ٹوئٹر پر ان اکاؤنٹس کو بلیو ٹک مارک دیا جاتا ہے، جن کی پلیٹ فارم تصدیق کرتا ہے۔

بلیو ٹک کے لیے پہلے ٹوئٹر کو درخواست دینا پڑتی تھی اور ٹوئٹر تصدیق کے لیے کچھ چیزیں مانگتا تھا، جس کے بعد فالوورز کی تعداد کو دیکھے بغیر اکاؤنٹس کی تصدیق کرکے انہیں بلیو ٹک فراہم کردیا جاتا تھا۔ تاہم اب ایلون مسک نے اس طریقے کو تبدیل کرکے پیسوں کے عوض بلیو ٹک دینے کی سروس متعارف کرادی ہے جو تیزی سے دنیا کے مختلف ممالک میں شروع کی جا رہی ہے۔ ٹوئٹر بلیو نامی مذکورہ سروس کے تحت عام صارفین کو ماہانہ 8 ڈالر فیس کے عوض بلیو ٹک فراہم کیا جائے گا جب کہ ایپل کی ڈیوائسز پر ٹوئٹر کو استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ 11 ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔ اسی فیچر کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر اب کاروباری اداروں کو ’گولڈن ٹک‘ جب کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور حکومتوں کے اکاؤنٹس کو ’گرے ٹک‘ دیا جائے گا۔ تاہم عام صارفین اور شخصیات کو پرانا ’بلیو ٹک‘ ہی دیا جائے گا اور اسی سلسلے کے تحت پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کاروباری اداروں اور حکومتی اکاؤنٹس کے ’ٹک‘ تبدیل کرنے کا آغاز کردیا گیا۔ تاہم ان سب باتوں سے اہم بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے پہلے سے ہی تصدیق شدہ اکاؤنٹس کا بلیو ٹک چند ماہ میں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

ایلون مسک نے ایک صارف کی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے تصدیق کی کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ان تمام اکاؤنٹس سے بلیو ٹک ہٹادیا جائے گا، جنہیں پہلے بلیو ٹک دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے ماضی میں اکاؤنٹس کو بلیو ٹک فراہم کرنے کے طریقے کو غلط اور بے وقوفانہ فیصلہ بھی قرار دیا۔ اگرچہ ایلون مسک نے پہلے سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے بلیو ٹک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان اکاؤنٹس کو دوبارہ بلیو ٹک فراہم کرنے کے لیے کیا طریقہ کار ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں