لاہور ہائی کورٹ میں فلم جوائے لینڈ کی نمائش کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سنسرشپ سرٹیفکیٹ اور فلم کے لائسنس کو منسوخ کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم قانون اور پابندیوں سے بالاتر اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ فلم معقول پابندیوں کے دائرے میں فحاشی اور اسلام کے احکام کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ تاہم، لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر دائرہ نمبر لگا دیا۔خیال رہے کہ کانز فیسٹول میں ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی فلم ہونے اور فلموں کے دیگر عالمی میلوں میں کئی ایوارڈز حاصل کرنے سمیت آسکر کے لیے نامزدگیوں میں شمار ہونے کے باوجود پاکستان میں ’جوائے لینڈ‘ کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مرکزی فلم سینسر بورڈ نے ’جوائے لینڈ‘ کو جاری کیا گیا اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے اسے معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ فلم کو پاکستان کے سینما میں ریلیز نہیں کیا جاسکتا۔جوائے لینڈ  پر اس پابندی کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، متعدد مشہور شخصیات نے بھی اس حوالے سے آواز اٹھائی اور حکام سے جوائے لینڈ کو ریلیز کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔فلم کی کاسٹ اور عملے کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا تھا کہ اس فلم کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں