اُردو کا جنازہ جو اب لازم ہے کہ نکلے

ذیشان احمد

۰۶ اکتوبر ۲۰۲۱ء

فروری کی 21 تاریخ کو تمام دنیا مادری زبان کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے مگر پاکستان میں یہ دن نہیں منایا جاتا اور نہ ہی میڈیا پر اس دن کی مناسبت سے کوئی پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔ میں کبھی سمجھ نہیں سکا کہ ہمارے اس دن کو یوں نظر انداز کرنے پیچھے کوئی شرمساری ہے یا پھر ہم آج بھی تعصب کی انہی گھاٹیوں میں پڑے ہوئے ہیں جس میں پچھتر سال پہلے تھے؟

پاکستان میں ہر سال یہ دن کیوں فراموش کر دیا جاتا ہے اس کی تفصیل جاننے کے لیے ہمیں پچھتر سال قبل کے ڈھاکہ کی طرف جانا پڑے گا جب پاکستان بننے کے فقط چار ماہ بعد یعنی 10 دسمبر 1947ء کو ڈھاکہ کے اسکول اور کالجز کے طلباء سڑکوں پر نکل آئے تھے وہ صوبائی سیکریٹریٹ کے سامنے سراپا احتجاج تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ؛

”پاکستان میں اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے“

یہ وہ شعلہ تھا جو بعد میں بھڑک کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر گیا، پاکستان کے اربابِ اختیار اس وقت اس شعلے کو بھانپ نہ سکے، وہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے ہی میں محوِ سراب تھے، انہیں احساس نہیں تھا کہ نظریہ پاکستان ہندوؤں کے مقابلے میں تو بہت طاقتور تھا مگر آپسی معاملات میں کارگر نہیں تھا۔۔۔

ان مظاہروں کے تین ماہ بعد 21 مارچ 1948ء کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بحیثیت گورنر جنرل اپنے دورۂ مشرقی پاکستان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ؛

”میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے۔ اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی۔ لیکن یہ میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو ہو گی اور صرف اُردو۔ اُردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اُردو ہی ہو گی۔“

قائداعظمؒ کے اس بیان کے بعد ڈھاکہ میں احتجاجاً ہڑتال کی گئی مگر قائداعظمؒ نے 28 مارچ 1948ء کو ریڈیو پر دوبارہ اپنا یہی بیان دہرایا اور ایک بار پھر اُردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان ڈکلیئر کیا۔

قراردادِ پاکستان کے پیشکار ابولقاسم فضل الحق جنہیں قائداعظمؒ نے ’’شیربنگال‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا انہوں نے قائداعظمؒ کے اس بیان پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گورنر جنرل کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ بتائے کہ ملک کی سرکاری زبان کون سی ہو گی، یہ فیصلہ عوام کریں گے۔

میں بنگالی زبان کی اس تحریک کو درست نہیں سمجھتا، اس مطالبہ میں لسانیت اور خود غرضی کی بو آتی ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ممکن نہیں تھا۔ ملک میں بنگالی کے علاوہ پنجابی، بلوچی، سندھی اور پشتو جیسی بڑی زبانیں بھی تھیں اگر بنگالی زبان کو سرکاری زبان قرار دے دیا جاتا تو انہیں بھی یہ حق حاصل تھا کہ ان کی زبانوں کو بھی سرکاری حیثیت دی جائے۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مغربی پاکستان نے اس مطالبے پر جو رویہ اپنایا وہ غلط تھا جو اس شعلے کو بجھانے کی بجائے اس کو ہوا دے کر دہکانے کا باعث بنا۔

جنوری 1952ء میں اس وقت کے بنگالی وزیراعظم خواجہ ناظم الدّین نے قائداعظمؒ کا بیان دہرایا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اُردو ہو گی۔ اس بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر مشرقی پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور 21 فروری 1952ء کو عام ہڑتال کی گئی۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں انہی جھڑپوں میں پولیس کی فائرنگ سے متعدد طلباء جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان جاں بحق ہونے والوں کو مغربی پاکستان میں شرپسند، دشمن عناصر اور غدار کہا گیا جبکہ مشرقی پاکستان میں یہ لوگ شہید کہلائے گئے۔

زبان کا یہ جھگڑا اب شدت اختیار کر چکا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ سے علیحدہ ہونے والی عوامی مسلم لیگ نے بطور احتجاج اپنا نام تبدیل کر کے ”عوامی لیگ“ رکھ لیا اور ابولقاسم فضل الحق نے بھی اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لی، دونوں نے ”جگتو فرنٹ“ کے نام سے اتحاد کر کے 1954ء کے صوبائی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی اور پاکستان مسلم لیگ کا مشرقی پاکستان سے تقریباً خاتمہ کر دیا۔

اس شکست کے بعد مرکز کی آنکھیں کھلیں اور انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تو 19 اپریل 1954ء کو بنگالی نژاد وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ بنگالی بھی پاکستان کی دوسری قومی زبان ہو گی۔ اس فیصلے کے خلاف بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے کراچی میں ایک لاکھ افراد کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کو غدار قرار دیا۔ لیکن تمام تر مخالفت کے باجود بنگالی کو دوسری قومی زبان کا درجہ مل گیا۔ اس شعلے کو بجھانے کی کوشش کی جا رہی تھی جو اب دہکتا ہوا لاوا بن چکا تھا۔

21 فروری 1952ء بنگلہ زبان کی تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والے شہداء کی یاد میں 21 فروری 1963ء کو ڈھاکہ میں’’شہید مینار ‘‘ تعمیر کیا گیا۔ نومبر 1999ء میں یونیسکو نے اس دن کو مادری زبان کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے ہر سال 21 فروری عالمی سطح پر مادری زبان مناسبت سے منایا جاتا ہے۔

نہ خدا ملا نہ وصال صنم

ہماری حالت بھی مذکورہ بالا مصرعے کی مانند ہے۔ اُردو زبان کے لیے اتنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والے مغربی پاکستان میں اُردو کی کیا وقعت ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہاں تعلیم کا معیار ہی انگریزی پر منحصر ہے جسے انگریزی نہ آتی ہو وہ جاہل تصور کیا جاتا ہے۔

میڈیا میں بیٹھے اکثر لوگ تلفظ میں غلطی کرتے ہیں جبکہ ان کا تعلق صحافت سے ہوتا ہے انہیں اُردو کی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اگر کسی نے اُردو میڈیم میں تعلیم حاصل کی ہو تو وہ انگلش میڈیم والے کے سامنے اپنی تمام تر قابلیت اور صلاحیت کے باوجود مسترد کر دیا جاتا ہے۔

اور دوسری طرف میں نے بہت کم ایسے انگلش دان دیکھے ہیں جنہیں ٹھیک طرح سے انگریزی آتی ہے ورنہ اکثر ”بابو لوگ“ جو انگریزی بولتے ہیں ان کے ذہن میں اُردو ہی ہوتی ہے جس کا ترجمہ کر کے وہ لوگ اٹکتے ہوئے ”گلابی انگلش“ بولتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے ہم نے جہاں اُردو کو اس کا مقام نہیں دیا وہیں انگلش کو بھی سرکاری زبان کے درجے سے محروم رکھا ہے، ہم بیچ میں لٹکے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت سے سبق لیجیے جہاں ہندی اور انگریزی ہر دو زبان سرکاری درجہ رکھتی ہے اس لیے وہاں ہندی اور انگریزی دونوں ہی پھل پھول رہی ہیں۔

اب جبکہ ہم نے اُردو کا قتل کر ہی دیا ہے تو اس کی لاش کو چوراہے پر رکھنے کی بجائے دفنا دینا چاہیے، کہ اب یہ لاش سڑاندا ہو چکی ہے اور اُردو انگلش میں تفریق پیدا کر کے معاشرے کو متعفن کر ہی ہے۔

رئیس امروہوی کی روح سے معذرت کرتے ہوئے ان کے مصرعے میں تضمین کرتا ہوں کہ؛

اُردو کا جنازہ جو اب لازم ہے کہ نکلے

نوٹ: یہ ایک الزامی تحریر ہے اسے تنقید کے زمرے میں ہی لیا جائے۔ حق تو یہ ہے کہ پاکستان میں اُردو زبان کو فروغ ملے اور انگریزی کا استعمال صرف ضرورت کی حد تک ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں