ذرا سی احتیاط! شوگر گھٹائے، تندرست بنائے

طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ صحت مند انسان کے خون میں شوگر کی مقدار 120 سے 180ملی گرام تک ہونی چاہئے۔

تمام معالجین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ذیابیطس کا مریض متوازن غذا اور پابندی سے ورزش معمول کا حصہ بنا لے تو وہ شوگر کے مضر اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہ کر پُر لطف زندگی گزار سکتا ہے۔پرہیزی غذا اور ورزش انسانی جسم میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے اور میٹا بولزم کے عمل کو مزید فعال کر کے جسم کو چست کرتی ہے۔ انسانی جسم میں میٹا بولزم کی کارکردگی سست ہونے سے مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہےاور کوئی بھی بیماری آسانی سے حملہ کر دیتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند انسان کے خون میں شوگر کی مقدار صبح نہار منہ 80 ملی گرام سے 120 ملی گرام جبکہ کھانے کے بعد 120 سے 180 ملی گرام تک ہونی چاہئے۔

معوی ذیابیطس:

اسے انتڑیوں کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس بھی کہا جاتا ہے۔انتڑیوں کے فعل میں خرابی واقع ہوجانے سے بھی ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر ابتدائی طور پر اس خرابی کو دور کر دیا جائے تو ذیابیطس کی علامات بھی خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ انتڑیوں کی خرابی میں دائمی قبض، انتڑیوں کی سوزش، انتڑیوں کی حرکاتِ دودیہ میں نقص واقع ہونا، انتڑیوں میں زہریلی گیسوں کا ٹھہر جانا اور خشکی کی تہہ بن جانا وغیرہ شامل ہیں۔ انتڑیوں میں فاضل مادوں کے زیادہ دیر تک رکے رہنے کی وجہ سے تعفن پیدا ہو جاتا ہے۔ مریض پیٹ میں بھاری پن اور بوجھ محسوس کرتا ہے۔ دن میں کئی بار رفع حاجت کی خواہش تو ہوتی ہے مگر فراغت نہیں ہو پاتی ۔ پیشاب بار بار آنے لگتا ہے اور ہر بار پاخانہ بھی قلیل مقدار میں خارج ہوتا رہتا ہے۔
ماہر اطباء کی پریکٹس میں اس طرح کے بے شمار مری آ چکے ہیں،جن کی انتڑیاں درست ہوتے ہی ذیابیطس سے بھی جان چھوڑ گئی۔ علاوہ ازیں ماہرین طب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کی عمدہ کارکردگی میں انتڑیوں کی بہترین کارکردگی کا عمل دخل اسّی فیصد تک ہوتا ہے۔ انتڑیوں کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ ثقیل، نفاخ اور دیر سے ہضم ہونے والی غذاؤں کا بے دریغ اور تواتر سے استعمال ہے۔انتڑیوں کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس کو معوی شوگر کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل وضاحت ہے کہ جو معالجین اسبابِ مرض کو دور کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور ظاہری علامات کے بجائے مرض کی جڑ اکھاڑنے کی تگ و دو ترتے ہیں، وہ مریض کو بیماری سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً معوی ذیابیطس کا علاج کرتے وقت اگر انتڑیوں کے افعال کو درست کر دیا جائے تو ظاہری علامات بھی خود ہی ختم ہو جائیں گی۔

معدی ذیابیطس:

بعض اوقات معدے کی خرابی کے باعث ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جسے معدی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ ذیابیطس کی زیادہ تر مریضوں کو کھانے کی طلب بار بار ہوتی ہے، جس سے مریض اور کچھ معالج یہ سمجھ لیتے ہیں کہ معدہ اپنا فعل درست طریقے سے سر انجام دے رہا ہے، لیکن یہ خیال درست نہیں ہے، بلکہ علم طب کی رو سے بار بار یا بے وقت کھانے کی طلب ہونا بذات خود ایک بیماری ہے، جسے جوع البقر کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ معالج کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرض کی تشخیص مکمل سوجھ بوجھ سے کرے اور مرض کا سبب بننے ولے عوامل پر دھیان دیتے ہوئے معدے کے امراض کا علاج کرے تو انشااللہ معدی ذیابیطس کی علامات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

کبدی ذیابیطس:

کبد جگر کا دوسرا نام ہے۔ کافی عرصے تک جگر کے امراض میں مبتلا رہنے والے افراد میں بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور اگر صحیح تشخیص کے بعد جگر کا علاج کیا جائے تو مریض ذیابیطس کی اس قسم سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ عام طور پر امراض جگر میں غلبہ صفر ااور سودا، جگر کے سدے، جگر کی سووزش(Hepatitis) وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جگر کی خرابی میں پتے اور تلی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے، کیونکہ صفرا کا مرکز پتہ ہے، جبکہ تلی سودا کا گھر ہے، لہٰذا ذیابیطس کا سبب تلی اور سودا بھی ہو سکتے ہیں۔ اس بات کی تشخیص کا دارومدار معالج کی معالجاتی بصیرت پر ہوتا ہے۔

دماغی ذیابیطس:

ہمارے سر میں دماغ کے قریب بلغم پیدا کرنے والا غدود پایا جاتا ہے۔ ایسے افراد جن کا مزاج بلغمی ہوتا ہے۔جسم میں بلغم کی مقدار ضرورت سے زیادہ جمع ہو جانے سے بھی بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ستانے لگتی ہیں۔ ایسی ذیابیطس کو دماغی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ذہنی امراض کے نتیجے میں حملہ آور ہونے والی ذیابیطس کو بھی برین شوگر کہا جاتا ہے۔ دماغی ذیابیطس کا رجحان ایسے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے، جو بات بے بات ٹینشن، ڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی علمِ طب کی رو سے کسی ایک اخلاط کی کمی یا زیادتی امراض کا باعث بن جاتی ہے۔ بلغم کی زیادتی خون میں شامل ہو کر نظامِ دورانِ خون کو متاثر کرتی ہے، جس سے بلڈ شوگر کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

جنرل شوگر:

عام حملہ آور ہونے والی ذیابیطس بانقراس یا لبلبہ کے فعل میں خرابی پیدا ہونے سے واقع ہوتی ہے۔لبلبہ ایک ایسا غدود ہے، جو جسم میں انسولین کی مطلوبہ ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ چکنائی کے بے دریغ استعمال سے اس کے فعل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے، چونکہ انسانی بدن میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنا انسولین کا کام ہے، لہٰذا انسولین کی کمی یا زیادتی سے انسولین کا لیول متاثر ہو جاتا ہےاور ذیابیطس کی علامات نمودار ہونے لگتی ہیں۔ یاد رہے بانقراس کے فعل میں خرابی غیر معیاری خوراک ، سہل پسندی اور دیگر ماحولیاتی عناصر سے پیدا ہوتی ہے۔ لبلبے کی خرابی سے حملہ آور ہونے والی ذیابیطس کو بانقراسی یا جنرل ذیابیطس کہا جاتا ہے۔

شوگر سے بچاؤ کے قدرتی طریقے اپنا کر ہم اس موذی مرض کے خطرات سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ شوگر پر غذا اور ورزش کے ذریعے قابو پانے کی حتی المقدور کوشش کی جائے، بصورت دیگر لوپوٹینسی کی ادویات کا استعمال کا جائے، تا کہ شوگر لیول متوازن ہونے کی صورت میں دوا کو بآسانی چھوڑا جا سکے، تاہم ذیابیطس سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ ورزش ہے۔ روزانہ نصف گھنٹے سے پون گھنٹے واک اور جسم کو تازہ دم کرنے والی ورزش ضرور کی جائے۔ ریڑھ کی ہڈی اور دونوں ٹانگوں کی مختلف ورزشیں باقاعدگی سے کی جائیں، کیونکہ ٹانگوں اور ریڑھ کی ہڈی کی ورزش سے ذیابیطس پر قابو پانے میں خاطر خواہ حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اپنا وزن کسی صورت بھی اپنے قد اور عمر کے تناسب سے نہ بڑھنے دیا جائے۔بلڈ کولسٹرول کو قابو میں رکھا جائے۔ چکنائی، میٹھی چیزوں اور نمک سے پرہیز کیا جائے۔
اس مرض میں دواؤں سے زیادہ غذائی پرہیز کی ضرورت ہے۔مریض کو ہر قسم کی میٹھی اور نشاستہ دار چیزوں سے پرہیز کرایا جائے۔ نشاستہ دار چیزوں سے پرہیز کرانے کی وجہ یہ ہے کہ نشاستہ دار چیزیں بھی جسم میں ہضم کے دوران شکر بن جاتی ہیں۔ گُڑ، شکر، کھانڈ، بورہ، چینی اور ان سے بننے والی میٹھائیاں، گنا، شہد اور تمام میٹھے پھل ذیابیطس کے مریض کو نہیں کھانے چاہئیں۔ اگر چاہیں تو ان میٹھی چیزوں کے بجائے اسکرین اور گلیسرین استعمال کر سکتے ہیں۔
نشاستہ دار چیزوں سے مکمل پرہیز نا ممکن ہے۔ اس لئے یہ جس قدر بھی کم استعمال کی جائیں بہتر ہے۔چاول اور تمام دالیں ذیابیطس میں نقصان دیتی ہیں۔ بھوسی دار بےچھنے آٹے کی روٹی، لوکی (گھیا)، ٹنڈے، چچینڈ؁ے، پرول، پالک، خرفہ بتھورا، اور تمام ساگوں کو بکرے کے گوشت کے ساتھ پکا کر کھا سکتے ہیں۔ گوشت ،انڈا،دودھ، دہی، پنیر، مکھن، گھی یہ سب ذیابیطس میں مفید ہیں۔ چھاچھ خوب پئیں۔ یہ پیاس کو بجھاتی ہےاور بدن کو غذائیت دتی ہے، البتہ دودھ زیادہ نہ استعمال کیا جائےاور اس میں گُڑ شکر یا چینی نہ ملائی جائے۔آلو، شکر قند، شلجم، چقندراور گاجر جیسی چیزیں بھی نہیں کھانی چاہئیں۔
تمام کھٹے میٹھے پھل جیسےسیب، آلوچہ، لوکاٹ، انناس، انار کھاسکتے ہیں، لیکن آم ، انگور، انجیر، کھجور، امرود، خربوزہ، چھواراوغیرہ میٹھے پھل نہیں کھانے چاہئیں۔ خشک میوہ جات میں سے بادام، چلغوزہ، پستہ، کاجو اور کھوپرا وغیرہ کھا نے کی اجازت ہے۔

علاج کے لئے مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک دوا استعمال میں لائیں:

کندوری کے پتے سات عدد، کالی مرچ سات دانے کے ساتھ پیس چھان کر پینے سے پیشاب میں شکر آنا بہت کم ہو جاتا ہے۔

سبز کریلے کوٹ کر اس کا پانی نچوڑ کر پانچ تولے روزانہ پئیں۔ ذیابیطس کے لئے مفید ہے۔

سنکھا ہولی بوٹی ایک تولہ، کالی مرچ سات دانے کو پانی میں پیس چھان کر چند روز برابر پلاتے رہنے سے ذیابیطس میں فائدہ پہنچتا ہے۔

جامن کی گٹھلی کی مینگ دو تولے، پوست خشخاش دو تولے کو پیس چھان کر صبح و شام تین تین ماشے چھاچھ یا پانی کے ساتھ کھائیں۔ ذیابیطس میں مفید ہے۔

کنگھی بوٹی کے پتےسائے میں خشک کر لیں۔ اس کے بعد کوٹ چھان کر سفوف بنائیں۔ چار چار ماشے یہ سفوف روزانہ صبح و شام چھاچھ کے ساتھ کھائیں۔

گلو خشک اور جامن کے پتے خشک کئے ہوئے دونوں کو برابر وزن لیں اور چھان کر سفوف بنائیں، چھ ماشے یہ سفوف صبح کو چھاچھ کے ساتھ کھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں