قرآن پاک کی بے حرمتی ، سویڈن میں حملوں کا خدشہ، حفاظتی اقدامات پر غور

سویڈن کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ سویڈن اور ڈنمارک دونوں میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی کیونکہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات حملوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سویڈش حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا آزادی اظہار کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ نہیں ہے لیکن اگر قومی سلامتی کو واضح خطرہ لاحق ہوا تو وہ ان قوانین تبدیلیوں پر بھی غور کرے گی جو پولیس کو عوامی مقامات پر مقدس کتابوں کو جلانے سے روکنے کی اجازت دیتے ہیں۔
وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سویڈش آزادی اظہار کے لیے کھڑے ہیں۔ سویڈن اور ڈنمارک دونوں نے حالیہ ہفتوں میں ایسے احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں قرآن پاک کے نسخوں کو نذر آتش کیا گیا یا کسی اور طرح سے مقدس اوراق کو نقصان پہنچایا گیا جس سے مسلم ممالک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سویڈش حکومتوں سے تمام مسلم ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرآن پاک کے نسخے جلانے کا سلسلہ بند کریں۔ آزادی اظہار رائے کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے مزید واقعات پیر کے روز پیش آئے جس پر دونوں ممالک کی حکومتوں نے کہا کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قانونی طور پر اس طرح کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ڈنمارک میں پولیس سیکیورٹی اینڈ انٹیلی جنس سروس(پی ای ٹی) کا خیال ہے کہ ان واقعات سے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔
پیر کے روز، 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم نے حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا تھا جہاں اس نے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی تھی۔ اجلاس کے اختتام کے بعد ایک بیان میں اسلامی تعاون تنظیم نے کہا تھا کہ اس نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ جن ممالک میں بے حرمتی کے واقعات پیش آ رہے ہیں وہ ان کے خلاف سیاسی اور اقتصادی سطح پر مناسب کارروائی کریں ۔ ڈنمارک اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر اپنے علیحدہ علیحدہ بیان میں کہا کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔ سویڈش وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ او آئی سی ممالک نے اب متعدد تجاویز اور سفارشات پر مشتمل ایک قرارداد منظور کی ہے، ہم ان کا بغور جائزہ لیں گے اور او آئی سی اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں