انسان کی قوت متخیلہ کس طرح صحت اور بیماری پر اثر انداز ہوتی ہے۔

خیالات کس کس وقت اور کس کس صورت سے ہمارے اعضاء اور پٹھوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ہم مختلف قسم کے خیالات میں مبتلا رہ کر اپنی صحت میں کیسے کیسے تغیرات پیدا کر لیتے ہیں۔ اس موضوع پر امریکہ کے نامور سائنسدانوں اور ماہرین طب نے تحقیقات اور تجربات کیے ہیں، جن سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پٹھوں پر خیال کے اثر ڈالنے کی پیمائش اور اندازہ کیا جا سکے۔ اس سے قبل ایشیاء اور یورپ کے بعض حصوں میں ماہرین نے جو تحقیقات اور تجربات کیے ہیں وہ اگرچہ اس باب میں کچھ زیادہ ترقی یافتہ قرار نہیں دیے جا سکتے، لیکن امریکہ کی تحقیقات کے نتائج بہرکیف اس سلسلہ کی اہم کڑی ہے۔ اطبائے مشرق کو پہلے پہل اس کا احساس یوں ہوا کہ کسی شخص کو تھوڑی دیر کے غور و فکر میں محو رہنے سے تھکا ہوا دیکھنا روزمرہ کا معمول ہو گیا تھا، آج بھی ہر شخص جب چاہے کسی خیال یا فکر میں منہمک رہ کر تھوڑی ہی دیر کے بعد تھکن محسوس کر سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے خیالات کو تھوڑی دیر کے لیے ایک ہی نقطہ پر جمائے رکھیں یا کسی مشکل کام کے متعلق ہمیں غور و فکر کرنا پڑے تو تھکن کی علامات اور بھی جلد محسوس ہونے لگتی ہیں۔
اس سلسلے میں امریکہ کے فاضل ڈاکٹروں اور ماہرین علم النفس نے جو تحقیقات کیں، اس میں وہ ماہرین طب سے مقابلتاً زیادہ کامیاب رہے۔ شکاگو یونیویرسٹی کے ایک ماہر علم النفس نے یہ تحقیقات یوں پایہ تکمیل تک پہنچائیں کہ ایک شخص وزن اٹھانے لگا تو اس کے بازو کے رگ اور پٹھوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، پھر اسی شخص کو دوبارہ وہی وزن اٹھاتے وقت کہا گیا کہ اب کی بار اسے پہلے کی نسبت زیادہ وزن اٹھانا ہو گا۔ وزن اٹھانے والے شخص کو اس حقیقت سے بے خبر رکھنے کے لیے کہ اسے دونوں دفعہ ایک ہی وزن اٹھانا پڑا تھا، اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی، اس بے خبری کی حالت میں اس کے دل میں یہ خیال آنے سے کہ وہ پہلے کی نسبت اب کی بار زیادہ وزن اٹھا رہا ہے، اس کے بازوؤں کے رگ و پٹھوں کی نقل و حرکت پہلے سے کچھ تبدیل ہو گئی۔ اس سے اس ماہر علم النفس نے مشاہدہ کیا کہ وزن اٹھانے والے شخص کی قوتِ تخیل اس کے رگ و پٹھوں پر زیادہ درماندگی پیدا کرنے والی ثابت ہوئی۔
ایک اور فاضل ڈاکٹر نے اس تحقیقات میں اور بھی گراں قدر وسعت پیدا کی کہ اس نے بھاری وزن اٹھانے والوں کے دل پر غلط حقیقت نقش کر دی کہ وہ کم وزن اٹھا رہے ہیں۔ اس تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ انسان کے پٹھوں اور صحت پر اس کے تخیل کا اثر اس قدر چھا جاتا ہے کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا شخص کو تندرست اور تندرست کو بیمار سمجھا جانے لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں