ارطغرل غازی کے جائے مدفن سے سونے کا ذخیرہ دریافت

99ٹن سونے کی قیمت 6 ارب ڈالر کے مساوی ہے۔ سونا نکالنے کا کام 3 برس میں مکمل ہو گا۔ سوگوت میں عظیم ترک سپاہی کا مقبرہ کئی بار ازسرنو تعمیر کرایا گیا۔

غازی ارطغرل بن سلیمان شاہ ترکمانی المعروف ارطغرل غازی کی ولادت کا زمانہ 1191ء کے آس پاس کا ہے۔ تاہم ان کی جائے پیدائش کون سی ہے۔ یہ مختلف حوالوں کے باوجود معلوم نہیں ہو سکا۔ بہرحال کائی قبیلے کے سردار اور عظیم سپہ سالار کو جس مقام پر دفن کیا گیا ہے وہ ترکی کے جنوب مغربی علاقے سوگوت میں واقع ہے۔ ارطغرل غازی کی وفات 1280ء بتائی جاتی ہے۔ سوگوت ترکی کے مرمرہ علاقے میں ایک شہر اور بلیجک صوبے کا ایک ضلع ہے۔ یہاں پر معروف محمود مسجد سے کچھ فاصلے پر ارطغرل غازی کا مزار واقع ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ارطغرل غازی کے شہر سوگوت سے ترک حکومت کو سونے کی سوغات ملی ہے۔ ارطغرل غازی کی جائے مدفن سے سونے کا ایک ایسا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے۔ جو کئی برس تک ترک معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔ سوگوت میں دریافت ہونے والے اس سونے کے ذخیرے کا مجموعی حجم 99 ٹن ہے۔ اور اس کی قیمت 6 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ سونا اتنی وافر مقدار میں موجود ہے کہ اسے نکالنے میں کم از کم تین برس کا عرصہ لگے گا۔ واضح رہے کہ سوگوت میں عظیم ترک سپہ سالار کا مقبرہ اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے۔ بلکہ اسے کئی بار ازسرنو تعمیر کرایا گیا ہے۔ ایک برطانوی تاریخ دان کے مطابق ارطغرل غازی کے مزار کی تزئین و آرائش یا تعمیر انیسویں صدی کے آخر میں بھی کرائی گئی تھی۔ اس دور میں سلطان عبدالحمید ثانی نے کمزور ہوتی سلطنت کی ساکھ بہتر کرنے کے لیے سوگوت میں ارطغرل غازی کا مزار ازسرنو تعمیر کرایا اور یہاں عثمانی دور کے شہیدوں کا ایک قبرستان بنایا۔ واضح رہے کہ سوگوت کا علاقہ سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد ارطغرل کے مدفن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سلطان علاؤالدین کیقباد اول نے ارطغرل غازی کی خدمات سے متاثر ہو کر اان کو سوگوت اور اس کے نواح میں واقع دوسرے شہر بطور جاگیر عطا کیے تھے۔ اس علاقے کو عثمانی ریاست کا پہلا دارحکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ترکی کے آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ نے سوگوت کے علاقے سے 99 ٹن سونا دریافت کیا ہے۔ ترک خبررساں ادادرے ’’اناطولو‘‘ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ 35 لاکھ اونس یعنی 99 ٹن سونے کے اس ذخیرے کی قیمت 6 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ واضح رہے کہ ارطغرل غازی عثمانی ریاست کے بانی عثمان کے والد تھے۔ جن کی فتوحات کے باعث عثمانی ریاست کا قیام ممکن ہوا تھا۔ سوگوت کے علاقے میں ارطغرل نام کی ایک چھوٹی سی مسجد اور ایک مزار ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ارطغرل کے بیٹے نے ان کے لیے بنائی اور پھر جس میں عثمان کے بیٹے ارہان نے اضافہ کیا۔ مؤرخ کیرولائن فنکل اپنی کتاب ’’عثمان کا خواب: سلطنت عثمانیہ کی کہانی‘‘ میں لکھتی ہیں کہ اس مسجد اور مزار پر اتنی بار کام ہوا ہے کہ اس کی پہلی تعمیر سے کوئی نشانی نہیں بچی۔ اس لیے کسی عمارت کے بارے میں پورے ااعتبار سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عثمانی دور کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں