بھارت نے گوگل پر 162 ملین ڈالر کا جرمانہ کر دیا۔

گوگل بازار میں موجود بہت سی کمپنیوں کے ساتھ زبردستی ایسے معاہدے کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گوگل کروم، یوٹیوب، گوگل میپس اور اس جیسی اس کی دیگر ایپس کا استعمال کیا جائے۔

بھارت: (ویب ڈیسک) بھارتی حکام نے ٹیکنالوجی کی معروف امریکی کمپنی گوگل پر مارکیٹ میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے اپنے اینڈرائڈ پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرنے کی وجہ سے ، تقریبا ً 162 ملین ڈالر جو بھارتی کرنسی میں ساڑھے 13 ارب روپے بنتے ہیں کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ بھارت کے سرکاری ادارے ’’دی کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا‘‘ (سی سی آئی) نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر الزام لگایا ہے کہ وہ بازار میں اپنی ایپس کے غلبے کو یقینی بنانے کے لیے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ ’’یک طرفہ معاہدے‘‘ کرتی رہی ہے۔ سی سی آئی نے 20 اکتوبر جمعرات کے روز گوگل کو حکم دیا کہ وہ اپنے اینڈرائڈ پلیٹ فارم کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر فوری طور پر تبدیل کرے۔ سی سی آئی کا کہنا ہے کہ گوگل اپنے اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کے متعدد اسمارٹ فونز، ویب سرچز، براؤزنگ اور ویڈیو ہوسٹنگ سروسز کے لائسنس کا ’’غلط استعمال‘‘ کر رہا ہے۔ گوگل بازار میں موجود بہت سی کمپنیوں کے ساتھ زبردستی ایسے معاہدے کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گوگل کروم، یوٹیوب، گوگل میپس اور اس جیسی اس کی دیگر ایپس کا استعمال کیا جائے۔ بھارتی ادارے نے اس الزام کے تحت گوگل کو اسمارٹ فون بنانے والوں کے ساتھ ریونیو شیئرنگ کے بعض معاہدوں سے بھی روک دیا ہے کہ ان طریقوں سے گوگل نے خاص طور پر اپنی سرچ سروس محفوظ بنانے میں مدد حاصل کی اور اس نے اس کے لیے مسابقتی بازار سے مکمل طور پر الگ ہو کر ایسا کیا۔ گوگل کا یہ طرز عمل مسابقت کو روک رہا تھا، جس سے کمپنی کو صارفین کے ڈیٹا تک مسلسل رسائی ملنے کے ساتھ ہی منافع بخش اشتہارات کے مواقع بھی فراہم ہوتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں