کابل میں پاکستانی سفارتی مشن پر حملہ

کابل میں آج جمعہ دو دسمبر کو پاکستان کے سفارتی عملے پر فائرنگ کی گئی۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق فائرنگ اُس وقت کی گئی جب ناظم الامور عبیدالرحمان نظامانی چہل قدمی کر رہے تھے۔ وہ خود محفوظ رہے مگر ان کے ایک گارڈ کو گولی لگی اور وہ زخمی ہو گیا۔ دریں اثناء وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں تحریر کیا، ” میں اس گھناؤنے فعل کے مرتکب افراد کے خلاف فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘  گرچہ پاکستان نے اب تک افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، لیکن اس نے کابل میں اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا۔ یہاں تک کہ جب  گزشتہ سال اگست میں سخت گیر موقف والے طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھالا، پاکستان نے وہاں اپنا ایک مکمل سفارتی مشن برقرار رکھا۔

  سفارت خانے کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اکیلا حملہ آور سفارتی دفتر کے احاطہ کے پیچھے سے آیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا، ”سفیر اور دیگر تمام عملہ محفوظ ہیں لیکن ہم احتیاط کے طور پر سفارت خانے کی عمارت سے باہر نہیں جا رہے ہیں۔‘‘ دریں اثناء افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ‘اس ناکام حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کی ابتدائی خبروں کے مطابق سفارتی مشن پر گولیاں ایک قریبی عمارت سے چلائی گئیں۔ جمعہ کوکابل میں گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کے دفتر کے قریب بھی حملہ ہوا لیکن تمام سینیئر رہنما محفوظ رہے۔  حزب اسلامی جماعت نے ایک بیان میں کہا کہ متعدد حملہ آور مارے گئے اور کئی محافظ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان حزب اسلامی کے تین ذرائع اور حکمران طالبان کے ذرائع  کی طرف سے دیا گیا ہے۔ تاہم اس پر تبصرے  کی درخواستوں کے باوجود کابل پولیس اور وزارت داخلہ نے فوری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ یہ امر فوری طور پر واضح نہیں کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔یہ واقعہ اسی دن پیش آیا جب پاکستانی وزیر اعظم نے پاکستانی سفارتی عملے خاص طور سے پاکستانی ناظم الامور پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔ طالبان حکام نے اس حملے پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں