امام مالکؒ کا خواب اور غیب کی کنجیاں

امام مالکؒ اور امام ابن سیرینؒ کا زمانہ ایک ہے۔ امام مالکؒ جلیل القدر فقہی امام ہیں۔ مالکی فقہ آپ ہی کی طرف منسوب ہے۔ کروڑوں مسلمان آپؒ کے مسلک پر عمل کرتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی محبت آپ کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی تھی۔ آپ کو مدینہ منورہ کی مٹی کے ایک ذرے سے محبت تھی اور تمنا یہ تھی کہ کسی طرح مدینہ کی زمین میں دفن ہو جاؤں۔ اس کی وجہ سے مدینہ منورہ سے باہر نہیں جاتے تھے۔ نفلی حج کرنے کی شدید خواہش کے باوجود نفلی حج بھی نہیں کرتے تھے۔
ایک رات امام صاحبؒ نے خواب میں آنحضرتﷺ کی زیارت کی۔ دیکھا کہ رسول اقدسﷺ کا دربار ہے اور اس میں امام مالکؒ خود بھی حاضر ہیں۔ انہوں نے آنحضرتؐ سے بڑی لجاجت کے ساتھ عرض کیا کہ حضورؐ! میرا جی چاہتا ہے کہ مدینہ کی زمین مجھے قبول کر لے اور اسی لیے میں ڈر کے مارے نفلی حج بھی ادا نہیں کرتا۔ (کہ مکہ میں میرا انتقال نہ ہو جائے) تو مجھے یہ بتلا دیا جائے کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میری عمر کے کتنے سال باقی ہیں تو میں نفلی حج ادا کر لیا کروں۔
جواب میں رسالت مآبؐ نے اپنا دست مبارک انگلیاں کھول کر ان کے سامنے کر دیا۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔ اب امام مالکؒ حیران کہ پانچ دن مراد ہیں، پانچ ہفتے یا پانچ سال مراد ہیں؟ پانچ کا معمہ ان کی سمجھ میں نہیں آتاتھا۔ اس لیے امام صاحبؒ نے ایک شخص کو امام ابن سیرینؒ کے پاس بھیجا اور اس کو تاکید کی کہ یہ مت بتانا کہ یہ خواب میں نے دیکھا ہے اور خواب بیان کر کے جو وہ تعبیر دیں، آ کر مجھے بتانا۔ اس شخص نے امام ابن سیرینؒ سے پورا خواب بیان کیا۔ امام صاحبؒ نے خواب سن کر پوچھا۔ یہ خواب کس نے دیکھا ہے؟ عام آدمی یہ خواب نہیں دیکھ سکتا۔ یہ خواب کسی بڑے عالم نے دیکھا ہے۔ اور مدینہ میں اس وقت امام مالکؒ سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے۔ یہ انہوں نے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ مجھے نام بتانے کی اجازت نہیں ہے۔
امام صاحبؒ نے فرمایا: واپس جاؤ۔ اجازت لے کر آؤ۔ نام بتاؤ تب میں تعبیر بتلاؤں گا۔ وہ شخص واپس آ گیا۔ اس نے امام مالکؒ سے عرض کیا کہ حضرت! وہ تو پہچان گئے کہ خواب دیکھنے والے آپ ہیں۔ فرمایا اچھا میرا نام بتا دو۔ اس نے آ کر امام ابن سیرینؒ کو نام بتایا تو انہوں نے فرمایا: امام مالکؒ ہی یہ خواب دیکھ سکتے ہیں۔ پھر تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے اپنی عمر پوچھی تھی۔ اس کے جواب میں رسول اقدسؐ نے پانچ انگلیاں دکھا دیں۔ اس سے نہ پانچ برس مراد ہیں، نہ پانچ مہینے اور نہ پانچ ہفتے یا دن، بلکہ آپؐ نے ایک حدیث اور قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
حدیث کا مضمون تو یہ ہے کہ ’’کسی کی موت کا وقت ان پانچ چیزوں میں سے ہے، جن کا علم خدا کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہے۔‘‘ اور قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے:
’’خدا ہی کے پاس ہے قیامت کا علم کہ کب آئے گی؟ اور بارش کی اصلیت و حقیقت (کہ کہاں برسے گی وغیرہ) اور ماں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا کام کرے گا؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرے گا (دفن کیا جائے گا)؟‘‘
امام مالکؒ کو یہ علمی تعبیر دی گئی اور چونکہ اس تعبیر کا تعلق علم سے ہے۔ اس لیے آنحضرتؐ یہ جواب کسی عالم ہی کو دے سکتے تھے۔
(خطبات حکیم الاسلام حضرت قاری طیبؒ جلد، 1 صفحہ 67)

اپنا تبصرہ بھیجیں