اسٹیبلشمنٹ کا متنازع سے آئینی کردار میں منتقل ہونا پاکستان کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے تین نسلوں سے اس کے لیے جدوجہد کی ہے، منتقلی کی ادارہ جاتی خواہش کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ملک کے اعلیٰ ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس سروس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی غیر معمولی پریس کانفرنس پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہی۔ وزیر خارجہ نے ڈی جی آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو بے مثال اور تاریخی قرار دیا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا گیا کہ ’عمران خان کا جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، سچ آج پوری قوم کے سامنے ہے۔‘

علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان آج ایک پھر قوم کے سامنے بے نقاب ہوگیا اور بے نقاب ہونے کے بعد وہ قومی ناسور کی صورت اختیار کیا گیا ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ عمران خان کی ذہنیت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اور ادارہ اس کے مفادات کے لیے اس کی سیاست کے لیے کام کرے تو ٹھیک اور اس کی تعریفیں ہوں گی لیکن اگر کوئی اس کے مفادات کے خلاف جائے تو پھر وہ چور، ڈاکو، میر جعفر، میر صادق اور غدار بھی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ اس کی ذہنی پستی دیکھیں کہ کس سطح پر جا کر وہ قوم کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہے ہیں۔ قبل ازیں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر معمولی طور پر آئی ایس آئی کے کسی سربراہ نے میڈیا کے سامنے نیوز کانفرنس کی تھی، جن کے ہمراہ پاک فوج کے ترجمان بھی موجود تھے۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے انکشافات سے بھرپور نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ آپ سب مجھے اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہیں، میری ذاتی تصاویر اور تشہیر پر میری پالیسی ایک سال سے واضح ہے جس پر میں اور میری ایجنسی سختی سے پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے اور میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا ہے، لیکن آج کا دن کچھ مختلف ہے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں، جس کے جوان دن رات اس وطن کی خاطر اپنے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان جوانوں کو جھوٹ کی بنیاد پر بلاجواز تحضیک اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا لہٰذا اس ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں خاموش نہیں رہ سکتا، جب ایک جانب سے جھوٹ اتنی روانی سے بولا جائے کہ ملک میں فساد کا خطرہ ہو تو سچ کی طویل خاموشی بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ میر جعفر کہنا، غدار کہنا، نیوٹرل کہنا، جانور کہنا یہ سب اس لیے نہیں ہے کہ میں نے، میرے ادارے نے یا آرمی چیف نے کوئی غداری کی، یہ اس لیے بھی نہیں کہ انہوں نے کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کیا ہے، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ ادارے نے غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کی بھی پیشکش کی گئی، یہ پیشکش میرے سامنے کی گئی، یہ بہت پرکشش پیشکش تھی، لیکن انہوں نے اس بنیادی فیصلے کی وجہ سے یہ پیشکش بھی ٹھکرادی کہ ادارے کو متنازع رول سے ہٹا کر آئینی رول پر لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سپہ سالار غدار ہے اور میرجعفر ہے لیکن آپ ان کو کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کو ساری زندگی اس ملازمت پر رہنا ہے تو رہیں، اگر وہ واقعی آپ کی نظر میں غدار ہیں تو پھر آج بھی ان سے پس پردہ کیوں ملتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں