ہمارا صبر و تحمل ختم ہو سکتا ہے: سعودی عرب کو ایران کی واضح دھمکی!

ایران کے انٹیلیجنس وزیر نے سعودی عرب کو متنبہ کیا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان کا ملک صبر و تحمل کی حکمت عملی جاری رکھ سکے گا۔ اور اگر اس نے جوابی اقدام کا فیصلہ کیا تو ’’شیشے کے محلات‘‘ ٹوٹ جائیں گے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ’’فارس ‘‘کے مطابق ایرانی وزیر برائے سراغرسانی اسماعیل خطیب نے سعودی عرب کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایران اب تک صبر و تحمل کی حکمت عملی پر ٹھوس عقلیت کے ساتھ پوری طرح قائم ہے، لیکن اگر مخاصمت کا سلسلہ جاری رہا تو وہ صبر و تحمل کے تسلسل کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔‘‘
ایرانی وزیر نے مزید کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرایران نے ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی اور سزا دینے کی پالیسی اختیار کی تو ’’شیشے کے محلات‘‘ منہدم ہو جائیں گے اور ان ممالک میں کوئی استحکام نظر نہیں آئے گا۔‘‘
اسماعیل خطیب نے سعودی عرب کا نام لیتے ہوئے کہا، ’’سعودی عرب کے معاملے میں، میں کہتا ہوں کہ ہمارے پڑوس کی وجہ سے ہماری اور خطے کے دیگر ممالک کی قسمت ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ ایران کے نقطہ نظر سے خطے کے ممالک میں کوئی بھی عدم استحکام دوسرے ملک میں پھیلا سکتا ہے اور ایران میں کوئی بھی عدم استحکام کا اثر خطے کے دیگر ممالک پر پڑ سکتا ہے۔‘‘
حالیہ دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی ایرانی عہدہ دار نے سعودی قیادت کے حوالے سے”شیشے کے محلات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ چند ہفتے قبل ایران نے سعودی عرب کو بالواسطہ دھمکی دی تھی ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر حسین سلامی نے کہا تھا کہ سعودی رہنماؤں کو اسرائیل پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ سعودی رہنما ’’شیشے کے محلات‘‘ میں رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں