ایکسرے میں شاہین شاہ آفریدی کی انجری کا نشان نہیں، دو ہفتے ری ہیب کی ہدایت دی، پی سی بی

پی سی بی کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق قومی ٹیم کی پاکستان روانگی سے قبل شاہین شاہ آفریدی کا ایکسرے کیا گیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ان گھٹنے پر زخم کا کوئی نشان نہیں جبکہ گھٹنے میں تکلیف کا امکان گیند کیچ کرنے کے سلسلے میں تیزی سے گرنے کے دوران موڑنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق ایکسرے کا جائزہ پی سی بی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نجیب اللہ سومرو اور آسٹریلوی گھٹنے کے ماہر ڈاکٹر پیٹر ڈی الیسنڈرو نے لیا۔ کرکٹ بورڈ نے کہا کہ تیز باؤلر اب بہتر محسوس کر رہیں اور پُرجوش ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی پاکستان واپسی کے بعد کچھ دنوں تک نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں اپنے گھٹنے کی بحالی کے لیے کنڈیشنگ پروگرام سے گزریں گے۔ پریس ریلیز کے مطابق شاہین شاہ آفریدی کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی بحالی پروگرام کی کامیاب تکمیل اور آگے بڑھنے کے لیے طبی عملے سے مشروط ہوگی۔ انگلینڈ کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں شاہین شاہ اس تیز رفتاری سے گرنے کے بعد بھی باؤلنگ کرنے کے لیے واپس آئے لیکن وہ صرف ایک ہی گیند کر سکے۔

اس کے بعد، شاہین شاہ کو انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست میں اپنا تیسرا اوور منسوخ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ فاسٹ باؤلر شاہین شاہ جولائی میں پیش آنے والی انجری سے تیزی سے بحالی کے بعد ورلڈ کپ میں شامل ہوئے جہاں طبی ماہرین کے مطابق فائنل کے دوران ایک اور حادثے کا مطلب ہے کہ صرف 22 سال کی عمر میں شاہین شاہ کا کیریئر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔  پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سہیل سلیم نے ڈان کو بتایا کہ ’اگر انجری کے نتیجے میں شاہین کو مزید چوٹیں نہ آئیں تو ان کو صحت یاب ہونے میں تین سے چار ماہ لگیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی کا میڈیکل بورڈ سرجری کے ذریعے ان کا علاج کرتا ہے تو شاہین 6 سے سات ماہ کے لیے کرکٹ سے باہر ہو جائیں گے۔

سابق چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سہیل سلیم کے مطابق شاہین آفریدی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف دو اہم ہوم ٹیسٹ سیریز سے محروم ہو سکتے ہیں، جس سے پی سی بی کے موجودہ میڈیکل پینل کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے انکوائری ہونی چاہیے کہ آیا پی سی بی کے میڈیکل پینل نے شاہین شاہ کی انجری کے علاج کے لیے اپنے نقطہ نظر میں غلطی تو نہیں کی۔’

دوسری جانب پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر سرفراز نواز پرامید ہیں کہ شاہین شاہ جلد دوبارہ میدان میں اتریں گے، تاہم انہوں نے پی سی بی کی جانب سے فاسٹ باؤلر کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں میچ سے قبل پریکٹس کا موقع نہیں ملا۔ سرفراز نواز نے ڈان کو بتایا کہ آپ (پی سی بی) نے جولائی سے کوئی میچ کھیلے بغیر شاہین شاہ کو براہ راست ہائی پروفائل ورلڈ کپ میں شامل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ورلڈ کپ سے پہلے کوئی کھیل کھیلتے تو ان کی فٹنس کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا تھا اور یہ ثابت کیے بغیر انہیں منتخب نہیں کرنا تھا۔ سرفراز نواز کا خیال ہے کہ ٹی 20 سے قبل نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز میں شاہین شاہ کو آزمانے کا ایک اچھا موقع تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ میں سہ ملکی سیریز کھیلی ، اس لیے شاہین شاہ کو ان میں سے کسی ایک میچ میں ٹیسٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ سرفراز نواز نے سری لنکا کے خلاف پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کے دوران انجری کے بعد شاہین شاہ کو ہالینڈ کے خلاف سیریز اور ٹی 20 ایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ میں شامل کرنے کے پی سی بی کے فیصلے پر تنقید کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں