عدالت متعلقہ اتھارٹی کو مزید آڈیو جاری کرنے سے رکنے کا حکم دے عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ سابق وزیراعظم کی متعدد آڈیوز لیک منظر عام پر آئی تھیں جس میں وہ مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں اور پرنسپل سیکریٹری کے ساتھ امریکی سائفر سے متعلق حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے بات چیت کرتے سنے گئے تھے۔سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ، وفاقی وزارت دفاع اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آڈیو لیک کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے اور عدالت حکومت اور متعلقہ اتھارٹی کو مزید آڈیو جاری کرنے سے رکنے کا حکم دے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ آڈیو لیکس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے اور ‏وزیر اعظم ہاؤس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سابق وزیراعظم کے علاوہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ دفتر وزیراعظم میں گفتگو کی آڈیوز بھی منظر عام پر آئی تھیں۔ مذکورہ آڈیوز کی تحقیقات کے لیے حکومت نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے مطابق اس فعل میں پی ایم آفس کے عملے کے اراکین ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں