پی ٹی آئی کو ریلی نکالنے کی اجازت مل گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ روات کے مقام سے راولپنڈی داخل ہونے کے لیے پہنچے گا۔پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹویٹ کیا کہ ’آخری مرحلہ آگیا ہے تیار رہیں عمران خان آج پارٹی کارکنان کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دیں گے۔پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی قیادت میں لانگ مارچ کے دونوں قافلے روات کے مقام پر ملیں گے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ روات کے مقام سے راولپنڈی میں داخل ہونے کے لیے پہنچ رہا ہے۔راولپنڈی پولیس نے سکیورٹی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔ضلعی پولیس افسر سید شہزاد ندیم بخاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اس حوالے سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لے رہے ہیں۔ جلسہ گاہ اور گردونواح میں ایلیٹ کمانڈوز اور ڈولفن فورس کی خصوصی ٹیمیں گشت کر رہی ہیں۔ٹریفک کے انتظامات کے لیے ٹریفک پولیس کے 750 افسر و اہلکار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ضلعی پولیس افسر سید شہزاد ندیم بخاری کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور چھتوں پر ماہر نشانہ باز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو کورال سے روات تک ریلی نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اجازت نامہ صرف 19 نومبر کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے رکھی جانے والی شرائط میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ناگہانی واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی انتظامیہ ہو گی۔این او سی صرف کورال، ایکسریس ہائی وے، چک بیلی موڑ اور روات ٹی کراس تک کے لیے ہو گا۔انتظامیہ کی جانب سے یہ پی ٹی آئی کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے کہ عام لوگوں کے بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ جی ٹی روڈ کو کسی بھی جگہ سے بند نہیں کیا جائے گا۔انتظامیہ نے یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوام کی نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیاں ریلی سے متاثر نہیں ہونی چاہییں۔

اسلام آباد انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریلی کے موقع پر اسلحہ اور لاٹھیاں لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔انتظامیہ کی جانب سے عائد کی جانے والی کچھ دیگر شرائط یہ ہیں۔ریلی کے شرکا عام لوگوں کے سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ہنگامی صورت میں فوری طور پر فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز کے لیے سڑکیں خالی کی جائیں گی۔آٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کی ذمہ داری پارٹی انتظامیہ کی ہو گی۔پولیس ضرورت پڑنے پر ریلی میں شریک کسی بھی فرد کی تلاشی لے سکے گی۔ٹریفک کو کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔شرائط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ ریڈزون سمیت اسلام آباد میں دیگر مقامات پر بھی دفعہ 144 نافذ ہے اور ریلی میں شریک کوئی بھی فرد اس طرف جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ریلی کے شرکا اور قیادت مذہب، ملک یا نظریہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کا نعرہ نہیں لگائے گی۔درخواست دینے والے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ شرائط ہر خطاب کرنے والے تک پہنچائے اور اگر کسی کی تقریر سے کوئی نقصان ہوا تو وہی اس کا ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔شرکا اور خطاب کرنے والوں کو ایسے کسی بھی لفظ، رائے یا دوسرے اشارے کی اجازت نہیں ہو گی جو نظریہ پاکستان اور ملکی سلامتی کے خلاف ہو۔کسی بھی پارٹی کا جھنڈا نہیں جلایا جائے گا۔ڈیکس اور ایمپلی فائرز کے استعمال کے لیے ایکٹ 1965 کی پابندی کی جائے گی۔شرکا کی تلاشی لینا درخواست گزار کی ذمہ داری ہو گی اور ہر شخص کو تلاشی کے بعد ریلی میں شریک ہونے کی اجازت ملے گی۔میونسپل بائی لاز اور دیگر ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔درخواست گزار کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اسلام آباد سے باہر سے آنے والوں کو ضوابط سے آگاہ کرے اور ان کی پابندی کرائے۔ریلی کے دوران کسی قسم کی گندگی پھیلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں