سقوطِ ڈھاکہ کی المناک داستان

Faizi
کالم نگار: ریحان الدین فیضی
(فیضی کے قلم سے)

            16دسمبر1971جب ملک خداداد سرزمین پاکستان کے دو ٹکڑے کردئے گئے اپنوں کی غداری تو بیگانوں کی عیاری تھی اپنوں کی بے بسی تو غیروں کی چالاکیاں تھی جن ماؤں نے 14اگست1947کو پاکستان بنتے ہوئے دیکھا توانہی ماؤں نے 16دسمبر1971کو پاکستان کو ٹوٹتے ہوئے بھی دیکھاجن بزرگوں نے 14اگست1947کوغیروں کے ہاتھوں اپنوں ہی کی بہتی ہوئی خون کی ندیاں دیکھی تو انہی نے 16دسمبر1971کواپنوں کے ہاتھوں اپنوں ہی کی بہتی ہوئی خون کی ندیاں بھی دیکھی اپنے ہی قاتل تھے اور اپنے ہی مقتول تھے اپنے ہی ظالم تھے اور اپنے ہی مظلوم لاشوں پر تماشہ بنانے والے بھی اپنے تھے اور لاشوں پر آہ وزاری کرنے والے بھی اپنے تھے گھروں سے بے گھر کرنے والے بھی اپنے تھے اور گھروں سے بے گھر ہونے والے بھی اپنے تھے 16دسمبر1971تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن تھاجس دن جناح کے پاکستان کو دو لخت کیا گیا جس دن شہدائے تحریک پاکستان کے شہادتوں کی توہین کی گئی جس دن مجاہدین تحریک پاکستان کی امیدوں کو توڑا گیا جس دن بانیان پاکستان کی قربانیوں کو ضائع کیا گیا جس دن غیروں کے اشاروں پر چلتے ہوئے اپنوں کے حقوق کو تلف کیا گیا جس دن اپنوں کی نادانی سے مشرق پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا جو کل مشرقی پاکستان کو دوسرا پاکستان سمجھتے تھے آج انہی کے لب پر بنگلہ دیش کا ترانہ ہے غلطیاں دونوں جانب سے تھی لیکن قصوروار وہ تھے جن کے ہاتھوں میں ریاست کے اختیارات تھے غلط فہمیاں دونوں جانب سے تھی لیکن قصوروار وہ تھے جو جناح کے عظیم پاکستان کے ساتھ ناانصافی کرگئے المسلم کالجسد واحد کا جہاں عملی نمونہ بننا تھالیکن شخصیتوں کی آڑ میں قومی منافرت کا بدترین تمغہ پیشانی پر سجائے میں اردو تو بنگالی میں پشتو تو بنگالی میں سندھی تو بنگالی اور میں پنجابی تو بنگالی کے خود ساختہ نعروں کے آڑ میں پاکستان کے دو ٹکڑے کردیے گئے زمانے نے جہاں ڈھاکہ کو ڈوبتے ہوئے دیکھا وہی پاکستان کے سینے کو چھلنی ہوتے ہوئے بھی دیکھا اغیار خوش ہوگئے ان کا مقصد کامیاب ہوا جو ملک کلمہ لاالہ اللہ محمد الرسول اللہ کی بنیاد پر بناتھا جس کی اساس میں شعائر اسلام کے موتی ڈالے گئے تھے جس اسلامی ریاست کی تعمیر کے بارے میں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا جس اسلامی سلطنت کا مقدمہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے شہنشاہ برطانیہ سے جیتا تھا جس فلاحی مملکت کے لئے ہمارے بزرگوں نے خون کا نذرانہ پیش کیا تھاجس عظیم مملکت کے حصول کے لئے علماء کرام نے اپنی شہادتیں پیش کی اس ملک کی سرحدوں کو کمزو رکرکے ملک کو دولخت کرڈالا لیکن ہم سمجھ نا سکے اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا۔

            ہم مسلم قوم ہیں اتحاد ایمان اور تنظیم ہمارے خمیر میں ہے اسلام نے ہمیں لسانیت فرقہ واریت اور شخصیت پرستی سے دور رکھا ہے جناب نبی کریم ﷺ نے اپنی بہت سی تعلیمات میں بھائی چارگی کادرس دیا ہے ہم مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اتحاد ایمان اور تنظیم میں ہی ہماری بقاء اور سلامتی ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اتحاد ایمان اور تنظیم پر کافی تاکید کی ہے، بحیثیت قوم ہم ان تین لفظوں کو اپنے دامن سے باندھ لیں تو دوبارہ سے16 دسمبر1971 کی تاریخ نہیں دہرائے جاسکے گی دوبارہ سے بانیان پاکستان کے عظیم قربانیوں کے سامنے ہمیں شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا ایک مسلم قوم کی بقاء اور سلامتی ہی اتحاد ایمان اور تنظیم میں ہے صحابہ کرام ؓنے اپنی ساری زندگی میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنے لئے نمونہ عمل بنادیا تھا اور وہ آپس میں متحد تھے ایک دوسرے پر انہیں یقین تھا اور ان کا ایک دوسرے پر اعتماد بہت مضبوط تھا تو انہیں قیصروکسری بھی شکست نہ دے سکے جو اتحاد ایمان اور تنظیم کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے شہنشاہ روم و فارس سے ٹکراگئے اور انہیں لرزہ براندام کر ڈالا مسلم قوتوں کے مقابلے میں کفریہ طاقت عبرت ناک شکستوں سے دو چار ہوئے اسلام کی سرحدیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئیں اور وہ آگئے بڑھتے چلے گئے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جو وادی یثرب سے اٹھی اور مشرق مغرب شمال اور جنوب تک چھاگئی شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا؛

بتانِ  رنگ  و خوں  کو  توڑ کر  ملت  میں  گم  ہوجا

نہ     ترانی    رہے    باقی    نہ   ایرانی   نہ   ا فغانی

            خود جناب نبی کریمﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کی بھائی چارگی پر تاکید سے فرمایا تھا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی ہیں مسلمانوں میں نہ تو کوئی طبقاتی فرق ہے اور نہ ہی معاشرتی فرق، رنگ ونسل کے لحاظ سے سب مسلمان ایک ہی ہیں اور آدم و حوا کی اولاد ہیں ۔ ملک پاکستان اللہ کی جانب سے ایک تحفہ ہے جسے خون کا نذرانہ دے کر اغیاروں سے آزاد کیاگیا ملک پاکستان کے چاروں سرحد وں کے درمیان بسنے والے ہم آپس میں بھائی ہیں اور ہمارا ترنگا ایک ہے ہماری پہچان ایک ہے ہمارا ملک ایک ہے نہ ہم پنجابی ہیں نہ ہم سندھی ہیں ہم نہ بلوچی ہیں نہ ہم پختون ہیں بلکہ ہم سب پاکستانی ہیں پاکستان کی سرحدیں اگر سلامت ہیں تو ہم سلامت ہیں پاکستان اگر معاشی طور پر مضبوط ہے تو ہم مضبوط ہیں اگر ہم لسانیت شخصیت اور عصبیت کی راہ میں چل پڑے تو گدھ کی مانند اغیار ہمیں نوچ ڈالیں گے بانیان پاکستان کی قربانیوں کے ساتھ خیانت ہوگی شہدائے تحریک پاکستان کے ساتھ بدیانتی ہوگی اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں رہے گا سوائے ٹھنڈی آہ کے ہم کچھ نہیں کرسکیں گے پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اللہ کی جانب سے ہمارے لئے ایک تحفہ ہے ہمیں پاکستان کے وجود کی قدر کرنی چاہئے پاکستان کی وفاداری ایسی ہونی چاہئے کہ غیر بھی رش کریں؛

دل  سے  نکلے  گی  نہ  مرکر  بھی  وطن  کی  الفت

میری  مٹی  سے  بھی   خوشبوئے   وفا   آئے  گی

            پاکستان اگر چہ دو لخت ہوا کل کا مشرقی پاکستان بےشک آج بنگلہ دیش بن گیا ہے لیکن دونوں کے دل آج بھی ایک ہیں ان کے احساسات آج بھی ایک ہیں کیونکہ ہماری تاریخ ایک ہے ہمارا ماضی ایک ہے اگر ہم اپنی عظیم تاریخ کو یاد کریں تو دل کی طرح ہمارے وجود بھی ایک ہوجائیں گے ہماری سوچ ایک ہوگی ہمارا نظریہ ایک ہوگا ہم عالمی راہ داری کو مستحکم کرتے ہوئے عالم اسلام کی تقویت کا سبب بنیں گے ہم معاشی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہو جائیں گے خدائے ذوالجلال سے یہی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ عالم اسلام میں اتحاد اور بھائی چارہ نصیب فرمائے خصوصاً پاکستان اور بنگلہ دیش میں دوبارہ سے اتحاد نصیب فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں