نو سربازوں نے ڈاکٹر کو الٰہ دین کا جعلی چراغ فروخت کر دیا

بھارتی ڈاکٹر نے چند ماہ قبل ’’طلسمی چراغ‘‘ ایک کروڑ میں خریدا تھا۔ بارہا رگڑنے کے باوجود ’’جن‘‘ برآمد نہ ہوا تو مشتعل ہو کر خریدار نے نوسربازوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ دو ملزمان گرفتار۔

بھارتی ڈاکٹر اپنی جیون بھر کی جمع پونجی اس امید پر گنوا بیٹھا کہ وہ ’’الٰہ دین کے چراغ‘‘ میں قید جن کو اپنے تابع کر لے گا ااور اس کی مدد سے اربوں روپے کمائے گا۔ بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دو شاطر ملزمان نے ڈاکٹر لئیق خان کو شیشے میں اتار کر اس کو عام سا پیتل کا چراغ الٰہ دین کا طلسمی چراغ قرار دے کر ایک کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔ لیکن بار ہا رگڑنے پر بھی اس چراغ میں سے نہ تو دھواں نکلا اور نہ ہی جن برآمد ہوا۔ اپنے ساتھ ہونے والی نو سربازی کی واردات کا یقین ہونے کے بعد لٹنے والا ڈاکٹر پولیس اسٹیشن پہنچ گیا، جہاں مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے پاس ’’طلسمی چراغ‘‘ بھی برآمد ہو کر بطور مال مقدمہ موجود ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ حیران کن واقعہ شمالی ریاست اترپردیش میں پیش آیا۔ ’’طلسمی چراغ‘‘ بتا کر ایک عام سا چراغ ایک کروڑ روپے کے عوض ڈاکٹر کو بیچا گیا۔ پولیس حکام نے چراغ کے ساتھ ساتھ اس کو بیچنے والے دو ملزمان اور ان کے ’’بڈھے جن‘‘ کو بھی پکڑ لیا ہے، جو رات کے اندھیرے میں جن کا بھیس بدل کر دھویں سے نکلا تھا اور خریدار کو ’’کیا حکم ہے میرے آقا؟‘‘ کہہ کر خوش کر دیا تھا۔ تفتیشی افسر ارون کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے شمالی ریاست اترپردیش میں ڈاکٹر کو کم از کم دو بار جن نکلتے ہوئے بھی دکھایا تھا جس کی وجہ سے خریدار کو یقین ہو گیا تھا کہ چراغ اصلی والا ’’طلسمی چراغ‘‘ ہے اور اس کو مخصوص ٹائمنگ میں رگڑنے سے جن بھی نکلتا ہے اور اپنے مالک کی ہر خواہش کو پلک جھپکتے ہی پورا کر دیتا ہے۔ ریاستی پولیس کے ایک سینئر تفتیشی اہلکار کہنا ہے کہ یہ چراغ پرانے پیتل کا بنا ہوا ہے جسے چالاک ملزمان نے طلسمی چراغ کا لالچ دے کر ڈاکٹر لئیق خان لوٹ لیا۔ پولیس کو دیئے جانے والے بیان میں ڈاکٹر لئیق خان نے بتایا کہ دونوں ملزمان نے ان سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ انہیں ایسا طلسمی چراغ فراہم کریں گے جس کو رگڑنے سے ایسا جن نکلے گا کو اس کی ہر خواہش کو پورا کر دے گا۔ ملزمان نے ڈاکٹر کو یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس چراغ کو خود لاکھوں روپے میں خریدا ہے۔ پولیس تفتیش کار نے بتایا ہے کہ دونوں ملزمان نے اس طلسمی چراغ کے اندر سے جن کو باہر نکالنے کے لیے ایک ڈرامہ بھی کیا تھا اور رات میں ڈاکٹر لئیق کو بلوا کر ایک بوڑھے کو جن کا روپ دھار کر کمرے کے باہر چھپا دیا تھا اور جب ڈاکٹر کو اس جن کے باہر نکلنے کا منظر دکھانے کا وقت آیا تو دونوں شاطر ملزمان نے ایک انگیٹھی کوئلوں سے دہکا کر رکھ دی اور کمرے کی لائٹیں بند کر کے اسی دوران ڈاکٹر کو حکم دیا کہ چراغ کو رگڑو اور کہو کہ ’’الٰہ دین کا جن حاضر ہو‘‘ اسی دوران نے ملزمان نے کوئلے دہکتی انگیٹھی پر ڈھیر سارا پسا ہوا لوبان چھڑک دیا جس سے زبردست خوشبودار دھواں پھیل گیا اور کمرے کے باہر بیٹھا ہوا جن کا روپ دھارنے والا بڈھا شخص پرانا چغہ پہن کر اندر گھس آیا اور دھویں کے مرغولے میں سے نکل کر سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ’’کیا حکم ہے میرے آقا؟‘‘ ڈاکٹر نے پولیس کو بتایا کہ اس جن کو دیکھنے پر اس کا یقین پکا ہو گیا کہ یہ حقیقی طلسمی چراغ ہے اور اس کو خریدنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ریاست اترپردیش پولیس کے کمشنر امیت روئے نے بتایا کہ ان دونوں شاطر ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی تفتیشی تحویل میں ریمانڈ پر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں