گورنر اسٹیٹ بینک کی مارکیٹ کو غیر ملکی قرضوں کی بروقت ادائیگی کی یقین دہانی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک تمام غیر ملکی قرضوں کے واجبات کو وقت پر ادا کرے گا۔ (ویب ڈیسک) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک گونگ رنگنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے‘۔ قرضوں میں دیوالیہ ہونے کا خطرہ نومبر 2009 کے بعد اس ہفتے کے اوائل میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جب ملک کا پانچ سالہ کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ (سی ڈی ایس)، خودمختار ڈیفالٹ کے خطرے کے خلاف انشورنس کی ایک قسم، 25 اکتوبر کو تین فیصد سے زیادہ پوائنٹس بڑھ کر 52.8 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو کہ 13 سال کی بلند ترین سطح ہے۔  سی ڈی ایس کی بڑھتی ہوئی سطح پاکستان کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پر سرمایہ کاروں کے کم ہوتے اعتماد کی عکاس ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے ساتھ ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے متعلق حالیہ پیش رفت ایک مثبت پیش رفت ہے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سمیت دیگر کثیر الجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے اضافی رقوم بھی جلد متوقع ہیں، یہ رقوم نہ صرف ہمیں اپنے قرضوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی بہتر بنائیں گے۔ قبل ازیں گورنر جمیل احمد نے روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ (آر ای آئی) کا باضابطہ طور پر آغاز کیا، جو کہ 2020 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعارف کرائے گئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی چھتری کے تحت غیر مقیم پاکستانیوں کو پیش کردہ ایک پروڈکٹ ہے اور انہیں اسٹاک میں ڈیجیٹل طور پر مارکیٹ سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے غیر مقیم پاکستانیوں کو ملکی بینکنگ سسٹم سے جڑنے کا موقع فراہم کیا، 175 ممالک میں پاکستانیوں نے 4 لاکھ 84 ہزار سے زیادہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے اور تقریباً 5 ارب 28 کروڑ ڈالر کی آمد ہوئی۔

اس کے علاوہ روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ اسلامی سرٹیفکیٹس میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اسٹاک ایکسچینج میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری نسبتاً کم ہو گئی ہے اور اس کا حجم صرف ساڑھے 3 کروڑ ڈالر ہے، آر اے آئی کے باضابطہ آغاز سے ایکویٹی مارکیٹ میں مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ عمل کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی امید ہے۔ لانچ کے موقع پر ڈان سے بات کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیف آپریٹنگ آفیسر نادر رحمٰن نے کہا کہ ایکسچینج اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ سرکاری قرضوں کی تجارت کو فروغ دیا جا سکے، چینل پہلے ہی دستیاب ہے لیکن یہ بینکنگ کی سطح پر محدود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں