سیاسی جنگیں عزت اور وقار کے ساتھ لڑی جانی چاہییں: خواجہ آصف

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف عزت، وقار اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے غیر اخلاقی اور نازیبا الفاظ کے استعمال کے کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ سیالکوٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی مخالفین پستی میں گر چکے ہیں، لیکن انہیں (خواجہ آصف) اور ان جیسے دوسروں کو گالم گلوچ کی سیاست کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام لیے بغیر وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے دوران سٹیج اور سٹیج کے نیچے سے گالم  گلوچ سننے کو ملتی ہے، جو قابل مذمت ہے۔ گالم گلوچ ہماری روایات کا حصہ نہیں ہیں اور نہ یہ چیزیں ہمیں زیب دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین جس پستی میں گر چکے ہیں انہوں نے سیاسی جنگ اس سطح پر جا کر نہیں لڑنی۔ ’ہم اپنی جنگ سیاسی وقار اور عزت کے ساتھ لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور نازیبا الفاظ استعمال نہ کیے جائیں، اور گالم گلوچ کی سیاست کا کلچر ختم ہونا چاہیے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے لوگوں کو ملازمتیں اور مکانات دینے کا وعدے کیے تھے، لیکن اب وہ (عمران خان) وہ اپنی غلطیاں گنوا رہے ہیں۔ جو شخص کہتا ہے کہ نیب ان کے قابو میں نہیں تھا بلکہ اسے جنرل باجوہ کنٹرول کرتے تھے لیکن بتایا جائے کہ خواجہ آصف کو کس نے اور کس کے کہنے پر گرفتار کیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ نہ بن پڑنے پر خواجہ آصف پر آرٹیکل چھ لگا کر غداری کا مقدمہ بنائے جانے کا مشورہ دیا گیا۔ ’یہ کس کی کابینہ میں کیا گیا؟

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے لوگوں کو ملازمتیں اور مکانات دینے کا وعدے کیے تھے، لیکن اب وہ (عمران خان) وہ اپنی غلطیاں گنوا رہے ہیں۔ جو شخص کہتا ہے کہ نیب ان کے قابو میں نہیں تھا بلکہ اسے جنرل باجوہ کنٹرول کرتے تھے لیکن بتایا جائے کہ خواجہ آصف کو کس نے اور کس کے کہنے پر گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ نہ بن پڑنے پر خواجہ آصف پر آرٹیکل چھ لگا کر غداری کا مقدمہ بنائے جانے کا مشورہ دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں