چین کی ترقی کا راز

فرینڈز آف چائنا کے عنوان سے کراچی میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لی بی جیاں کا کہنا تھا کہ چین نے ترقی کے منازل کسی ملک پر حملہ کر کے حاصل نہیں کیے، یہ سب شب و روز محنت، قابل ترین افراد کے چناؤ، عوام دوست پالیسیوں اور میرٹ پر عمل کا نتیجہ ہے۔ قونصل جنرل لی بی جیان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ کے لحاظ سے دیکھیں تو امریکا کا جی ڈی پی 20 اعشاریہ 89 کھرب جبکہ آبادی کے لحاظ سے کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود چین کا جی ڈی پی 14 اعشاریہ 72 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور عالمی بنک کے مطابق جی ڈی پی کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک جاپان ہے جس کا جی ڈی پی چین سے تقریباً ایک تہائی کم یعنی 5 کھرب ڈالر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چند عشروں میں چین نے دس کروڑ شہریوں یعنی امریکا کی ایک تہائی آبادی کے برابر افراد کو انتہائی غربت سے باہر نکالنے کا کرشمہ بھی کیا ہے۔ چین کے سیاسی نظام کو بعض ممالک کی جانب سے آمریت کہنے کو پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے لی بی جیاں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا دیگر 8 سیاسی جماعتوں کی مدد سے ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، جہاں تک چین کی پولیٹبرو کا تعلق ہے تو اس میں شامل شخصیات گراس روٹ لیول سے تعلق رکھتی ہیں اور اس اعلیٰ مقام تک پہنچنے سے پہلے وہ قصبے، شہروں اور صوبوں میں برسوں خدمات انجام دے چکے ہوتے ہیں۔  لی بی جیاں نے کہا کہ ممالک کے درمیان تنازعات میں پڑنے کے بجائے تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا سے پسماندگی کا خاتمہ کیا جاسکے اور ایک ایسی پالیسی اپنائی جانی چاہیے جس میں سب کی جیت ہو، پراپیگنڈہ کے بجائے زمینی حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ واضح ہوسکے کہ امن اور ترقی کیلئے اصل کردار کون ادا کررہا ہے۔اس موقع پر چین میں پاکستان کے سابق سفارتکار سید حسن جاوید نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں جب وہ پہلی بار چین میں تعینات کیے گئے تو انہیں مشورہ دیا گیا تھاکہ اچھا لباس اور ضرورت کی تمام تر اشیا پاکستان سے لے کر جائیں کیونکہ غربت کی وجہ سے پُرتعیش چیزوں کا چین میں فقدان ہے۔

80 کی دہائی کے کراچی اور شنگھائی کاموازنہ کرتے ہوئے سید حسن جاوید نے کہا کہ دونوں شہروں میں اس وقت فائیو اسٹارہوٹلوں کی تعداد یکساں یعنی صرف پانچ تھی، چار دہائیاں گزرنے کے باوجود کراچی میں آج بھی پانچ ہی فائیواسٹار ہوٹل ہیں جبکہ شنگھائی میں ایسے ہوٹلوں کی تعداد تین ہزار ہوچکی ہے۔ حسن جاوید نے کہا کہ چین نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے مندوب بھیج کران ممالک کی ترقی کا راز جانا تھا اور پھر کمیونسٹ پارٹی نے ایسا ماڈل تیار کیا کہ جس کی بنیاد عوام کی پسماندگی دور کرکے انکا معیار زندگی بہتربنانے پر رکھی، آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم چین کی ترقی سے سبق حاصل کریں۔

پاک چین تعلقات کا ذکر کرتےہوئے مقررین نے کہا کہ جب ہنری کیسنجر کے زریعے چین اور امریکا کا 1972میں پاکستان نے تعلق قائم کرنے میں کردار ادا کیا تو چئیرمین ماو نے صدر نکسن پر واضح کیا تھا کہ اس پُل یعنی پاکستان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، برسوں بعد چینی وزیراعظم اور امریکی صدر بل کلنٹن کی ملاقات ہوئی تواس وقت بھی امریکی صدر پر پاکستان کی اہمیت اجاگر کی گئی تھی۔ پاک چین اقتصادی تعلقات کا حوالہ دیتےہوئے مقررین نے کہا کہ جب پاکستان لوڈشیڈنگ کا بدترین عذاب جھیل رہا تھا ، صنعتکار بنگلادیش سمیت خطے کے دیگر ممالک میں صنعتیں منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے تھے تو کسی مغربی ملک نے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کی، چین آگے بڑھا اور اندھیرے اجالوں میں بدلے۔ مقررین نے سی پیک کو پاکستان کی اقتصادی لائف لائن قرار دیا اور کہا کہ معاشی ترقی کا یہ سفرپاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں