بنگلہ دیش میں سمندری طوفان سے 9 افراد ہلاک۔۔۔ لاکھوں بے گھر

بنگلہ دیش میں طاقتور سمندری طوفان ’سِترنگ‘ نے تباہی مچا دی جس کے باعث 9 افراد ہلاک جبکہ لاکھوں شہری اپنے گھروں سے انخلا کرنے پر مجبور ہوئے۔  غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ مطابق طوفان، جو اٹلانٹک میں سمندری طوفان اور پیسیفک میں آندھی کے مساوی ہیں، کے خطرات موجود رہتے ہیں لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے صورتحال مزید شدید اور تشویش ناک ہوسکتی ہے۔

شمالی خلیج بنگال سے اٹھنے والے طوفان ’سترنگ‘ بنگلہ دیش کے جنوبی علاقوں سے ٹکرایا لیکن طوفان کے ٹکرانے سے پہلے حکام لاکھوں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔ حکومتی عہدیدار جیبن نہر نے کہ ’شدید بارشوں اور طوفان سے 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مشرقی ضلع کمیلا میں درخت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق ہوئے۔‘

وزارت ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے سیکریٹری قمرالاحسن نے بتایا کہ دوردراز جزیرہ اور دریا کے کنارے رہنے والے نشیبی علاقوں سے کئی افراد کو کثیرالمنزلہ پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد نے پناہ گاہوں میں رات گزاری۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ وہ افراد جو اپنے گھروں سے انخلا کرنے پر رضامند نہیں تھے ان کو پولیس نے زبردستی گھروں سے منتقل کیا۔

بنگلہ دیش میں شدید بارشوں کے بعد کئی شہروں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جن میں ڈھاکا، کُھلنا اور باریسل شامل ہیں، ان شہروں میں 324 ملی میٹر (13 انچ) بارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام کا کہنا تھا کہ میانمار کے 33 ہزار روہنگیا مہاجرین کو، جنہیں متنازع طور پر خلیج بنگال میں واقع طوفان زدہ جزیرے پر منتقل کیا گیا تھا، صورتحال بہتر ہونے تک گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں، اسی دوران کسی بھی جانے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال سے ہزاروں لوگوں کو ایک سو سے زائد امدادی مراکز میں منتقل کیا گیا، اسی دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واضح رہے کہ 2020 میں خیلج بنگال میں اب تک کے دوسرے طاقتور طوفان ’امفان‘ نے بھارت اور بنگلہ دیش میں تباہی مچا دی تھی، جس کے باعث 100 سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ حالیہ برسوں میں موسم کی بہتر پیش گوئی اور انخلا کی مؤثر منصوبہ بندی کے تحت طوفان سے کم ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں ہیں۔ یاد رہے کہ 1970 میں بدترین طوفان ریکارڈ کیا گیا تھا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں