عیسائی وفد کا آنحضرتﷺ سے مناظرہ و مباہلہ

میرانجران (یمن) کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی، جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین شخص تھے: ابوحارثہ بن علقمہ جو عیسائیوں کا پوپ اعظم تھا، اہیب جو ان لوگوں کا سردار اعظم تھا اور عبدالمسیح جو سردار اعظم کا نائب تھا اور ’’عاقب‘‘ کہلاتا تھا۔
یہ سب نمائندے نہایت قیمتی اور نفیس لباس پہن کر عصر کے بعد مسجد نبویﷺ میں داخل ہوئے اور اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی۔ پھر ابوحارثہ اور ایک شخص دونوں حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ان دونوں سے گفتگو کی اور حسب ذیل مکالمہ ہوا:
نبی اکرمﷺ: تم لوگ اسلام قبول کر کے خدا تعالیٰ کے فرماں بردار بن جاؤ۔
ابوحارثہ: ہم لوگ پہلے ہی حق تعالیٰ کے فرماں بردار ہو چکے ہیں۔
نبی اکرمﷺ: تم لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں، کیوں کہ تم لوگ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور خدا کے لئے بیٹا بتاتے ہو اور خنزیر کھاتے ہو۔
ابوحارثہ: آپ لوگ ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں کیوں دیتے ہیں؟
نبی اکرمﷺ: ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں؟
ابوحارثہ: آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں، حالانکہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
نبی اکرمﷺ: ہاں! ہم یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے حق تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
ابوحارثہ: کیا کوئی انسان بغیر باپ کے پیدا ہو سکتا ہے؟ جب آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ کوئی انسان حضرت عیسیؑ کا باپ نہیں تو پھر آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا باپ خدا تعالیٰ ہے۔
نبی اکرمﷺ: اگر کسی کا باپ کوئی انسان نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا باپ خدا ہی ہو۔ خداوند تعالیٰ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی آدمی پیدا ہو سکتا ہے۔ دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کو تو بغیر ماں باپ کے حق تعالیٰ نے مٹی سے پیدا فرما دیا، اگر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغمبرانہ طرزِ استدلال اور حکیمانہ گفتگو سے چاہئے تو یہ تھا کہ یہ وفد اپنی عیسائیت کو چھوڑ کر دامنِ اسلام میں آ جاتا، مگر ان لوگوں نے حضور کریمﷺ سے جھگڑا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ بحث و تکراار کا سلسلہ بہت دراز ہو گیا تو حق تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:

ترجمہ: تمہارے پاس (حضرت عیسیٰؑ کے واقعے کا) جو صحیح علم آ گیا ہےاس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو: ’’آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔ (آل عمران: آیت ۶۱)

قرآن کریم کی دعوتِ مباہلہ کو عیسائیوں کے پوپ اعظم نے قبول کر لیا اور طے پایا کہ صبح نکل کر میدان میں مباہلہ کریں گے، لیکن جب ابوحارثہ نصرانیوں کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اے میری قوم! تم لوگوں نے اچھی طرح جان لیا کہ اور پہچان لیا کہ محمدﷺ نبی آخرالزماں ہیں اور خوب یاد رکھو کہ جو قوم کسی نبی برحق کے ساتھ مباہلہ کرتی ہے، اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان سے صلح کر کے اپنے وطن کو واپس چلے جاؤ اور ہرگز ہرگز ان سے مباہلہ نہ کرو۔
چنانچہ صبح کو ابوحارثہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے آیا تو یہ دیکھاکہ آپ حضرت حسینؓ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت حسنؓ کی انگلی تھامے ہوئے ہیں اور حضرت فاطمہؓ و حضرت علیؓ آپؑ کے پیچھے چل رہے ہیں اور آپؑ ان لوگوں سے فرما رہے ہیں کہ میں جب دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا۔
یہ منظر دیکھ کر ابوحارثہ خوف سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر حق تعالیٰ چاہے تو ان کے چہروں کی بدولت پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر چل پڑے گا۔لہٰذا اے میری قوم! ہرگز ہرگز مباہلہ نہ کرو، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس نے کہا کہ اے ابوالقاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ہی دین پر قائم رہیں۔ حضور اکرمﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اسلام قبول کر لو تاکہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہو جائیں۔ مگر نصرانیوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے لئے تمہارے ساتھ جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
یہ سن کر نصرانیوں نے کہا کہ ہم عربوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہم اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہم کو اپنے ہی دین پر قائم رہنے دیں اور ہم بطور جزیہ آپ کو ہر سال ایک ہزار کپڑوں کے جوڑے دیتے رہیں گے۔ چنانچہ حضور نبی کریمﷺ اس شرط پر صلح فرمائی اور ان نصرانیوں کے لئے امن کا پروانہ جاری کر دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ نجران والوں ہر ہلاکت و بربادی آن پہنچی تھی۔ مگر یہ لوگ بچ گئے، اگر یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کرتے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جاتے اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑک اٹھتی کہ نجران کی کل آبادی یہاں تک کہ چرند و پرند بھی جل بھن کر راکھ کا ڈھیر بن جاتے اور روئے زمین کے تمام عیسائی سال بھر میں فنا ہو جاتے۔
(بحوالہ: روح البیان، جلد۲، صفحہ۴۴)

اپنا تبصرہ بھیجیں