شوگر سے 45 منٹ میں چھٹکارا ممکن ہو گیا

ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے معدے میں ٹیوب کے ذریعے لبلبہ کا نظام متحرک کیا جاتا ہے۔ قدرتی طریقے سے انسولین بننا شروع ہو جاتی ہے۔سینکڑوں مریض شفایاب۔

برطانوی و عالمی طبی محققین نے صرف پینتالیس منٹ میں شوگر کا مرض ختم کرنا ممکن بنا لیا ہے۔ برطانوی جریدے ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق شوگر کے علاج کی تلاش میں مشغول طبی محققین نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں پر ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا ہے، جس میں مریض کو کوئی دوا یا انجکشن نہیں لگایا گیا۔ اس طریقہ علاج میں مریض کے گلے کے اندر لمبی ٹیوب میں چھوٹے غبارے ڈال کر معدے کے اندر ڈیوڈینم یا کرہنی کی جھلی کو متحرک اور اس کے دیواری خلیات کو فعال کیا جاتا ہے۔ گرم پانی کی مدد سے معدے میں لبلبہ کے خلیوں کو سگنل بھیجے جاتے ہیں کہ وہ قدرتی انسولین خارج کرے۔ اس تکنیک سے اب تک 350 سے زائد ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کو صحت یاب کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام مریض اب انسولین یا شوگر کنٹرول کرنے کے لیے دواؤں کا استعمال نہیں کر رہے۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق لندن میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک الیکٹریکل انجینئر کورنٹوبرگ کا علاج کامیابی سے کیا گیا۔ جو 1998ء سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار تھا۔ماہرین اس ضمن میں مزید سینکڑوں مریضوں کا کلینیکل ٹرائل کر رہے ہیں اور کافی پر امید ہیں کہ اس طریقہ علاج سے دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں اموات کا سبب بننے والی اس بیماری کو ختم کیا جا سکے گا۔ اس وقت برطانوی طبّی محققین بین الاقوامی سطح پر اس طریقہ علاج کے کلینیکل ٹرائل پر کام کر رہے ہیں۔ جس کے بعد ذیابیطس کے مریض روزانہ انسولین کے انجکشن لگانے اور گولیاں کھانے سے محفوظ رہیں گے۔ اس ترکیب کے مطابق سائنس دان ایک جدید تکنیک استعمال کر رہے ہیں جس میں ذیابیطس کے مریض کے گلے کے اندر لمبی اور پتلی ٹیوب میں چھوٹے غبارے ڈال کر ڈیوینم (گرہنی) کی جھلی کو دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے۔ جب کیمرے اور غبارے معدے تک پہنچا دئیے جاتے ہیں تو اس کے بعد اس میں مخصوص مقدار میں بتدریج گرم پانی داخل کیا جاتا ہے۔ جس کا درجہ حرارت 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ گرم پانی مریض کے معدے تک پہنچ کر چھوٹی آنت والے خلیات کو وقفہ وقفہ سے مناسب سگنل بھیجتا ہے جو لبلبہ کو انسولین چھوڑنے کی ہدایت دیتا ہے اور اس کے اخراج پر جسم میں قدرتی انسولین کے انجذاب کو یقینی بناتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ڈیوڈینم کے دیواری خلیات انسولین اور مفید ہارمونز کو جسم میں جذب کرنے کے لیے سگنل دیتے ہیں۔ جب یہ کمزور، موٹے یا خراب ہو جائیں تو لبلبہ سے نکلنے والی انسولین کو سگنل نہیں دیتے۔ اس لئے مریض ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس علاج کی تکنیک کے نتیجے میں ڈیوڈینم کے تلف شدہ خلیات اور چربی ختم ہو جائے گی اور دو دن کے اندر انسولین کا اخراج کرنے والے دیواری خلیات نئے سرے سے پیدائش کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ تین ماہ کے اندر مریض کے جسم میں نئے فعال خلیات وجود میں آ کر مکمل کارگزار ہو جاتے ہیں اور جسم لبلبے سے اخراج ہونے والی انسولین کو جذب بھی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عام طور پر وہ خلیات جو ڈیوڈینم کے گرد جمع ہو جاتے ہیں وہ بلڈ اور ذیابیطس کی سطح کو کنٹرول کرنے میں سگنل کا کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ان خلیات کی مدد سے یہ معلوم کرنا ممکن ہوتا ہے کہ انسولین سمیت ہارمونز کس حد تک خارج ہو رہے ہیں اور جسم میں شوگر کو کنٹرول اور خلیوں میں جذب کرنے میں مدد مل رہی ہے یا نہیں؟ محققین کا کہنا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ ان کی ڈیوڈینم دیواریں موٹی ہو جاتی ہیں اور سگنل منتقل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں جو انسولین کی جسم میں جذب ہونے میں مدد نہیں کرتیں۔ اس نئی تکنیک پر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی کلینیکل ٹرائل جاری ہیں۔ تحقیق کاروں نے مزید سینکروں مریضوں کو شارٹ لسٹ کیا ہے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔ کلینیکل ٹرائل میں شامل ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج میں ان کو محض پینتالیس منٹ کا وقت لگا ہے اور حیرت انگیز طور پر مریض کے جسم سے انسولین کی مقدار نکلنی اور جسم میں جذب ہونی شروع ہو گئی۔ خون میں شکر کی مقدار نارمل رہی اور مریض کو صرف دو دن تک اپنی نگرانی میں رکھ کر اس کو مکمل صحت یابی کی نوید سنا دی گئی۔ عالمی تحقیقی مطالعے سے علم ہوا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے پانچ میں سے ایک مریض انسولین کا انجکشن لیتا ہے اور باقی چار مریض شوگر کنٹرول کرنے کے لیے گولیاں کھاتے ہیں۔ انسولین کا انجکشن ذیابیطس کے مریضوں کے وزن میں نا صرف اضافہ کرتا ہے بلکہ دیگر تکالیف کا باعث بھی بنتا ہے۔ نئے طریقہ علاج کے حوالے سے 76 فیصد رزلٹ انتہائی حوصلہ افزا اور اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے ضامن ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کو انجام دینے کے بعد انسولین لینے کے عمل کو بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور مریضوں کو شوگر کنٹرول کی ادویات کھانے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ ٹرائل میں شریک ڈاکٹر سوسزن میرنگ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے علاج میں یہ نیا تجربہ ہے۔ ڈاکٹر سوسزن نے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ مریضوں پر یہ تجربہ کرنے اور اسے عالمی طریقہ علاج کے پروگرام میں شامل کرنے کی حمایت کی ہے۔ تحقیق میں شامل معالجوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا طریقہ کار جس میں انسا نی معدے کے اندر گرم غبارے بھیج کر مردہ یا ناکارہ خلیات کو ختم اور نئے خلیات کی افزائش کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کو کامیابی کے ساتھ ختم کر سکتا ہے۔ ڈچ انجینئر اس ٹیکنالوجی سے صحت یاب ہونے والے اولین مریضوں میں سے ایک ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں الیکٹریکل انجینئر کورنٹوبرگ کا کہنا تھا کہ میں ایک نئی زندگی کی شروعات کر رہا ہوں۔ اب خون میں شکر کی صحت مند سطح ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ مجھے اپناآپ بالکل نیا نیا لگتا ہے۔ لندن کے امپیریل کالج کے ڈاکٹر ایلکس میرس نے کہا ہے کہ یہ ایک انقلابی علاج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت یورپی ممالک سمیت امریکا میں اگلے ماہ 35 شہروں کے اسپتالوں میں زیابیطس کے مریضوں کا علاج کرنے کا منصوبہ طے کر لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں