آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت کو احتجاجی خط لکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔سماء نیوز کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت سے قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی خط لکھا۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل کی جانب سے وزیر مملکت مصدق ملک کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ منظور شدہ فارمولے کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوناتھا تاہم حکومت نے پٹرولیم لیوی کے بوجھ کو نظر انداز کرکے قیمتیں کم کیں۔خط میں کہا گیا کہ حکومت نے پٹرول پر 3 روپے 21پیسے فی لیٹر مارجن کم کرایا، اگست سے اب تک 7 ارب 55 کروڑ کا نقصان ہو چکا۔قیمتیں زبردوری برقرار رکھنے سے انڈسٹری پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ یاد رہےکہ  وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا اطلاق 16 نومبر سے 30 نومبر تک ہوگا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحق ڈار نے کہا کہ پندرہ تاریخ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کرنا ہوتا ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کی اجازت سے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے کسی بھی ایٹم کی قیمت نہیں بڑھے گی۔ انہوں کہا کہ پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور کیروسین آئل کی قیمتیں برقرار رہیں گی، 16 نومبر سے 30 نومبر تک وہی قیمتیں ہوں گی ۔ نافذ العمل قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 224 روپے 80 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 235 روپے 30 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 191 روپے 83 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 197 روپے 28 پیسے ہے ۔ اس سے قبل 31 اکتوبر کو بھی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت نے پیٹرول، ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رد بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ  پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں اگلے 15 روز کے لیے برقرار رہیں گی۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ 9 نومبر کو حکومت پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں گورنر اسٹیٹ کی مشاورت سے حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا جس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان سود کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف جو اپیلیں دائر کرچکے ہیں ان کو واپس لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں