پاک بنگلہ دوستی

ذیشان احمد

۱۲ نومبر ۲۰۲۱ء

نوجوان سیاستدان جناب کامران سعید عثمانی صدر جمہوری وطن پارٹی برائے پنجاب نے لاہور میں ”پاک بنگلہ دوستی“ کے خوبصورت عنوان سے ایک کامیاب سیمینار منعقد کیا جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے دونوں اطراف قربتیں بڑھانے کے لیے چند تجاویز پیش کیں ہیں مثلاً دونوں طرف سے فنکاروں اور اداکاروں کو ساتھ ملا کر ایک مشترکہ پروڈکشن سینٹر کا قیام عمل میں لانا، دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کو فروغ دینا، تعلیمی اداروں سے بنگلہ دیشی طلباء کے لیے خصوصی اسکالرشپ کا جاری کروانا ایک اور اہم تجویز یہ پیش کی ہے کہ ایک ایسا میرج بیورو قائم کیا جائے جس کے ذریعے دونوں ممالک کی عوام میں ازدواجی تعلقات استوار ہو سکیں۔ اس آخری تجویز پر عمل درامد ممکن ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ان تمام تجاویز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عثمانی صاحب کی کاوشیں اور یہ سیمینار صرف دوستی اور قربتیں بڑھانے کے لیے ہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
مگر اس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگ غلط فہمیوں کا شکار نظر آ رہے ہیں، سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ اور ویڈیوز زیرگردش ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش پھر سے ایک ہونے جا رہے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے ایک نہیں ہو رہے مگر ایسا ہونا چاہیے۔
ایک صاحب نے تو حد ہی کر دی کہتے ہیں کہ دسمبر ۲۰۲۱ء کو تقسیمِ پاکستان کو پورے پچاس برس ہو جائیں گے اس Semi Centenary میں ہمیں اپنے ان بھائیوں کو معاف کر دینا چاہیے اور ان کی تمام لغزشوں کو بھلا کر انہیں گلے سے لگا لینا چاہیے (نئی نسل میں سے اکثریت یہی سوچ رکھتی ہے کہ تقسیمِ پاکستان کے واحد ذمہ دار مشرقی پاکستان کے بنگالی ہیں جو پاکستان کے غدار ہیں) اگر ان سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی غلطیاں ہیں جن پر انہیں معاف کر دیا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ کیا ملک توڑ دینا کافی نہیں ہے کہ اس کے علاوہ بھی غلطیاں بتلائی جائیں؟
ان مورکھوں کو اگر سمجھائیں کہ وہ لوگ مجرم نہیں مجبور تھے، اگر ان کی غلطیاں تلاش کرنے نکلیں گے تو اپنا ہی دامن داغدار اور اپنے ہی ہاتھ رنگین نظر آئیں گے۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے حقوق سلب کیے جانے والی بات صرف ڈھکوسلہ ہے۔ تقسیم سے پہلے بنگالی پاکستانی سیاست میں برابر کے شریک تھے اور متعدد مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر براجمان رہے ہیں۔
مغربی پاکستان کی جانب سے مشرقی پاکستان کے استحصال پر میں پہلے بھی متعدد مرتبہ لکھ چکا ہوں مگر یہ داستان اتنی طویل ہے کہ سمیٹے نہیں سمٹتی۔ بنگالیوں کو سیاست میں کس طرح برابری کا حصہ دیا جاتا تھا اس کے لیے صرف وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی مثال ہی کافی ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے کسی رہنماء کی مرکز میں کیا وقعت ہوا کرتی تھی۔ خواجہ ناظم الدّین وہ پہلے بنگالی فرد تھے جو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد دوسرے گورنر جنرل بنے مگر یہ عہدہ ایک علامتی عہدہ تھا اقتدار کا محور اور مرکز وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان تھے۔ شہید لیاقت علی خان کی بات آئی ہے تو یہ بھی جان لیجیے کہ وہ بنگالیوں کی عددی برتری سے ہمہ وقت خوفزدہ رہتے تھے اور چونکہ وہ خود مہاجر تھے اس لیے اپنے دورِ حکومت میں ان کا سارا زور ہندوستان سے اُردو اسپیکنگ کمیونٹی کو پاکستان لا کر آباد کر کے توازن برقرار کرنے پر تھا۔ مگر بنگالیوں نے انہیں قائدِاعظم کے دست راست اور سیاسی وارث ہونے کے ناطے قبول کیا اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا۔ لیاقت علی خان کی المناک شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر وزیراعظم بنا دیا گیا اور ان کی جگہ ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے مگر اب کی بار اختیارات وزیراعظم سے لے کر گورنر جنرل کو منتقل کر دیے گئے۔
غرض یہ کہ مشرقی پاکستان پر اپنا تسلّط اور اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کون کون سے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے، بنگالی قوم آبادی کے لحاظ سے اکثریتی قوم تھی ان کی اس عددی برتری پر اثرانداز ہونے کے لیے ”وَن یونٹ“ کے قیام کو عمل میں لایا گیا اور بنگالیوں کی اکثریت کا مقابلہ مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور برادریوں کو ملا کر کیا جانے لگا۔
جسٹس ریٹائرڈ محمد منیر صاحب جو جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھتے ہیں کہ جب میں جنرل ایوب خان کی کابینہ کا حصہ تھا تب میں نے محسوس کیا کہ اسمبلی کوئی خاطر خواہ کارکردگی پیش نہیں کر پا رہی اور نہ ہی کوئی تعمیری کام ہو رہا ہے بلکہ آئے روز مشرقی پاکستان کے ارکان اپنا نالہ و بکاء لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ریاست ہمارا استحصال کر رہی ہے، ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ اسی بحث و تقریر پر گھنٹوں گزر جاتے۔ جنرل ایوب خان یہ تمام تقریریں ریڈیو پر سنا کرتے تھے اور اس مسئلے سے بیزار آ چکے تھے۔ میں نے ایوب خان سے اس مسئلے پر بات کی اور تجویز پیش کی کہ دونوں صوبوں کے درمیان اتحاد کی فضاء پیدا کر کے اس تناؤ کے ماحول کو ختم کیا جائے۔ جس پر ایوب خان کا کہنا تھا کہ ایسی بے تُکی باتوں اور لغویات کو برداشت کرنے سے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ مشرقی پاکستان اپنے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لے لے؟ اور انہوں نے مجھے صلاح دی کہ مجھے اس بارے میں مشرقی پاکستان کے کسی بااثر رہنماء سے بات کرنی چاہیے۔ آگے جسٹس محمد منیر لکھتے ہیں کہ ایک دن جب میں نے رمیز الدین صاحب جو مشرقی پاکستان سے اسمبلی کے رکن تھے اور وزیر بھی رہ چکے تھے ان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں علیحدگی کا مشورہ دے رہا ہوں؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہی کچھ۔ اس پر اُن کا جواب بالکل سیدھا اور واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھیے! ہم اکثریتی صوبہ ہیں اور پاکستان ہم نے بنایا تھا۔ اگر آپ الگ ہونا چاہتے ہیں تو شوق سے ہو جائیں۔ پاکستان ہم ہیں۔
سانحہ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے ناعاقبت اندیش مقتدر حلقے (سیاسی ہوں یا عسکری) ان کی کوتاہ اندیشی، جاہ طلبی اور خود غرضی کا نتیجہ ہے۔ تقسیمِ پاکستان کو بھارتی سازش کا الزام دے کر حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا۔ بھارت نے ہماری نالائقی اور نااہلی کا فائدہ ضرور اٹھایا ہے مگر کوتاہی ہماری اپنی ہے۔ اگر حقائق کو تسلیم کرنے کی جرأت نہ ہو تو حقائق کو مسخ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
میں پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش کا ہرگز قائل نہیں ہوں اور نہ ہی بنگلہ دیش بنانے اور اسے تسلیم کرنے والوں کا طرف دار، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میں حقیقت کا اعتراف نہ کروں۔ جو لوگ سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار بنگالیوں کو سمجھتے ہیں انہیں چاہیے کہ محبت اور عصبیت کے ہر دو جذبات سے ماوراء ہو کر اپنی تاریخ سے واقفیت حاصل کریں اور اس کے لیے مطالعہ پاکستان پر انحصار ہرگز مت کریں۔ خاموشیوں کو سنیے اور وہ دیکھیے جو اوجھل ہے۔
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش پھر سے ایک ہو جائیں، ان سے گزارش ہے کہ آپ کی یہ تمنا اور آپ کی یہ آرزو صرف آپ کی نہیں ہے بلکہ یہ جذبات اور یہ خواہش ہر محب وطن کی ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔
کیا ہم بنگلہ زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے سکتے ہیں؟ شاید اس پر اتفاق ہو بھی جائے، پہلے بھی بنگالی کو سرکاری زبان ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے مگر کیا ہم وفاق کو بنگال منتقل کر پائیں گے؟ یقیناً نہیں! اور اگر نہیں کریں گے تو یہ سراسر زیادتی ہو گی کہ وہ پہلے کی طرح مغربی پاکستان کے ماتحت رہیں، اُن کی آزادی اُن کی خودمختاری اور اُن کے وسائل پر اُن کا ہی حق ہونا چاہیے اُنہیں مغربی پاکستان کے رحم و کرم پر نہیں رہنا چاہیے، کیوں کہ دونوں اطراف ثقافتی و جغرافیائی لحاظ سے بہت دوریاں ہیں۔
البتہ دونوں ممالک میں معاشی اور دفاعی نوعیت کے تعلقات ہونے چاہیے Confederation جیسی کوئی صورت بن جائے ایسی کوششیں ضرور ہونی چاہیں اور کامران سعید عثمانی صاحب یہی کچھ کرنا چاہ رہے ہیں۔
آخر میں مَیں کامران سعید عثمانی صاحب اور وہ لوگ جو پاک بنگلہ دوستی کی اسکیم متعارف کروا رہے ہیں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ پاک بنگلہ دوستی کو لے کر واقعی سنجیدہ ہیں تو آپ کو چاہیے کہ پہلے پاکستان میں بسنے والے وہ بنگالی جن کے بزرگ مشرقی پاکستان کو خیرباد کہہ کر مغربی پاکستان چلے آئے ان بنگالیوں کو ان کا مقام دلوائیں۔ پچاس برس گزرنے کے باوجود انہیں اب تک تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، انہیں تیسرے درجے کا شہری تو درکنار بنیادی طور پر شہری ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ وجہ صرف لسانی عصبیت اور ان کی بنگالی ثقافت ہے۔ آپ پہلے ان کے مسائل حل کروائیں اور پھر بنگلہ دیش کو یہ پیغام بھیجیں کہ آپ جو بنگالی ثقافت کو یہاں پروموٹ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ محض لفاظی نہیں ہے بلکہ یہاں بنگالی ثقافت کے حاملین میں اور دوسرے پاکستانیوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا ہے اور انہیں باقی قوموں کی طرح مکمل شہری حقوق حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں