6 فلسطینی جاں بحق ..اسرائیلی فورسز کے مغربی کنارے میں حملے

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تقریباً 6 فلسطینی جاں بحق اور 19 زخمی ہو گئے۔ خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ہلاکتیں آج صبح ہوئیں جب بڑی تعداد میں اسرائیلی فوج نے نابلس شہر پر دھاوا بول دیا جہاں ان کا فلسطینی سیکیورٹی فورسز اور مسلح جنگجوؤں سے سامنا ہوا۔ اسرائیلی فورسز نے اس کارروائی کا مقصد فلسطینی جنگجوؤں کے نئے اتحاد ’عرین الاسود‘ کو نشانہ بنانا قرار دیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم یائر لیپڈ نے کہا ہے کہ نابلس شہر میں ہلاک ہونے والوں میں ودیع الحوح نامی عسکری لیڈر بھی شامل تھا جو فلسطینی جنگجوؤں کے نئے اتحاد ’عرین الاسود‘ کا سربراہ تھا۔ قبل ازیں فلسطین کی وزارت صحت نے 3 افراد کے جاں بحق ہونے جبکہ 19 کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، بعدازاں مزید 2 فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق چھاپے کے دوران احتجاجاً پتھراؤ کرنے والے چھٹے فلسطینی کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اسرائیلی فورسزز کا مؤقف ہے کہ انہوں نے پولیس اور انٹیلیجنس اہلکاروں کی مدد سے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو فلسطینی جنگجگو گروپ ’عرین الاسود‘ کے زیر استعمال تھے، انہوں نے ان ٹھکانوں کو عسکریت پسندوں کا ’ہیڈ کوارٹر اور ہتھیار بنانے کی ورکشاپ‘ قرار دیا۔ اسرائیلی فورسزز کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فورسز نے دھماکہ خیز مواد بنانے والی جگہ کو دھماکے سے اڑا دیا، کارروائی کے دوران متعدد مسلح مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا گیا‘ تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ 1967 میں اسرائیل نے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور حالیہ چند ماہ سے مغربی کنارے کے شمالی علاقوں بالخصوص نابلس اور جنین میں شدید جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس کے آغاز کے بعد سے اب تک جنگجوؤں سمیت 100 سے زائد فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں، یہ مغربی کنارے میں گزشتہ 7 برسوں میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں