وائی فائی کی مدد سے جہاز کی ہائی جیکنگ

Wi-fi اور انٹرٹینمنٹ سسٹم پر کنٹرول کر کے طیارے کو ہائی جیک یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔جرمن جہاز پر سائبر اٹیک ناکام بنایا جا چکاہے۔

ماہر ہیکرز فضا میں محو پرواز مسافر بردار طیاروں کے wi-fi اور انٹرٹینمنٹ سسٹم کی مدد سے اس کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ اور اسے کہیں بھی لینڈ کرا سکتے ہیں۔ جبکہ وائی فائی نظام کی مدد سے ہیکرز کسی بھی مسافر بردار طیارے کے نیوی گیشن سسٹم کا کنٹرول حاصل کر کے اس کو گرا بھی سکتے ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی ’’انٹرافیکس کی رپورٹ میں برطانوی ماہر ’’روبن سانتامارتا‘‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسافر طیارے اپنے انٹرنیٹ وائی فائی سسٹم کی وجہ سے ایک نئے خطرے کی زد میں آ چکے ہیں کیوں کہ دنیا میں ایسے کئی ہیکرز موجود ہیں جو مسافر بردار طیاروں کے وائی فائی سسٹم کی مدد سے طیارے کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ برطانوی جریدے ڈیلی میل ی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی ایک سائبر سکیورٹی کمپنی IO Active سے منسلک سائبر ماہر، رابن سانتا مارتا نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں جرمنی کے ایک طیارے کے وائی فائی سسٹم کی مدد سے اس کا نیوی گیشن سسٹم کنٹرول کرنے کی ایک ہیکر ی کوشش کو ناکام بنایا جا چکا ہے، جو جرمنی کے شہر برلن میں بیٹھ کر مسافر بردار طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن سائبر سکیورٹی ماہرین نے ’’ایمرجنسی سگنل‘‘ ملنے کے بعد اس کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ تاہم اس کوشش نے سائبر سکیورٹی اور ایوی ایشن سکیورٹی کے عالمی ماہرین کے کان کھڑے کر دئیے ہیں۔
چینی جریدے South China Morning Post کے مطابق ہیکنگ کے محقق، روبن نے امریکی ریاست لاس ویگاس میں Black Hat Hacking Conference میں ایک ڈیمونسٹریشن کے ذریعے اپنے لیپ ٹاپ کی مدد سے فضا میں محو پرواز کا کنٹرول سنبھالنے کا مظاہرہ کیا۔ اس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ عالمی فضائی کمپنیوں کے طیاروں میں بزنس کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں کو دوران پرواز wi-fi کی مدد سے انٹرنیٹ کے استعمال کی اجازت سے کیا کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ واضح رہے کہ بیشتر یورپی اور امریکی فضائی کمپنیوں کی بزنس کلاس میں تمام مسافروں کو انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ گیمز کی اجازت ہے۔ جاپانی ماہرین نے بھی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طیاروں میں وائی فائی اور انٹرنیٹ نظام کی اجازت کے حساس قسم کے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب کئی امریکی اور برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی ہیکر، مسافر کے روپ میں طیارے کے اندر داخل ہو کر کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک یہ مشکل ہے کہ کوئی ہیکر طیارے کا کنٹرول سنبھال سکے۔ واضح رہے کہ 2013ء میں گم ہو جانے والے ملائشین طیارے کے بارے میں بھی بعض محققین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ گمشدہ طیارے کو ایک سپر پاور ملک کے اواکس طیارے کی مدد سے اس کا کنٹرول حاصل کر کے اغوا کیا گیا تھا اور اس کی کہیں لینڈنگ بھی کرائی گئی تھی۔ لیکن اس ضمن میں عاملی میڈیا نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی ’’انٹرافیکس‘‘ کے مطابق امریکی ماہرین نے خدشہ ظاہر ہے کہ برطانوی محقق ’’رابن‘‘ کی ڈیمونسٹریشن کے درست ثابت ہو جانے کے بعد یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا بھر میں پرواز کرتے طیاروں کو اغوا کرنا یا انہیں مس گائیڈ کرنا کسی ماہر بھی ہیکر کے لیے ممکن ہے۔ واضح رہے کہ وائی فائی نظام کی مدد سے ماضی میں امریکی بغیر پائلٹ طیاروں کی حساس معلومات ’’القاعدہ‘‘ کے ہاتھوں میں جا چکی ہیں اور عالمی ماہرین اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ وائی فائی کا غیر محفوظ استعمال دنیا بھر میں کئی قسم کے مسائل کھڑا کر سکتا ہے جس کی نگرانی اور سکیورٹی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانوی جریدے ’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ wi-fi سسٹم سے زمین پر موجود یا طیارے ہی میں مسافر کے بھیس میں موجود کوئی بھی ہیکر ’’ڈی کوڈنگ سسٹم‘‘ یا ’’ریورس انجینئرنگ ٹیکنالوجی‘‘ کی مدد سے مسافر بردار طیارے کا سسٹم کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں