جرمن سائنسدانوں نے موت کا وقت جاننے کا دعویٰ کر دیا

’’ارلی وارننگ ریڈار‘‘ کورونا، مرگی اور امراض قلب کے قریب المرگ مریضوں کی باقی ماندہ زندگی کا درست اندازہ لگا سکتا ہے۔ باویریا کے اسپتال میں درجنوں پیشنگوئیاں درست ثابت ہو چکیں۔ جرمن سائنسدانوں کا ددعویٰ

جرمن ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں ایجاد کردہ ’’ارلی وارننگ ریڈار سسٹم‘‘ سے مرگی، کورونا اور امراض قلب کے قریب المرگ مریضوں کی موت کا درست اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن ماہرین فالج یا دل کے دورے کے پیشگی انتباہ کے لیے بھی جدید ترین وائرلیس ریڈار سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ریڈار تشویشناک حالت کے مریضوں کی موت کا دو سے چار روز پہلے ہی درست اندازہ لگا سکتا ہے۔ جرمن طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس ریڈار نظام کی مدد سے درجنوں مریضوں کی اموات کی درست پیش گوئیاں کی جا چکی ہیں۔ مریض کے دوران خون سمیت دل کی کارکردگی جانچنے والے اس نظام کو باویریا کے ایک اسپتال میں کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے اور درجنوں مریضوں کی اموات کی درست پیش گوئی کی جا چکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن محقق الیگزنڈر کولپن اور ان کی ٹیم نے ایسا ریڈار سسٹم ایجاد کیا ہے جو سنسرز کی مدد سے خصوصاً امراض قلب میں مبتلا افراد کی دل کی کارکردگی کا ڈیجیٹل ڈیٹا مرتب کرتا ہے اور مریض کو پڑنے والے دورے کی شدت اور اس کے مضر اثرات کا جائزہ لے کر کمپیوٹر کی مدد سے پیشگوئی کرتا ہے کہ یہ مریض کب تک زندہ رہے گا اور اس کی موت کب تک ممکن ہے؟ ڈیجیٹل ریڈار کی افادیت اور کارکردگی کے بارے میں جرمن پروفیسر الیگزینڈر نے بتایا کہ طبی مقاصد کے لیے ایسے ریڈار کے استعمال کا خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ زلزلے سے ملبے میں دفن ہو جانے والے افراد کو ان کی سانس اور دھڑکن کے شواہد سے ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ریڈار ٹیکنالوجی کو ماضی میں محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب اس ٹیکنالوجی کو مزید نکھار کر دل کے امراض اور دیگر مہلک امراض کے شکار افراد کی زندگیوں کے بارے میں پیش گوئی کی جا رہی ہے ۔ جرمن شہر ہمبرگ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پروفیسر الیگزینڈر کولپن نے کہا ہے کہ ریڈڈیو سینسرز طبی معائنے کو زیادہ آسان، محفوظ اور زیادہ موثر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ہائی فریکوئنسی ؁ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ میں ان کی ٹیم نے انتہائی حساس سینسرز تیار کیے ہیں۔ ان سے مریضوں کی دل کی دھڑکن اور سانس، دونوں کا مسلسل تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ مریض کے اندر کس قدر طاقت باقی بچی ہے۔ ڈاکٹر الیگزینڈر کا استدلال ہے کہ سمندروںمیں تیرتے جہاز کے مقام کا تعین، ہوائی جہاز کی اونچائی کا اندازہ اور ہائی وے پر تیز رفتاری سے دوڑنے والی گاڑیوں کو ٹریس کرنے کے لیے ریڈار کا استعمال کیا جاسکتا ہے تو یقیناً اس ٹیکنالوجی کو میڈیکل کے شعبے میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدوں سمیت فارم ہاؤسز کی حفاظت کے لیے بھی اس سینسر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جرمن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ایجاد کردہ سینسرز برقی مقناطیسی لہروں کا اخراج کرتے ہیں، اس سے جسم میں رفلکشن پیدا ہوتی ہے۔ یعنی شریانوں میں بہنے والا خون لہروں کی طرح گردش کرتا ہے،جو وائبریشن کی طرح اس سینسر میں محسوس ہوتا ہے۔ ہم سینسر سے اس کی پیمائش کرتے ہیں اور اس طرح قلبی نظام کے مختلف طبی پہلوؤں کا تعین کرتے ہیں کہ مریض کی کیفیت اس وقت کیا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید ریڈار مشین، الیکٹرو کارڈیو گرام کی طرح دل کی دھڑکن کی تعین الیکٹروڈز اور کیبلز کی مدد سے کرتی ہے۔ یہ سینسرز انتہائی نگہداشت وارڈز میں مریضوں کا معائنہ کرنے ولے آلات سے ،منسلک ہوتے ہیں۔ ریڈار ٹیکنالوجی سے مریض کے ایک ایک منٹ کا تجزیاتی ڈیٹا تیار کیا جاتا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق پروفیسر الیگزینڈر کا کہنا ہے اس ڈیجیٹل سینسر کا استعمال کر کے ہم بنیادی طور پر مرگی کے دوروں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ میڈیکل ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ مرگی کی بیماری بچوں میں ہونے والی بیس فیصد اچانک اموات کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ پروفیسر کولپن کہتے ہیں کہ نوزائیدہ بچوں میں مرگی کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے اندر دماغی سطح میں تبدیلی ظاہر نہیں ہو سکتی۔ ان کے برین کی موٹر ابھی پوری طرح شعوری تبدیلی کی سطح کو نہیں پہنچی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا علاج مشکل ہوتا ہے اور بچوں کی اچانک اموات رونما ہو سکتی ہے۔ سینسرز کے استعمال سے بچوں کی نقل وحرکت کو محدود کیے بغیر دور سے بھی ان کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور کسی بھی مریض بچے میں مرگی کے دورے پڑنے کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اس کا بروقت علاج بھی ممکن ہے۔ دوسری جانب COVID-19 کے مریضوں کے لیے بھی ریڈار ٹیکنالوجی کا استعمال مفید ثابت ہوا ہے۔ پروفیسر الیگزینڈر کورونا وبا پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بھی شامل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے دوران دل اور سانس کی حرکت کی پیمائش کے ساتھ ساتھ دور سے سے درجہ حرارت کی پیمائش بھی کی گئی ہے۔ یہ طریقہ کار کامیاب رہا اور ہم ریڈار کے ذریعے کورونا وائرس کے کسی مریض انفیکشن کی شدت کا اندازہ دور سے لگا سکتے ہیں۔ اس طرح طبی عملے ے اراکین انفیکشن سے محفوظ رہتے ہیں اور کورونا کے مریض کا معائنہ بھی کامیابی سے ہو جاتا ہے۔ اس ریڈار نظام کو جرمن صوبے باویریا کے شہر لانگن میں واقع ایک اسپتال کے ’’پیلی ایٹو کیئر وارڈ‘‘ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ محقق ٹیم کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹرز کو اس سینسر کی مدد سے علم ہو جاتا ہے کہ مریض کی ممکنہ موت کا وقت کیا ہو سکتا ہے، تو ان کے لواحقین کو مطلع کر دیا جاتا ہے کہ مریض سے الوداعی ملاقات کر لی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں