مندر کے ‘سبزی خور’ مگرمچھ کی آخری رسومات میں سینکڑوں افراد کی شرکت : بھارت

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مندر کے سیکریٹری رام چندرن بھٹ کے مطابق مگرمچھ کا نام بابیہ رکھا گیا تھا جس نے جنوبی ریاست کیرالہ میں تقریباً 80 برس جھیل کے آس پاس چھپ کرسری اننتھ پدمانابھا سوامی نامی مندر کی حفاظت کی۔ رپورٹ کے مطابق مگرمچھ 10 اکتوبر کی صبح جھیل میں مردہ حالت میں پایا گیا، علاقہ مکینوں کا خیال ہے کہ کئی دنوں تک اسے خوراک نہیں دی گئی تھی۔ رام چندرن بھٹ نے بتایا کہ کسراگوڈ میں یہ مندر 3 ہزار سال پرانا ہے اوریہ مگرمچھ کئی صدیوں اس مندر کی حفاظت کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ 1940 میں برطانوی فوج نے ایک مگرمچھ کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، اس کے بعد اسی جھیل میں بابیہ مگرمچھ منظر عام پر آیا، انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مگرمچھ کہاں سے آیا لیکن یہ جھیل غاروں سے ملتی ہے جو اس کے اندر موجود ہیں۔ بابیہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ جھیل کے کنارے بچے جب مگرمچھ کو چھونے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں تووہ ان پر حملہ نہیں کرتا اس کے علاوہ یہ کسی دوسرے جانور یا انسان پر بھی حملہ نہیں کرتا تھا۔ علاقے کے کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ مگر مچھ صرف سبز غذائیں کھاتا تھا لیکن مندر کے سیکریرٹری رام چندران بھٹ نے کہا کہ وہ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ مگرمچھ جھیل میں رہتا تھا اور جھیل میں مچھلیاں بھی ہیں۔ مگرچھ کی موت کے بعد اس کی لاش پر پھول چڑھائے گئے، لوگوں نے ناریل کے پتوں پر مگرمچھ کو رکھا اور مندر کے احاطے میں دفن کردیا۔ بھارتی وزیر برائے زراعت اور کسان شوبھا کرندلاجے نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس مگرمچھ کو گوشت سے پاک غذائیں کھلائی جاتی تھیں اور اسے تمام مصیبت یا بُرائی سے بھی محفوظ رکھا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں