ایران نے ہائپر سونک میزائل تیار کرنے کا دعویٰ کردیا

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کے ایرواسپیس یونٹ کے کمانڈر جنرل امیرعلی حاجی زادہ نے کہا کہ ہائپر سونک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایرواسپیس یونٹ کے کمانڈرنے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک ہائپرسونک میزائل تیار کیا ہے جو تمام دفاعی نظاموں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی کمانڈر نے کہا کہ یہ میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے قابل ہوگا اور انہیں یقین ہے کہ اسے روکنے لیے کوئی نظام تیار کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔ ادھرانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران کے اس اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مصر میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی تقریب کے دوران غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے عالمی اٹامک انرجی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے اعلانات ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے توجہ اور تشویش میں اضافہ کرنا ہے مگر اس سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘۔

امریکی اخبار ’وانشنگٹن پوسٹ‘ نے 16اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران روس کو میزائل فراہم کررہا ہے مگر تہران نے اس کو مسترد کرتے ہوئے ’مکمل جھوٹی‘ رپورٹ قرار دیا تھا۔

ایران نے سعودی عرب سمیت اپنے پڑوسیوں کو خبردار کیا ہے کہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران اسے غیر مستحکم کرنے کے اقدامات کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسمٰعیل خطیب نے کہا کہ ’میں سعودی عرب سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری اور خطے کے دیگر ممالک کی راہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے‘۔ اسمٰعیل خطیب نے کہا کہ اگر ایران ان ممالک کو سزا دینے کا فیصلہ کرے تو ان کے شیشے کے محلات گر جائیں گے اور وہ استحکام سے محروم ہو جائیں گے۔

ہائپر سونک میزائل روایتی میزائلوں کی طرح ہے جو جوہری ہتھیاروں سے مقابلے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تیز رفتار سے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کو امریکا کی طرف سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور روس کو یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے متعدد عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔ روس اور ایران دونوں ممالک کو اپنی معیشتوں کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پابندیوں کا سامنا ہے۔ایران پر یہ پابندیاں 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دستبرداری کے بعد عائد ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں