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں