اپنے بچے کی بھی خواہش ہے لیکن پہلے کسی کو گود لینا چاہوں گی، سونیا حسین

سونیا حسین نے بھارتی نژاد کینیڈین صحافی فریدون شہریار سے انسٹاگرام پر بات کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی سمیت ڈراموں اور فلموں کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی۔ دونوں ممالک میں کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سونیا حسین کا کہنا تھا کہ انہیں پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سمجھ نہیں آتی اور دونوں ممالک کے درمیان 2022 میں ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت میں ثقافتی لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، دونوں کی رسم و رواج بھی ملتی جلتی ہیں اور دونوں ممالک کے افراد کی ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں بھی ہیں لیکن دونوں ممالک سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گوری رنگت کو فوقیت دینا انہیں سمجھ نہیں آتی اور ان کے خیال میں گوری رنگت خوبصورتی کا معیار نہیں لیکن پاکستان اور بھارت میں گوری رنگت کو اس وقت سے ترجیح دی جا رہی ہے، جب یہاں گورے آئے اور پھر گوری رنگت کو بڑے پن سے جوڑ دیا گیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان میں فلمیں زیادہ بنتی تھیں، جن میں زیادہ تر پنجابی فلمیں ہوتی تھیں اور اس وقت لاہور مرکز ہوا کرتا تھا لیکن اب سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے اور اب شوبز کا مرکز کراچی ہے اور اب اردو میں فلمیں بنتی ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہوگئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں سونیا حسین نے بتایا کہ کسی بھی خاتون کو زندگی گزارنے کے لیے مرد کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اور یہ خیال ہی غلط ہے، جس طرح ایک مرد تنہا زندگی گزار سکتا ہے، اسی طرح خاتون بھی گزار سکتی ہے، البتہ دونوں کو محبت کے لیے دونوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: سونیا حسین معاشرے کا ظالم چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے تیار پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی نظر میں ڈرامے بہتر آپشن ہیں، کیوں کہ وہ موضوعات اور مسائل پر بنائے جاتے ہیں اور ان میں کرداروں کو بھی اہمیت ہوتی ہے۔
سونیا حسین کے مطابق فلموں میں زیادہ تر ہیروئن کا کرار فلم کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، اس کا کام صرف ہیرو کو پیار دینا، گانوں پر ڈانس کرنا ہوتا ہے، اس لیے انہیں فلمیں سمجھ نہیں آتیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے فلموں میں کام نہ کریں، جن میں ہیروئن کا کردار مضبوط نہ ہو۔ بچوں کو گود لینے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اپنے بچے کی بھی شدید خواہش ہے لیکن وہ اس سے پہلے کسی یتیم کو گود لینا چاہیں گی۔
انہوں نے دلیل دی کہ جب دنیا میں اتنے سارے بچے بے سہارا اور یتیم ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجائے کسی نئے انسان کو کیوں پیدا کیا جائے؟ پروگرام کے ایک سیگمنٹ میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شہرہ آفاق ڈرامے ’دھوپ کنارے اور پرچھائیاں‘ نہیں دیکھے۔ انہوں نے مرینہ خان کو بہترین اداکارہ، امیتابھ بچن کو باس، نورجہاں اور لتا منگیشکر کو لیجنڈری گلوکارائیں قرار دیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ صبا قمر سے یہ پوچھیں گی کہ یہ ’شانو‘ کون ہیں؟ جن سے متعلق وہ محبت کے دعوے کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ شاہ رخ خان سے یہ پوچھیں گی کہ وہ اتنے بڑے اداکار ہونے کے باوجود اتنے بے ضرور اور لوگوں میں گھل مل جانے والے شخص کیسے بن جاتے ہیں؟

اپنے بچے کی بھی خواہش ہے لیکن پہلے کسی کو گود لینا چاہوں گی، سونیا حسین” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں