انوکھے سفری قوانین جو سیاحوں کے لیے وبال بن سکتے ہیں

دیار غیر میں سفر کے دوران رقص، تصاویر بنانا یا ثقافتی کلچر کی نقالی سیاحوں کو مجرم بنا دیتی ہے۔ چند ممالک کے قوانین کا احوال

ہم میں سے تقریباً ہر شخص سیر و سیاحت کرنا اور دنیا دیکھنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات ہمارے پاس وسائل ہوتے ہیں تووقت نہیں ہوتا، اور جب وقت ہوتا ہے تو وسائل نہیں ہوتے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی سیاحت کے شوق کو پورا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ وہ مختلف ممالک میں گھومتے پھرتے ہیں اور وہاں کی ثقافت و روایات سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کا بھی سیروسیاحت پر نکلنے کا ارادہ ہے تو یاد رکھیں بعض مقامات پر کچھ چیزوں کو نہایت معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ آپ اگر ان جگہوں پر ان کاموں کو انجام دیں گے تو لوگ اسے بہت برا خیال کریں گے۔ یہ بعض چیزیں بعض اوقات بد تہذیبی کے زمرے میں بھی آتی ہیں اور ایسا کر کے آپ اپنے میزبان کو ناراض بھی کر سکتے ہیں ۔ آج کل چونکہ ویسے بھی سیکورٹی سے متعلق مسائل زیادہ ہیں لہٰذا ملک سے باہر سفر کرتے ہوئے خاص طور پر احتیاط کریں کہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں اور خود کو مشکوک بنا بیٹھیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں چند ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے جوحیران کن ہی نہیں بلکہ ہوش اڑا دینے والی ہیں۔ اگر ان ممالک میں جانے کا موقع ملے تو ان چیزوں سے گریز ہی آپ کے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔

سعودی عرب

اگر آپ سعودی عرب کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خوبصورت مقامات اور رنگارنگ حصوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ موسم گرما کے دوران آپ مختلف سیاحتی پروگرام ترتیب دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ صحرائی سیاحت ک شوق رکھتے ہیں تو سعودی عرب سے بہتر ملک کوئی اور نہیں ملے گا۔ تاہم سعودی عرب میں سفر کرنے کے قوانین موجود ہیں جن کی خلاف ورزی آپ کو جیل پہنچا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سڑک پر رقص کرنے پر پابندی ہے ۔ سیر و تفریح کی غرض سے آنے والے افراد کے لئے یہ بات جاننا نہایت ضروری ہے بصورت دیگر ان کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہاں کرسمس یا دیگر تعطیلات کے دوران سجاوٹ بھی ممنوع ہے۔ سال میں آنے والے تہوار پر اگر آپ سعودی عرب کے کسی شہر میں ہوں تو اس طرح کی غلطی سے گریز کریں ورنہ آپ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی مذہبی تنقید کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں کسی شخص یا پارٹی پر احتجاج کرنے پر پابندی ہے۔ اور نہ آپ اشارے یا علامتی طور پر اپنے فرقے کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس جرم کے ارتکاب پر سیاحوں کو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ شراب نوشی ممنوع ہے، اگر کوئی نشے میں دھت ہو کر سڑک پر پایا گیا تو جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نشہ آور ادویات کی فروخت پر بھی پابندی ہے۔

یوگینڈا

اس ملک میں فوجی لباس اور کیموفلاج پر سخت پابند عائد ہے۔ دیگر ممالک سے آنے والے افراد اس بات کا دھیان نہیں رکھ پاتے یا ان سے لا علم ہوتے ہیں۔ اکثر سیاح فوجی ٹوپی پہن کر آتے ہیں اور پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ منشیات کے استعمال پر پابندی ہے۔ یہاں حساس مقامات پر تصاویر بنانے والے کو قید ہو سکتی ہے۔ جعلی شہریت رکھنے والے یا غیر قانونی طور پر یوگینڈا میں داخل ہونے والوں کو جرمانہ اور قید کر دیا جاتا ہے۔ یہاں نشہ کر کے ڈرائیونگ کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

فرانس

پیرس کو شہر محبت قرار دیا جاتا ہے اور اس کی جان ایفل ٹاور ہے جہاں تصاویر اتارنا سیاحوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت اس کی فوٹوگرافی کمال کی ہوتی ہے۔مگر اب اگر آپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو آپ کو جرمانے کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے کیوں کہ اب پیرس انتظامیہ نے دنیا کے اس مقبول ترین مقام پر رات کو جگمگانے والی روشنیوں کو کاپی رائٹس کے تحت ممنوع قرار دے دیا ہے جن کی تصاویر اتارنا قابل تعزیر جرم ہے۔ سیاح کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فرانس جانے کے دوران انرجی ڈرنکس ساتھ نہ رکھیں کیوں کہ فرانس میں انرجی ڈرنک ’’ریڈ بُل‘‘ پر پابندی ہے اور استعمال کرنے والے کو جرمانہ یا سزا ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ 2008ء میں فرانس میں انرجی ڈرنک میں پائے جانے والے کیمیکل کے صحت پر مضر اثرات کی بناء پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

جاپان

جاپان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے مگر وہاں کے کلبز میں رقص کرنے پر پابندی عائد ہے اور یہ 1948ء میں منظور ہونے والے ایک قانون کے تحت عائد ہوئی تھی جس کا مقصد عوامی اخلاق کا تحفظ ہے اور عوامی مقامات پر ناچنے کا دل کرے تو ایسا خصوصی اجازت نامے کے تحت ہی ممکن ہے ورنہ اس کی خلاف ورزی کافی بھاری پڑ سکتی ہے۔

سنگاپور

چیونگم چبانابیشتر افراد کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے مگر سنگاپور میں ایسا کرنا کافی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں اس کے چبانے تو کیا فروخت تک پر پابندی عائد ہے اور وہاں رہنے والوں کے لیے تو اسے خریدنا ناممکن ہے، اس کا مقصد اس چھوٹے سے ملک کو صاف ستھرا رکھنا ہے۔

جنوبی کوریا

آج کی دنیا میں آن لائن ویڈیو گیمز بہت عام ہیں اور اکثر ممالک میں تو لوگ دن رات اس میں مگن رہتے ہیں مگر جنوبی کوریا میں نصف شب کے بعد ایسا کرنے کی اجازت نہیں خاص طور پر سولہ سال سے کم عمر بچے رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک کسی صورت آن لائن گیمز کا مزہ نہیں لے سکتے جس کا مقصد ان کی تدریسی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔

ایران

ایران میں کافی چیزوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں پابندی ہے تاہم مردوں کے لیے 2010ء میں ایسا پابندی نامہ سامنے آیا ہے جس نے ان کے ہوش اڑا دئیے ہیں، یعنی اپنے بالوں کے انداز یا ہیئر اسٹائل کو ریاستی احکامات کے مطابق ڈھالنا اور اس کے تحت ان پر پونی ٹیل اور اسپائک اسٹائل پر پابندی عائد ہے۔

ملائشیاء

پیلا یا زرد رنگ کافی لوگوں کا پسندیدہ ہوتا ہے مگر ملائشیاء میں اگر کسی کو اس رنگ کا لباس تو چھوڑیں جرابیں، بنیان یہاں تک کہ جوتوں کے تسمے بھی پہننے کا جوش چڑھے تو اسے جیل کی ہوا کھانی پڑ سکتی ہے کیونکہ 2011ء میں ملائشین حکومت نے اس رنگ کے ملبوسات سمیت ہیٹس، رسٹ بینڈز اور بیلٹ غرض کہ ہر چیز پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی وجہ یہ اپوزیشن گروپ کے کارکنوں کا رنگ ہونا تھا۔

شمالی کوریا

شمالی کوریا ایسا ملک ہے جس کے اندرونی حالات کے بارے میں دنیا کو بہت کم معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ وہاں میڈیا پر سخت حکومتی کنٹرول ہے مگر ایک بات ضرور بتائی جا سکتی ہے کہ وہاں نیلے رنگ کی جینز کی پتلون پہننے پر پابندی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت کے خیال میں یہ رنگ امریکی ثقافت کی علامت ہے تو اس کے استعمال کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔

چین

چین ویسے تو ہر میدان میں دنیا کو پیچھے چھوڑتا چلا آ رہا ہے مگر وہاں جس دلچسپ چیز پر پابندی ہے وہ ٹائم ٹریول ہے، جناب یہ وقت کا سفر نہیں بلکہ اس موضوع پر بننے والی فلموں اور ٹی وی شوز ہیں۔ چینی حکام کے خیال میں اس طرح کی فلموں میں دکھائے جانے والے ٹائم ٹریول میں تاریخ کو ردوبدل کر کے دکھایا جاتا ہے تو اس پر پابندی ہی بہتر ہے۔

جنوبی افریقہ

ویسے تو ہر ملک میں سربراہِ مملکت کو سب سے با اختیار شخصیت مانا جاتا ہے اور ان کی رہائش گاہ ایک عوامی پراپرٹی سمجھی جاتی ہے۔ مگر جنوبی افریقی حکومت نے تو اپنے صدر کی رہائش گاہ کی تصاویر اور انہیں عام کرنے پر ہی پابندی عائد کر دی ہے یہاں تک کہ میڈیا کے اداروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔

بولیویا

بولیویامیں ملٹی نیشنل فوڈ کمپنی میکڈونلڈ پر پابندی عائد ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی قانون نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہے۔ درحقیقت وہاں کے رہائشی مانتے ہیں کہ ان کے پکوان تاریخ، محبت، نگہداشت اور عوامی نمائندگی کرتے ہیں اور وہاں کے لوگ اپنے آبائی قوانین کے تحت رہنا پسند کرتے ہیں اور فاسٹ فوڈ ان کے عقائد کے خلاف ہے اسی لیے میکڈونلڈ پر پابندی عائد ہے۔
برونڈیاس ملک کے صدر نے ملک میں جاگنگ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ لوگ اس عادت کو تخریبی سرگرمیوں استعمال کر سکتے ہیں، درحقیقت وہاں تو اپوزیشن گروپس کے متعدد ارکان کو جاگنگ ایونٹس میں شرکت کرنے پر جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ہے۔

برطانیہ

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں مرنے پر پابندی عائد ہے اور تیکنیکی طور پر اس عمارت کے اندر موت کی صورت میں اس فرد کو ریاستی تدفین کا استحقاق حاصل ہو جاتا ہے اور حکومت متعدد افراد کو ریاستی تدفین کا استحقاق دینے کے بالکل حق میں نہیں۔

کینیڈا

بے بی واکرز دنیا بھر میں بچوں کے چلنے کے لیے کافی مقبول ہیں مگر کینیڈا میں اس کے استعمال پر پابندی عائد ہے کیوں کہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ واکرز پر چل پھر کر بڑے ہونے والے بچوں کی ذہنی نشو و نما کافی متاثر ہوتی ہے جس کے پیش نظر حکومت نے بے بی واکرز پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں