اصحابؓ رسولؐ کی قبرکشائی اور جسد مبارک کی منتقلی کا عجیب واقعہ

حضرت حذیفہؓ بن الیمان اور حضرت جابر بن عبداللہؓ۔ یہ دو اصحاب رسولؐ کے مزارات اول مدائن میں تھے۔ اس کے بعد ایک خاص واقعہ ظہور پذیر ہوا جس کی وجہ سے ان دونوں حضرات کو موجودہ جگہ سلمان پارک کے قریب منتقل کر دیا گیا۔Exhumation of 2 Companions of the Prophet PBUH

حضرت حذیفہؓ بن الیمان جن کی کنیت ابوعبداللہ تھی نبی کریمﷺ کے نہ صرف صحابہؓ میں سے تھے بلکہ خاص اور ذاتی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپﷺ اکثر حذیفہؓ اور ان کے والدین کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تو حذیفہؓ اور اس لے والدین کو بخش دے۔ غزوہ احد و خندق میں شریک ہوئے بلکہ غزوہ احد میں عورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری آپؓ کو سونپی گئی۔ جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے آپ کو دریائے دجلہ کے اردگرد کا علاقے کا گورنر مقرر کر دیا۔ بعد میں آپ نے آذربائیجان کا علاقہ فتح کیا اور مدائن کے گورنر مقرر ہوئے۔ یہ حضرت حذیفہ ہی تھے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کو قرآن یکجا کرنے کا مشورہ دیا۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ جید صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ حضورﷺ ضرورت کے وقت آپؓ سے قرض لیا کرتے تھے۔ خندق سمیت بہت سے غزوات میں نبی کریمﷺ کے ساتھ رہے۔ بیت رضوان اور حجۃالوداع کے موقع پر آپ بھی موجود تھے۔

بادشاہ فیصل کو خواب میں حکم

یہ دونوں صحابہ کرامؓ سلمان پارک سے دو فرلانگ کے فاصلے پر دریائے دجلہ کے کنارے مدفون ہوئے۔ عراق کے شاہ فیصل اول نے خواب میں حضرت حذیفہؓ کو دیکھا ۔ آپ نے شاہ فیصل اول سے فرمایا ’’میری قبر میں پانی اور جابرؓ کی قبر میں نمی آنی شروع ہو گئی ہے، اس لیے آپ ہم دونوں کو یہاں سے منتقل کر دیں اور دریا سے کچھ فاصلے پر دفن کر دیں۔ صبح ہوئی تو بادشاہ اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف رہا اور وہ یہ خواب بھول گیا۔
دوسری رات حضرت حذیفہؓ نے پھر یہی بات دہرائی اور شاہ فیصل پھر بھول گیا۔
تیسری رات عراق کے مفتی اعظم کے خواب میں حضرت حذیفہؓ آئے اور کہا کہ ہم دو راتوں سے بادشاہ سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرو، مگر وہ ہر روز بھول جاتا ہے۔ آپ بادشاہ کو متوجہ کریں اور ہمیں یہاں سے منتقل کریں۔ مفتی اعظم بیدار ہوئے تو بےحد پریشان تھے اور فوری طور پر وزیراعظم سعید پاشا سے فون پر بات کی اور انہیں تمام خواب سنایا۔ وزیراعظم مفتی اعظم کو ساتھ لے کر شاہ فیصل کے پاس آیا۔ مفتی اعظم نے شاہ پر زور دیا کہ صحابہ کرامؓ مزارات کی جگہ تبدیل کریں۔
شاہ نے تجویز دی کہ پہلے اس بات کی تصدیق کر لینی چاہیے کہ آیا دریا کا پانی ان کے مزارات کی طرف آ بھی رہا ہے یا نہیں؟ چنانچہ محکمہ تعمیرات نے دریا سے بیس فٹ فاصلے پر بورنگ کی اور لیبارٹری ٹیسٹ لیے۔ اس موقع پر مفتی اعظم ساتھ رہے، لیکن جو رپورٹیں مرتب ہوئیں ان میں پانی کا مزارات کی طرف آنا تو درکنار نمی تک ثابت نہ ہو سکی۔
لیکن اس رات پھر حضرت حذیفہؓ نے خواب میں شاہ سے اپنا مطالبہ دہرایا۔ چونکہ ماہرین تعمیرات کی رپورٹیں شاہ کو مل چکی تھیں اس لیے اس نے اسے محض خواب سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ اگلی رات حضرت حذیفہؓ مفتی اعظم کے خواب میں آئے اور نہیں سختی سے کہا کہ پانی ہمارے مزارات میں گھسا چلا آ رہا ہے اور آپ پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔

تمام رپورٹیں غلط ثابت ہوئیں

مفتی اعظم اسی وقت گھبرائے ہوئے شاہ فیصل کے پاس پہنچے اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔ شاہ نے اس موقع پر جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا کہ مفتی صاحب آپ ماہرین کی رپورٹ ملاحظہ کرنے کے باوجود مجھے پریشان کر رہے ہیں۔ مفتی اعظم نے کہا رپورٹوں کے باوجود مجھے اور آپ کو برابر حکم دیا جا رہا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ براہ کرم مزارات کھلوا دیجئے۔ اس پر شاہ فیصل نے کہ پھر ٹھیک ہے آپ فتویٰ صادر فرما دیں۔ فتویٰ ملنے کے ساتھ ہی سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ظہر کی نماز کے بعد حضرت حذیفہؓ اور حضرت جابرؓ کے مقبرے کھولے جائیں گے اور انہیں دوسرے مقام پر دفن کیا جائے گا۔
اخبارات میں قبرکشائی کا اشتہار شائع کر دیا گیا۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی دنیائے اسلام میں کھبلی مچ گئی۔ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں اور اخبارات کے نمائندے عراق پہنچنا شروع ہو گئے۔ چونکہ حج قریب تھا، اس لیے حکومت عراق نے مسلمانان عالم کی اپیل پر حج کے بعد مزارات کھولنے کی اپیل منظور کر لی۔
اب صورت حال یہ ہوئی کہ پوری دنیا سے عراق کے شاہ کو تار اور ٹیلی فون موصول ہونے شروع ہو گئے کہ مزارات کی تاریخ بڑھائی جائے تا کہ وہ صحابہؓ کے جنازوں میں شریک ہو سکیں۔ بہرحال عید کے دس دن بعد مزارات کھولنے کا فیصلہ ہوا۔
اس دوران قریباً پانچ لاکھ افراد سلمان پارک میں جمع ہو گئے حتیٰ کہ غیر مسلم بھی اس عجیب و غریب صورت حال کو بہ چشم خود دیکھنے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ حکومت عراق نے کسٹم، ویزا اور کرنسی وغیرہ کی پابندیاں ختم کر دیں، دنیائے اسلام کے سرکاری وفود کے علاوہ مصر کے شاہ فاروق بھی جنازے میں شرکت کے لیے آئے۔

آنکھوں کی چمک

شاہ عراق اور عمائدین کے علاوہ پانچ لاکھ افراد کی موجودگی میں مزارات کھولے گئے، تو واقعتاً حضرت حذیفہؓ کی قبر میں پانی اور حضرت جابرؓ کی قبر مبارک میں نمی آ چکی تھی حالانکہ رپورٹیں اس کے برعکس تھیں اور دریا بھی دو فرلانگ کے فاصلے پر بہہ رہا تھا۔ اب ہر دو صحابہ کرامؓ کو قبر سے باہر نکالنے کا مسئلہ تھا، ایک جدید کرین کے ذریعے جس میں اسٹریچر کس دیا گیا تھا، دونوں حضرات کو پورے احترام سے اس طرح اٹھایا گیا کہ ان کے جسد مبارک اسٹریچر پر آ گئے اور شاہ عراق، شاہ مصر، مفتی اعظم عراق اور مصطفیٰ کمال پاشا کے نمائندے وزیر مختار نے اسٹریچر کو کندھا دیا اور بڑے ادب و احترام سے دونوں صحابیوںؓ کو شیشے کے بکس میں رکھ دیا۔
حضرت حذیفہؓ اور حضرت جابرؓ کے چہروں سے کفن ہٹائے گئے، لوگ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ دونوں صحابہ کرامؓ کے جسد مبارک محفوظ تھے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں کہ جیسے وہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں۔ سر اور داڑھی کے بال بالکل محفوظ تھے حتیٰ کہ کفن تک صحیح حالت میں تھا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ تیرہ سو سال پہلے کے انسانوں کے وجود ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ کوئی شخص آنکھ بھر کر انہیں دیکھ نہ سکتا تھا۔

غیر مسلم کا قبول اسلام

اس موقع پر جرمنی کا مشہور ماہر چشم بھی موجود تھا اس نے اپنی عادت اور پیشے کے مطابق صحابیوں کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا مگر اس کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور بعد میں اس نے مفتی اعظم عراق کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر عراق کی فوج سلامی بھی دی۔
چونکہ لاکھوں افراد جنازے میں شریک ہونے کی سعادت حاصل کرنے آئے تھے اور مزار کھولنے کا منظر دیکھنے سے قاصر تھے، ہٹربونگ کا بھی ڈر تھا، اس لیے اسکرینوں پر بذریعہ ٹی وی تمام کارروائی دکھائی گئی۔ زیارت عام کے بعد جنازوں کو سلمان پارک کی طرف لے جایا گیا، لاکھوں کا جمع ساتھ تھا، پر کائی کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا تھا، ہوائی جہاز فضا سے پھول برسا رہے تھے۔
نئے مزارات کے قریب جنازے لائے گئے۔ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور نعروں کی گونج میں دونوں یاران نبیؐ کو نئے مزارات میں منتقل کیا گیا۔ دور جدید میں یہ اسلام کی حقانیت کا اتنا بڑا ثبوت تھا کہ لاتعداد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ عرصے تک عراق کے سینماؤں میں اس واقعے کی فلم کی نمائش کی گئی۔

(کتاب: قبر کی زندگی از جاوید اقبال ڈسکوی)

Exhumation of 2 Companions of the Prophet PBUH

اپنا تبصرہ لکھیں