جب مسلمان علماء ایک عیسائی پادری سے سامنے بے بس ہونے لگے

1861ء میں انگریزوں نے مسلمانوں کی روحِ جہاد نکالنے کے لیے اسلامی تعلیمات کا ماہر پادری ہندوستان بھیجا۔ پادری نے مناظرے کر کے تمام مذاہب کے علماء کو خاموش کرا دیا۔ حاجی امداللہ مہاجر مکیؒ کے شاگرد حافظ رحمت اللہ کیرانویؒ نے الہ آباد کی بڑی کانفرنس میں عیسائی پادری کے اعتراضات کی دھجیا اڑا دیں۔ عیسائیت کی موجودہ تعلیمات کو بھی گمراہ کن ثابت کر دیا۔ muslim-scholars-vs-christian-pastor

یہ تب کی بات ہے جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کے خلاف بغاوت کون کر سکتا ہے۔ تحقیق کے بعد انہوں نے قرآن سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی کھڑا ہو سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے۔ جس کی روحِ جہاد کو نکالنا ضروری ہے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی طرح کے انتظامات کئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون جیسے فتنہ ساز تیار کئے۔ بریلوی، دیوبندی اختلافات کو ہوا دی اور فرقہ پرستی کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر 1861ء میں الٰہ آباد میں ایک عظیم کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ سرکاری سرپرستی میں برپا کی گئی کانفرنس تھی۔ اس کا نام ’’میلہ حق شناسی‘‘ رکھا گیا۔ اس میں تمام مذاہب کے علماء کو دعوت دی گئی کہ آئیں اور اپنے مذہب کے حق میں دلائل دیں، ہندو، سکھ، ڈوگرے، مسلمان۔ ہر مذہب کے بڑوں کو موقع دیا گیا کہ اپنے دین کی حقانیت ثابت کریں۔ عیسائیوں کی طرف سے پادری کارل گوٹلیب فینڈر نے اپنا کیس پیش کیا اور دیگر مذاہب کے جھوٹے ہونے کے حق میں دلائل دیے۔ اس کا اصل ہدف اسلام تھا۔ دراصل فینڈر نے بیس برس تک اسلامی تعلیمات سیکھنے میں صرف کئے تھے۔ وہ مختلف مسلمان ملکوں کا دورہ کر چکا تھا۔ وہاں کے علماء اور فرقوں کے بڑوں کے آگے زانوے تلمذ تہہ کر چکا تھا۔ وہ عربی کا ماہر تھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ اسلام اور اصول اسلام پر عبور رکھتا تھا۔ اسے برطانوی حکومت نے تیار کیا تھا۔ تا کہ ہندوستان کے طول و عرض میں مولویوں اور علمائے کرام سے مناظرے کر کے انہیں غلط ثابت کرے اور اسلام کو غلط گمراہ کن اور جھوٹا مذہب ثابت کرے (نعوذ باللہ)۔ فینڈر اپنے علمی ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہندوستان آیا تو اس نے طوفان برپا کر دیا۔ ملک بھر میں گھومتا رہا اور ہزاروں کے مجمع میں مسلمان علماء سے مناظرہ کرتا رہا۔ اس کے علم کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ جو اعتراض وہ اٹھاتا وہ مولوی حضرات کے بس سے باہر تھے۔ نتیجہ یہ کہ جواب دینے سے قاصر رہتے اور فینڈر مونچھوں پر تاؤ دیتا رخصت ہو جاتا۔ ان مناظروں کی اطلاع دارالعلوم دیوبند کے ایک بزرگ سرپرست حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کو ہوئی تو انہوں نے اپنے ایک خلیفہ خاص مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو تیاری کا حکم دیا۔ حاجی صاحب اور مولانا دونوں مکہ میں مقیم تھے۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ مکہ کے مدرسہ صولتیہ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے تیاری کی اور الہ آباد کے میلہ حق شناسی میں پہنچ گئے۔ جہاں ایک کے بعد ایک مذہب کا عالم آتا گیا اور اپنے مذہب کے حق میں دلائل دیتا رہا۔ جواباً فینڈر اعتراضات کی بوچھاڑ کر کے اسے پچھاڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسلام پر بات کرنے کا وقت آ گیا۔ تب فینڈر نے انتہائی مشکل اعتراضات پر مشتمل ایک تفصیلی تقریر کی اور دعویٰ کیا کہ اسلام نعوذباللہ جھوٹا مذہب ہے۔ پھر اس نے اسٹیج سے چیلنج کیا کہ کوئی عالم ہے جو اس کے اعتراضات کا جواب دے؟ یہ اعلان کرنا تھا کہ رحمت اللہ کیرانویؒ کھڑے ہوئے اور اسٹیج پر پہنچ گئے۔ انہیں دیکھ کر فینڈر حقارت سے مسکرایا۔ کیوں کہ مولانا سب کے لئے اجنبی تھے۔ لیکن جب بولنا شروع کیا تو فینڈر سمیت ہزاروں کے مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔ البتہ وقفے وقفے سے مسلمانوں کے نعرہ تکبیر کی آوازیں گونجتی رہیں۔ مولانا صاحب نے فینڈر کے اعتراضات کی دھجیاں اڑا دیں۔ اور عربی زبان کے قواعد اور اصول سے ثابت کیا کہ فینڈر کی عربی میں بھی کوئی مہارت نہیں ہے بلکہ وہ جاہل مطلق ہے۔
اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا تفصیلی اور شافی جواب دینے کے بعد مولانا صاحب نے موجودہ عیسائیت پر اعتراضات اٹھانے شروع کر دئیے۔ یکے بعد دیگر کئی درجن عیسائی حوالوں سے ثابت کیا کہ موجودہ عیسائیت جھوٹی اور گمراہ کن ہے۔ اور اس کی تعلیمات وہ نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لائے تھے۔ حضرت کا خطاب علم کا شوریدہ سر دریا تھا۔ جس نے فینڈر اور عیسائیت کی موجودہ تعلیمات خس و خاشاک کی طرح بہا دیں۔ خطاب مکمل ہوا تو مجمع پر جادو ہو چکا تھا۔ فینڈر کا یہ حال ہو گیا تھا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ حیرت، خوف اور سکتے کا شکار تھا۔ اس کا غرور ریزہ ریزہ ہو چکا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور مولانا صاحب کی تقریر کا جواب دیے بغیر کانفرنس سے باہر چلا گیا۔ اس کے بھاگتے ہی ہزاروں کے مجمع نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو سر پر اٹھا لیا۔ مسلمانوں کا بس نہیں چلتا تھا کہ مولانا پر قربان ہو جائیں۔ اُدھر برطانوی حکام کو فینڈر کی شکست کی اطلاع مل چکی تھی۔ مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ کرنے اور اسلام کے بارےمیں شکوک پیدا کر کے مسلمانوں کو مذہب سے لاتعلق بنانے کی سب سے بڑی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ جس کا انہیں شدید غصہ تھا۔ انہوں نے مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور پادری فینڈر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کو اس لئے کہ انہوں نے سارے منصوبے میں کھنڈت ڈال دی۔ اور فینڈر کو اس لئے کہ اس نے برسوں کی سرمایہ کاری ضائع کر دی اور عیسائیت کا بدنام کیا۔ لیکن کہتے ہیں ناکہ ’’تدبیر کندبندہ، تقدیر زند خندہ‘‘ دونوں کو اپنے اپنے ذرائع سے منصوبے کی بھنک لگ گئی۔مولانا صاحب روپوش ہو گئے اور عراق کے راستے دوبارہ مکہ پہنچ گئے۔ جہاں ان کے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ان کا انتظار کر رہے تھے۔ فینڈر بھی فرار ہو کر استنبول چلا گیا۔ جہاں سلطان عبدالحمید کی حکومت تھی۔ فینڈر نے دربار سے رابطہ کیا اور سلطان کو بتایا کہ وہ ہندوستان بھر کے علماء کو مناظرے میں شکست دے چکا ہے۔ اور ترکی علماء سے مناظرہ کرنے آیا ہے۔ سلطان کی ایما پر ترکی علماء نے فینڈر سے مناظرے کئے۔ لیکن استعداد کم تھی لہٰذا عاجز آ گئے۔ فینڈر نے بھرے دربار میں ہنکارنا شروع کیا کہ لائیں کسی عالم کو جو مجھ سے مناظرہ کرے۔ سلطان یہ دیکھ کر بہر آزردہ ہوا۔
پھر اپنے وزراء کے مشورے سے شریف مکہ کو خط لکھا کہ کسی بڑے عالم کو استنبول روانہ کیا جائے۔ جو فینڈر نامی پادری سے اسلام کی حقانیت پر مناظرہ کرے۔ سلطان نے فینڈر اور ترکی علماء کے درمیان ہوئے مناظرے کی تفصیل بھی لکھ دی تا کہ شریف مکہ کو عالم تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ واضح رہے کہ ان دنوں حرمین شرفین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جسے حجاز مقدس کہا جاتا تھا اور شریف مکہ سلطنت کا ماتحت ہوا کرتا تھا۔ شریف مکہ نے خط ملتے ہی حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے رابطہ کیا اور انہیں اطلاع دی کہ ہندوستان سے ایک پادری استنبول آیا ہے اور درخواست کی کہ کسی اچھے عالم کو استنبول روانہ کیا جائے۔ حاجی صاحب نے شریف مکہ کو تسلی دی اور کہا کہ وہ جواب لکھ دے کہ انشاءاللہ جلد ایک عالم استنبول پہنچیں گے جو فینڈر کی طبیعت صاف کر دیں گے۔ لیکن اس کے لئے دو شرائط ہیں۔ ایک تو یہ کہ عالم کے نام کا اعلان نہ کیا جائے بلکہ اسے خفیہ رکھا جائے ۔ دوسرے یہ کہ عالم کی رونمائی صرف اس وقت ہو جب ان کے جواب دینے کی باری ہو۔ باری آنے تک انہیں سامنے نہ لایا جائے۔ سلطان نے جوابی خط میں دونوں شرائط منظور کر لیں۔ اور ایک تاریخ کا اعلان کر دیا کہ مکہ سے آنے والے ایک بڑے عالم فینڈر سے مناظرہ کریں گے۔ مناظرہ کھلی جگہ پر ہوا۔ سلطان سمیت بے شمار ترک مسلمان موجود تھے۔ فینڈر نے پہلے تقریر کی اور اپنی دانست میں خوب خوب اسلام پر گرجا برسا۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ اب مسلمان عالم تشریف لائیں گے۔ جونہی مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اسٹیج پر آئے فینڈر کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اس کی خیر نہیں۔ مولانا نے تقریر شروع کی تو سماں باندھ دیا۔ درجہ بہ درجہ فینڈر کے اعتراضات رد کرنے شروع کئے اور ایسی دلیلیں دیں کہ سننے والے جوش و جذبے سے بھر گئے۔ فینڈر کے تمام اعتراضات کا بھرپور علمی جواب دینے کے بعد مولانا نے موجودہ عیسائیت پر اعتراضات شروع کئے تو فینڈر اٹھ کھڑا ہوا، اور سلطان سے اجازت مانگی کہ اسے اجابت کے لئے بیت الخلاء جانا ہے۔ وہ تھوڑی دیر میں واپس آ جائے گا۔ سلطان نے اجازت دے دی۔ فینڈر بیت الخلاء گیا اور آج تک نہیں آیا۔ کہتے ہیں آج بھی ترکی کے مسلمان ازراہِ مزاح کہتے کہ فینڈر کب فارغ ہو کر آئے گا اور مولانا کا جواب دے گا۔

مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانویؒ نے عیسائیت پر فارسی زبان میں ایک معرکۃ الآراء کتاب ’’مظاہر الحق‘‘ بھی تصنیف فرمائی ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے والد محترم مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ کے حکم پر اس کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے کیا ہے۔
کتاب اظہار الحق کے بارے میں مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ؛
’’اظہار الحق‘‘ بلاشبہ ان کتابوں میں سے ہے جو صدیوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔ ’’عیسائیت‘‘ وہ موضوع ہے جس پر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے پہلے بہت سے علماء نے لکھا، متقدمین کی بہت سی جامع کتابیں اس موضوع پر موجود ہیں، راقم الحروف نے عیسائیت کے موضوع پر علامہ ابن حزمؒ، علامہ عبدالکریم شہرستانیؒ اور علامہ ابن قیم جوزیہؒ کی تصانیف پڑھی ہیں، علامہ رازیؒ اور علامہ قرطبیؒ کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کا بھی موقع ملا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’اظہارالحق‘‘ ان سب پر بھاری ہے۔‘‘

muslim-scholars-vs-christian-pastor

اپنا تبصرہ بھیجیں