عجیب و غریب سر گزشت: ٹائم ٹریولنگ کی ایک حیرت انگیز کرامت

بر صغیر پاک و ہند کے معروف صاحب کمال صوفی بزرگ حضرت غوث علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔

ایک شخص حضرت شاہ عبد العزیزصاحب محدث دہلوی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا لباس کے اعتبار سے وہ شاہی عہدے دار معلوم ہوتا تھا۔ اس نے شاہ عبد العزیز ؒ سے کہا ! حضرت میری سر گزشت اتنی عجیب و غریب ہے کہ کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ خود میری عقل بھی کام نہیں کرتی۔ حیران ہوں کہ کیا کہوں، کس سے کہوں، کیا کروں اور کہاں جاؤں؟ اب تھک ہار کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔
اس شخص نے اپنی سرگزشت بیان کرتے ہوئے کہا:
میں لکھنؤ میں رہتا تھا بر سر روزگار تھا۔ حالات اچھے گزر رہے تھے ۔ قسمت نے پلٹا کھایا ۔ معاشی حالات خراب ہوتے چلے گئےزیادہ وقت بےکاری میں گزرنے لگا۔ میں نے سوچا کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے بہتر ہے کہ کسی دوسرے شہر میں حصولِ معاش کی کوشش کی جائے۔ تھوڑا سا زادِ راہ ساتھ لیا اور اودے پور کی جانب روانہ ہو گیا ۔ راستے میں رواڑی کے مقام پر قیام کیااس زمانے میں وہ جگہ ویران تھی صرف ایک سرائے آباد تھی۔ سرائے میں کچھ کسبیاں (طوائف) رہتی تھیں۔ میں سرائے میں متفکر بیٹھا تھا۔ پیسے بھی ختم ہو گئے تھے۔ ایک کسبی (طوائفہ) آئی اور کہنے لگی کہ میاں کس فکر میں بیٹھے ہوکھانا کیوں نہیں کھاتے؟ میں نے کہا ابھی سفر کی تھکان ہے۔ ذرا سستا لوں تھکن دور ہونے پر کھانا کھاؤں گا۔ یہ سن کر وہ چلی گئی۔ پھر کچھ دیر بعد آئی اور وہی سوال کیا۔ میں نے پھر وہی جواب دیااور وہ چلی گئی۔ تیسری دفعہ آکر پوچھا تو میں نے سب بتا دیاکہ میرے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہو چکا ہے اب ہتھیار اور گھوڑا بیچنے کی سوچ رہا ہوں۔ وہ اُٹھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں گئی اور دس روپے لا کر مجھے دے دئیے۔میں نے جب روپے لینے میں پس وپیش کیا تو اس نے کہا میں نے یہ پیسے چرخہ کاٹ کر اپنے کفن دفن کے لئے جمع کئے ہیں ، تکلف کی ضرورت نہیں ، یہ روپے میں آپ کو قرض حسنہ دے رہی ہوں جب حالات درست ہو جائیں تو واپس کر دینا ۔
میں نے روپے لے لئے اور خرچ کرتا ہوا اودے پور پہنچا۔ وہاں مجھے اچھی ملازمت مل گئی ۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حالات اچھے ہو گئے۔
کافی عرصہ اسی طرح گزر گیا پھر ایک دن لکھنؤ سے خط آیا کہ لڑکا جوان ہو گیا ہے سسرال والے شادی پر اصرار کر رہے ہیں، جلد سے جلد آ کر اس فرض سے سبکدوش ہو جایئے۔
رخصت منظور ہونے پر میں اپنے گھر روانہ ہو گیا۔ رواڑی پہنچا تو پرانے واقعات کی یاد تازہ ہو گئی ۔ سرائے میں جا کر اس کسبی کے متعلق معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ سخت بیمار ہے اور کچھ لمحوں کی مہمان ہے ۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ آخری سانسیں لے رہی تھی ، دیکھتے ہی دیکھتے اس کی روح پرواز کر گئی۔ میں نے کفن دفن کا سامان کیا ، اسے خود قبر میں اُتارا اور سرائے میں واپس آ کر سونے کے لئے لیٹ گیا۔ اچانک دھیان پڑا کہ جیب میں رکھی پانچ ہزار کی ہنڈی غائب تھی۔ تلاش کیا مگر نہیں ملی ، پھر خیال آیا کہ ہو نہ ہو دفن کرتے وقت قبر میں گر گئی ہو گی۔افتاں و خیزاں قبرستان پہنچا اور ہمت کر کے قبر کو کھول دیا۔
قبر کے اندر اترا تو ایک عجیب صورت حال کا سا منا کرنا پڑا۔ نہ وہاں میت تھی اور نہ ہی ہنڈی ۔ ایک طرف دروازہ نظر آ رہا تھا ہمت کر کے دروازے کے اندر داخل ہوا تو ایک نئی دنیا سامنے تھی۔ چاروں طرف باغات کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور ہرے بھرے پھل دار درخت سر اٹھائے کھڑے تھے ۔ باغ میں ایک طرف عالی شان عمارت بنی ہوئی تھی۔ عمارت کے اندر قدم رکھا تو ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑی۔ وہ شاہانہ لباس پہنے بناؤ سنگھار کئے بیٹھی تھی۔ ارد گرد خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔ عورت نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ تم نے مجھے نہیں پہچانا؟ میں وہی ہوں جس نے تمہیں دس روپے دئیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو میرا یہ عمل پسند آیا اور اس عمل کو قبول فرما کر مجھے بخش دیااور بھرپور نعمتوں سے نواز دیا۔ یہ تمہاری ہنڈی ہے جو قبر کے اندر گر گئی تھی۔ ہنڈی لو اور یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں یہاں کچھ دیر سیر کرنا چاہتا ہوں ۔حسین و جمیل عورت نے جواب دیا کہ تم قیامت تک بھی گھومتے پھرتے رہو تو یہاں کی سیر نہیں کر سکو گے ۔ فوراً واپس چلے جاؤ۔ تمہیں نہیں پتا کہ دنیا اس عرصے میں کہاں کی کہاں پہنچ چکی ہو گی۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا اور قبر سے نکل آیا۔ باہر آ کر دیکھا کہ وہاں سرائے تھی اور نہ ہی پرانی آبادی تھی۔ چاروں طرف شہر پھیلا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں سے سرائے کے بارے میں پوچھا تو سب نے لا علمی کا اظہار کیا۔ بعض لوگوں نے مجھے مخبوط الحواس قرار دیا۔
آخر ایک آدمی نے کہا کہ میں تمہیں ایک بزرگ کے پاس لے کر چلتا ہوں ۔ وہ بہت عمر رسیدہ ہیں شاید وہ کچھ بتا سکیں۔ اس بزرگ نے میرا سارا حال سنااور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے دادا بتایا کرتے تھے کہ کسی زمانے میں یہاں ایک سرائے تھی ۔ سرائے میں ایک امیر آ کر ٹھہرا تھا اور ایک رات وہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا ۔ پھر اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا کہ زمین نگل گئی یا آسمان نے اٹھا لیا۔ میں نے تصدیق کی کہ میں ہی وہ امیر ہوں جو سرائے سے غائب ہوا تھا۔یہ سن کر وہ بزرگ اور حاضرین محفل حیران اور ششدر رہ گئے اور ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ ‘‘
امیر یہ واقعہ سنا کر خاموش ہو گیا اور پھر شاہ عبد العزیز ؒ سے عرض کیا کہ آپ ہی فرمائیں میں کیا کروں ؟ کہاں جاؤں؟ میرا گھر ہے نہ کوئی ٹھکانہ۔ دوسرا یہ کہ اس واقعے نے مجھے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
شاہ صاحب نے فرمایا! تم نے جو کچھ دیکھا ہے صحیح ہے اِس عالَم اور اُس عالَم کے وقت کے پیمانے الگ الگ ہیں۔ شاہ صاحب ؒ نے فرمایا ’’اب تم بیت اللہ شریف چلے جاؤ اور باقی زندگی یاد الٰہی میں گزار دو‘‘

محترم قاائین! جیسے اصحاب الکہف اور حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعات قدرت کا ایک شاہکار ہیں ویسے یہ واقعہ بھی اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ ہے جسے اللہ رب العزت نے ہمیں اپنی نشانی کے طور پر دکھایا ہے۔ احادیث میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ آخرت کا ایک دن اس دنیا کے ایک ہزار برس کے برابرہے ۔ لہٰذا وہاں کے چند ساعات یہاں کے ایک ڈیڑھ صدی کے برابر ہی بنتے ہیں۔

بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (القران)

اپنا تبصرہ بھیجیں