کون سی بیماری کس ماہ میں؟

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سرد موسم نزلہ و زکام کا باعث بنتا ہے، جبکہ بہار کے موسم میں زردانوں سے حساسیت رکھنے والوں کو دمہ پریشان کئے رکھتا ہے۔ لیکن سال کے بارہ مہینے ہماری صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کے اس کے متعلق ایک تحقیقی کالم برطانیہ کے راجر ڈوب سن نے ڈیلی میل میں شائع کیا ہے۔ ہم غیر متوقع طور پر سال بھر مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ کچھ کے متعلق تو ہمیں معلومات ہوتی ہیں، لیکن کچھ سے ہم بالکل نابلد رہتے ہیں لیکن اگر ہم سال کے بارہ مہینوں کا بالترتیب جائزہ لیں تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ سال کا پہلا مہینہ:

جنوری:

اس مہینے میں کولیسٹرول کا لیول بڑھ جاتا ہے، مسوڑوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہےاور شرح اموات بھی اس ماہ میں زیادہ ہو تی ہے۔ جنوری میں کولیسٹرول اور Triglycerides کی سطح اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ جبکہ گرمیوں میں یہ سطح بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس ماہ میں 22 فیصد لوگوں میں ہائی کولیسٹرول کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ جو گرمیوں میں بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کا سبب تو واضح نہیں ہو سکا، لیکن ایک سبب گرم موسم کا زیادہ درجہ حرارت اور اس موسم میں جسمانی سرگرمیوں کا بڑھ جانا بھی ہو سکتا ہے۔ جس کے باعث پلازمہ کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو کہ کولیسٹرول کے لیول کو گھٹا دیتا ہے۔ اس ماہ میں اموات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اس ماہ میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور جسم میں بیماریوں سے لڑنے والے “T-Cells” کم سرگرم ہوتے ہیں جس کے باعث اس ماہ میں اموات واقع ہوتی ہیں۔ جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ماہ میں مسوڑوں کے امراض بھی زیادہ پائےجاتے ہیں۔

فروری:

اس ماہ میں امراض چشم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ریٹنا میں خون کی سپلائی متاثر ہو جانے کی وجہ سے کچھ لوگوں میں اندھے پن کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں 40 فیصد لوگ آنکھوں کے ٹشو متاثر ہونے سے آنکھوں سے متعلق مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح حمل کے حوالے سے بھی فروری اور مارچ کو بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ ستمبر کا مہینہ تولیدی حوالے سے بہت کم سرگرم تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین اس کا سبب بتانے سے قاصر ہیں۔

مارچ:

اس ماہ میں منہ کے چھالے بہت بڑھ جاتے ہیں مارچ کے مہینے میں Cold Sores کا بہت اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ اگست میں اس میں ابھار دیکھنے میں آتا ہے۔ اس ماہ میں قوت مدافعت کی کمزوری کے باعث دہانے کے اردگرد چھالے وغیرہ دیکھنے میں آتےہیں جن کا سبب سورج کی تمازت کو بتایا جاتا ہےاس طرح اگست میں بھی دھوپ کی تیزی اور گرمی کے باعث اس بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ماہرین مارچ کے مہینے کو سرجری کے لئے زیادہ محفوظ قرار دیتے ہیں۔ وہ مریض جو بہار میں آپریشن کرواتے ہیں ان کے صحت یاب ہونے کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ نتائج 200,000 جگر کے کینسر میں مبتلا مریضوں پر تحقیقی کے بعد مرتب کئے گئے ہیں۔ وہ لوگ جو سردی میں آپریشن کرواتے ہیں ان میں 33 فیصد اموات کا خطرہ موجود رہتاہےاسی طرح دل کے بائی پاس یا معمولی پروسیجرکے حوالے سے یہ خدشہ پایا جاتا ہے۔ماہرین اسے موسمیاتی ڈپریشن اور لائف اسٹائل کا سبب قرار دیتے ہیں۔

اپریل:

اس ماہ میں لوگ عموماً درد سر کا شکار نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم بہار میں اکثر لوگ دردسر میں مبتلا نظر آتے ہیں اسی طرح ستمبر کے مہینے میں بھی اس کی شکایت پائی جاتی ہے جس کے باعث کچھ لوگ اعصابی تناؤ اور تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین اعصابیات اس کا تعلق Hypoth Alamus سے بتاتے ہیں، یہ دماغ کا وہ حصہ ہوتا ہے جو جسم کی گھڑی اور Hormonal Fluctuations کو کنٹرول کرتا ہے۔

مئی:

اس ماہ میں معدے واجابت کے امراض اور اعصابی نظام کی متعدد شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ موسم بہار اور موسم گرما میں IBS (ڈائریا اور قبض) کے امراض بہت بڑھ جاتے ہیں۔ موسم خزاں اور سرما کے مقابلے میں یہ امراض اس ماہ میں 59 فیصد سے زیادہ ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح السر اور قولنج کے کیسز میں 27 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موسم میں انفیکشن بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اعصابی تناؤ کے امراض میں سوزش یا ورم بھی مئی اور ستمبر کے مہینے میں زیادہ ہوتا ہے، کیوں کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے مدافعت کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔

جون:

اس ماہ میں لوئر بلڈ پریشر کی شکایت بہت عام ہوتی ہے۔ سال کے دیگر مہینوں کے برعکس اس ماہ میں فشار خون عموماً گھٹ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق معمر افراد میں عموماً سردیوں میں ہائی بلڈ پریشرر کی شکایت بڑھ جاتی ہے ڈاکٹرزکے مطابق سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے یہ شکایت ہو تی ہے، جبکہ گرمیوں میں اس کی خاصی مقدار میسر ہوتی ہے جو کہ ہمارے ہارمون کو سرگرم کر کے ہمارے دوران خون کو نارمل کر دیتی ہے۔

جولائی:

اپنڈکس اورلیگس السر یا پیروں اور ٹانگوں کی سوجن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں اکثر لوگوں کو ٹانگوں میں زخم پڑ جانے کی شکایت ہوجاتی ہے جو اس موسم میں بہت سست روی کے ساتھ تندرست ہوتے ہیں۔ماہرین اس کی وجہ ، موسمیاتی تبدیلی کا قوت مدافعت پر اثر قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ اس ماہ میں کثرت کے ساتھ اپنڈکس کے کسز ریکارڈ ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اپنڈکس کے حوالے سے بھی یہ مہینہ خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔

اگست:

اس ماہ میں پروسٹیٹ امراض بڑھ جاتے ہیں اور کینسر کے ابھرنے اور تشخیص کے حوالے سے بھی بہت کیسز سامنے آتے ہیں۔ European Urology Generalکے مطابق اس کا تعلق بھی وٹامن ڈی سے ہوتا ہے، تحقیق کے مطابق ایک ملین افراد کو برطانیہ میں گرمیوں اور خزاں میں کینسر تشخیص کیا جاتا ہے، جو کہ تندرست ہو کر طویل عمر پاتے ہیں اس کی اہم وجہ وٹامن ڈی جس کی اس ماہ میں زیادتی کینسر کی گروتھ بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ستمبر:

س ماہ میں دمہ کے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ابتدائی ایام میں بچوں کا دمہ شدت اختیار کر جاتا ہے اور انہیں اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔

اکتوبر:

معدے کا السر، جوڑوں کا درد اور کیل مہاسوں کی شکایت اس ماہ میں بہت عام ہو جاتی ہے۔ اگست کی نسبت اس ماہ میں معدے اور آنتوں کے السر میں اضافہ ہو جاتا ہے اس ماہ میں چھوٹی آنت کے السر میں بہت تیزی آ جاتی ہےکیوں کہ ہمارے نیند کے ہارمون دن کی روشنی میں سرگرم رہتے ہیں لیکن دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان میں کمی واقع ہوتی ہےجو السر کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح جوڑوں کے درد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے یہ اکتوبر اور مارچ کے مہینے میں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی علامات سردیوں کے دوران مزید بڑھ جاتی ہیں۔ کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے مدافعتی عمل کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث کیل مہاسے بھی تیزی سے ابھرنے لگتے ہیں اس کی وجہ سورج اور وٹامن ڈی کو تصور کیا جاتا ہے۔

نومبر:

اس ماہ میں پھیپڑے کے امراض، چنبل اور شیر خوار بچوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نیلا پڑ جانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ یعنی دوران خون میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ان کی رنگت نیلی پڑ جاتی ہے۔ سرد موسم میں بہت سے لوگوں کی سانس کی نالیوں کے امراض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سویڈش تحقیق کے مطابق سال کے آخری تین ماہ میں بچوں کی پیدائش کے عمل سے گزرنےوالی خواتین عموماً پوسٹ برتھ ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح انڈیا میں 42 فیصد جلدی امراض میں اضافہ ہو جاتا ہےجس کے لئے الٹراوائٹ شعاع کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

دسمبر:

اس ماہ میں کھانسی اور وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس ماہ میں حاملہ خواتین میں ہائی بلڈ پریشر کی شکایت عام ہوتی ہے۔ اس ماہ میں انفیکشن، دمہ اور وٹامن ڈی کے لیول میں کمی مختلف امراض پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں