ادھورا میک اَپ

صرف چہرہ ہی کیوں؟ ہاتھ، پاؤں اور گردن پر بھی توجہ دیں۔۔۔
خواتین چہرے کے میک اَپ کے ساتھ جلد کی نگہداشت بھی کریں۔ بیس لگاتے ہوئے چہرے کی رنگت Neckline (گردن) سے ملتی ہو۔

اگر میک اَپ ضرورت کے مطابق کیا جائے تو مصنوعی نہیں لگتا۔ رنگ چاہے گورا ہوسانولا۔۔۔ اگر جلد صاف اور بے داغ ہو تو کم میک اَپ زیادہ اچھا لگتا ہے، لیکن آپ کو خود بھی معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کے چہرے پر کیسا میک اَپ اچھا لگتا ہے؟ اس حوالے سے آئینہ آپ کا بہترین دوست ہے۔ تیار ہونے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے مجموعی تاثر کا جائزہ لیں، اگر پہلی نظر میں آپ کو اپنا آپ اچھا لگے تو سمجھ لیں آپ اچھی لگ رہی ہیں۔ کوشش کریں کہ بیس (Base) لگاتے ہوئے چہرے کا رنگ نیک لائن (Neckline) سے ملتا جلتا ہو۔ اگر ان میں فرق ہو تو چہرے پر کتنا ہی اچھا میک اَپ کیوں نہ ہو، مصنوعی لگتا ہے۔ اس لئے چہرے کا رنگ ’’نیک لائن‘‘ سے گہرا ہو نہ ہلکا۔۔۔ دراصل خواتین میک اَپ کرتے ہوئے صرف چہرے کے سنگھار پر زیادہ زور دیتی ہیں، جو درست نہیں۔اگر جسم کے دیگر حصوں مثلاً ’’نیک لائن‘‘ بازؤوں یا ہاتھوں کا رنگ چہرے کے رنگ سے مختلف لگے تو یقیناً پہلی نظر میں میک اپ بھی اچھا نہیں لگتا، اس لئے سب سے پہلے اپنی جلد کی نگہداشت پر توجہ دیں۔ مثلاً ہمارے ہاں خواتین رنگ گورا کرنے یا داغ دھبے دور کرنے کے لئے چہرے پر تو مختلف کریمیں لگا لیتی ہیں لیکن ہاتھ، بازو، کہنیاں اور پاؤں مکمل طور پر نظر انداز کر دیتی ہیں، اسی لئے ان حصوں کی رنگت چہرے سے مختلف دکھائی دیتی ہے اور پھر میک اَپ کے بعد یہ فرق زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ بہتر ہے جسم کے ان حصوں کی بھی باقاعدگی سے کلینزنگ (Cleansing) کریں اور اگر آپ کا بجٹ اجازت دے تو مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ مینی کیور(Mani Cure) اور پیڈی کیور (Pedi Cure) بھی کروائیں، تا کہ آپ کی جلد صاف رہے۔ بعض خواتین کی کہنیاں کالی ہوتی ہیں، کیوں کہ وہ ان کی صفائی کا خیال نہیں رکھتیں، ایسی خواتین باقاعدگی سے ’’کلینزنگ‘‘ اور ’’اسکرب‘‘ (Scrub) کریں۔ مہینے میں کم از کم ایک بار فل باڈی سپا (Full Body Spa) بھی لے سکتی ہیں تو ضرور لیں، لیکن اگر یہ ممکن نہیں تو گھر پر آئل مساج (Oil Massage) بھی کروا سکتی ہیں۔ مساج سے جلد کی نشو ونما ہوتی ہے اور دورانِ خون بھی مناسب رہتا ہے، جس سے جلد تروتازہ اور پر رونق نظر آتی ہےاور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ باقاعدہ مساج سے آپ کی بڑھتی ہوئی عمر چھپ جاتی ہےاور آپ دیر تک جوان نظر آ سکتی ہیں۔ خواتین میڈیا سے بھی بہت زیادہ متاثر ہیں اور Model, Actresses کی طرح نظر آنا چاہتی ہیں۔ دراصل ٹیلی ویژن پر نظر آنے والی اکثر خواتین کی جلد Camera Lights کی وجہ سے بہت خراب ہوتی ہے، جسے چھپانے کے لئے انہیں Full Body Painting کرنا پڑتی ہے، جب کہ عام زندگی میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ بہتر ہے ایسے پروگرام بھی دکھائے جائیں، جن میں خواتین کو نا صرف چہرے کو سنوارنے کی ترغیب دی جائے، بلکہ جلد کی بہتر نگہداشت کے طریقے بھی بتائے جائیں۔

میک اَپ کرتے ہوئے آئی بروز پر بھی دھیان دیں:

میک اَپ میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر خواتین ’’آئی بروز‘‘ کو نظر انداز کر دیتی ہیں، بعض اوقات تو ’’آئی بروز‘‘ میں فاؤنڈیشن جم جاتی ہے اور میک اَپ عجیب سا لگتا ہے۔ میک اَپ کرتے وقت ’’آئی بروز‘‘ کو ہلکی یا گہری براؤن پنسل سے’’کور‘‘ کرنا ضروری ہے۔ بعض خواتین کی آئی بروز کے بال بہت ہلکے ہوتے ہیں اور وہ اسے بلیک پنسل سے ’’کور‘‘ کر لیتی ہیں، جس سے ان کے چہرے پر پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ ویسے آج کل زیادہ باریک ’’آئی بروز‘‘ کا فیشن نہیں ہے، تاہم آئی بروز کی Shape ناک اور آنکھ کے مطابق ہی ہونی چاہئے۔

میک میں تبدیلی ضروری ہے:

اگر آپ لپ اسٹک کا کوئی مخصوص شیڈ کافی عرصے سے استعمال کر رہی ہیں تو اسے بدل لیں، کیوں کہ تبدیلی سے آپ کی شخصیت میں تازگی اور نکھار آئے گا، یعنی وقتاً فوقتاً اپنے سنگھار کا انداز بدلتی رہاکریں۔ ویسے بھی ایشیائی خواتین کو میک اَپ سوٹ کرتا ہے، اس لئے مختلف تجربے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اگر آپ نے بال ڈائی (Dye) نہیں کئے تو کم از کم ایک بار بالوں کا رنگ ضرور بدلیں اور اگر آپ کو یہ تبدیلی اچھی نہ لگے تو دوبارہ اپنا پرانا انداز اپنا لیں، مگر کچھ ہٹ کے کرنے کی کوشش ضرور کریں۔

بیلنس میک اَپ لُک کے لئے:

ہلکا میک اپ کریں، تا کہ آپ کم عمر نظر آئیں۔
برانڈڈ کاسمیٹکس (Branded Cosmetics) ضرور استعمال کریں، لیکن وہ آپ کی اسکن ٹون (Skin Tone) کے مطابق ہنے چاہئیں۔
ہمیشہ اپنی جلد کی رنگت سے ملتی جلتی شیڈ میں فاؤنڈیشن لگائیں۔
فاؤنڈیشن لگانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ Sponge کی مدد سے بہت کم فاؤنڈیشن لگا کر اچھی طرح Blend کریں تا کہ جلد پر دھبے نہ بنیں۔ Blending جتنی اچھی ہو گی آپ کا میک اپ اتنا ہی شفاف اور ہموار دکھائی دے گا۔ اگر جلد صاف اور بے داغ ہو تو فاؤنڈیشن جلد Blend ہو جاتی ہے لیکن اگر جلد پر داغ دھبے یا لائنیں ہوں توBlending میں دیر لگ سکتی ہے، مگر ایسا نہ ہو کہ آپ Sponge رگڑ رگڑ کر Base ہی اتار دیں۔
چہرے کے نقوش کو ابھارنے کے لئے قدرے Dark Blush On بھی لگا لیں۔
لپ اسٹک (Lipstick) اور آئی شیڈز (Eye Shades) ایسے لیں جو آپ کے قدرتی رنگ پر جچتے ہوں۔ دراصل میک اپ میں رنگوں کا انتخاب بہت اہم ہے اور اچھا میک اپ کرنے کے لئے محض تکنیکی مہارت ہونا کافی نہیں۔ بہتر ہے اپنے اردگرد قدرتی حسن کا مشاہدہ کریں۔ مثلاً مختلف رنگوں کے پھولوں کو غور سے دیکھیں، اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کس رنگ کے ساتھ کون سا شیڈ زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ انٹرنیٹ سے بھی مدد لے سکتی ہیں، تا کہ رنگوں کے امتزاج سے متعلق مہارت حاصل کر سکیں۔
چہرے کو گردن، ہاتھوں اور بازوؤں سے ہم رنگ کرنے کے لئے چہرے کی رنگت سے ملتی جلتی فاؤنڈیشن ہی لگائیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ فاؤنڈیشن خریدتے وقت اسے ہاتھ کے اوپری حصے پر لگا کر چیک کر لیں۔

آئی بروز کی بناوٹ فیس کٹ کی مناسبت سے ہو:

آج کل باریک آئی بروز کا فیشن نہیں، 70 اور 80 کی دہائی کی طرح ’’آئی بروز‘‘ پسند کی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن خواتین کی آئی بروز قدرتی طور پر باریک ہوتی ہیں انہیں بلیک یا براؤن ’’آئی پنسل‘‘ کے استعمال سے فِلنگ کرنا پڑتا ہے۔ دراصل آئی بروز کی بناوٹ سے ہی چہرے کی ساخت کا پتہ چلتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آئی بروز کی بناوٹ فیس کٹ کی مناسبت سے ہو تو چہرے کے خدوخال زیادہ پرکشش نظر آتے ہیں، تاہم فیشن کوئی بھی ہو انداز وہی اپنائیں جو آپ کی شخصیت پر جچتا ہو۔ اگر آپ کا فیس کٹ زیادہ چوڑا نہیں ہے تو موٹی آئی بروز آپ کو اچھی نہیں لگیں گی۔بہتر ہے آئی بروز کی قدرتی بناوٹ کو ہی ترجیح دیں نہ کہ خود سے فلنگ کر کے انہیں گھنا بنانے کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس اگر آپ کا فیس کٹ زیادہ چوڑ ا ہے تو آپ کے چہرے پر گھنی آئی بروز اچھی لگیں گی۔ کوشش کریں کہ آئی بروز کی شیپ احتیاط سے بنوائیں اور زیادہ بال نہ کھنچوائیں۔ یاد رکھیں کہ قدرتی طور پر دونوں آئی بروز کی بناوٹ عموماً ایک جیسی نہیں ہوتی اور ان کہ خوبصورتی کا معیار بھی یہی ہے کہ انہیں برابر نہ کیا جائے۔

گھنی آئی بروز:

پلکنگ کرواتے ہوئے غیر ضروری بال ہی اتاریں، کیوں کہ اگر آپ زیادہ بال کھینچیں گی تو بالوں کی نشوونما کمزور ہو جائے گی اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ بالوں کی نشوونما بالکل ہی ختم ہو جائے گی۔ ویسے تو آئی بروز کی نشوونما بڑھانے کا کوئی قدرتی طریقہ نہیں، البتہ کیسٹر آئل کا استعمال قدرے مفید ہے۔ کیسٹر آئل بالوں کی نشوونما میں اضافہ تو نہیں کر سکتا، تاہم اسے آئی بروز اور پلکوں پر لگانے سے بال نہیں جھڑتے۔ اس کے علاوہ میک اپ کرتے ہوئے برانڈڈ آئی برو پنسل یا آئی برو جیلی استعمال کریں۔ آئی پنسل کا انتخاب کرتے ہوئے خیال رہے کہ نہ تو یہ گہری کالی ہو اور نہ بہت گہرے براؤن شیڈ میں۔ یوں آئی بروز کی بناوٹ سے مصنوعی تاثر واضح نہیں ہو گا۔

آنکھوں کی بناوٹ کا خیال رکھنا:

عام طور پر خواتین جلد اور رنگت کی مناسبت سے ہی میک اپ پروڈکٹس کا انتخاب کرتی ہیں۔ بالکل اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ چہرے کے خدوخال کے مطابق میک اپ کیسا ہونا چاہئے؟ چہرے پر آنکھیں سب سے نمایاں ہوتی ہیں اس لئے ان کا میک اپ کرتے ہوئے ان کی بناوٹ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ بنیادی طور پر آنکھوں کی بناوٹ 6 طرح کی ہوتی ہے مثلاً آمنڈ، ہوڈڈ، مون لٹ، راؤنڈ، اپ ٹرنڈ اور ڈاؤن ٹرنڈ ہمارے ہاں زیادہ تر خواتین کی آنکھوں کی بناوٹ ’’آمنڈ شیپ‘‘ میں ہوتی ہے جنہیں بادامی آنکھیں بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں آئی بروز اور آنکھوں کے پپوٹوں کے درمیان بل ہوتا ہے۔ اگر آپ کی آنکھیں آمنڈ شیپ میں ہیں تو آپ کو ہر طرح کا آئی میک اپ سوٹ کرے گا۔جن خواتین کی کلوزڈ آئیز ہیں (اس میں دونوں آنکھوں کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے) انہیں بہت زیادہ میک اپ سے گریز کرنا چاہئے۔ بہتر ہے آئی میک اپ ایسا ہو کہ دونوں آنکھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ دکھائی دے یعنی میک اپ سے صرف آنکھ کے بیرونی کناروں کو نمایاں کریں لیکن اگر دونوں آنکھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو تو آنکھوں کے اندرونی کونوں پر گہرا میک اپ لگائیں۔ اسی طرح ’’مون لٹ‘‘ یعنی چمکدار اور ’’ہوڈڈ‘‘ یعنی ٹوپی دار آنکھوں پر میک اپ کے لیےزیادہ جگہ نہیں ہوتی، ان کے لئے آپ ’’سنگل آئی شیڈ‘‘ کے ساتھ باریک آئی لائنر بھی لگا لیں گی تو آنکھیں خوشنما دکھائی دیں گی جبکہ گول آنکھوں پر موٹا آئی لائنر زیادہ اچھا لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں