حل تو یہ بھی ہے

ذیشان احمد

۲۸ ستمبر ۲۰۲۱ء

ایک سوال میرے ذہن میں عرصے سے گردش کر رہا ہے، یہ سوال میں بنگالی برادری کے لیے کام کرنے والی تمام جماعتوں، اُن جماعتوں کی Legal Advisory برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء یا پھر میری طرح وہ غیرجانبدار افراد جو کسی جماعت سے تعلق تو نہیں رکھتے مگر برادری کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں اور فکرمند رہتے ہیں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
آپ سب جانتے ہیں کہ برادری کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ حکومت کی جانب سے بنگالیوں کو شہریت کی عدم فراہمی ہے۔ یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جو تمام بربادیوں کی جڑ ہے۔ یہ ”امّ المسائل“ ہے، اگر یہ حل ہو جائے تو برادری کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔۔۔
ہماری یہ تیسری نسل ہے جو شہریت حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے مگر نتیجہ بے سود ہے، وجہ اس کی حکومت اور بیوروکریسی میں بیٹھے متعصب افسران ہیں جو ہمیں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وکی پیڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ان کے کسی مشیر نے انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ بنگالی برادری کراچی میں اُردو اسپیکنگ کمیونٹی کے بعد دوسری بڑی برادری بن رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب کراچی میں یہ دونوں برادریاں قابض ہو جائیں گی لہٰذا انہیں ملک بدر کیا جائے جس کے بعد ’’اِدھر ہم، اُدھر تم‘‘ کے فلسفے پر یقین رکھنے والے بھٹو صاحب کی چشم و چراغ بنگالی دشمنی میں آپے سے باہر ہو گئیں اور بنگالیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا شروع کر دیا۔ گلی محلوں سے بنگالیوں کو اٹھایا جانے لگا یہاں تک کہ بنگالیوں سے بھرے دو طیاروں کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا مگر بنگلہ دیش میں اس وقت کی حکمران محترمہ خالدہ ضیاء نے ان Deportees کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان طیاروں کو واپس پاکستان بھیج دیا۔ یہ تو بھلا ہو اس وقت کی مذہبی جماعتوں کا جنہوں نے اس عمل کو شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے محترمہ پر دباؤ ڈالا اور وہ اس فعل قبیح سے بعض آئیں۔۔۔
تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں

https://en.wikipedia.org/wiki/Bengalis_in_Pakistan

میں عرض یہ کر رہا تھا کہ ہم اپنی شہریت کے مسئلے کے لیے صرف اس بات پر مُصر کیوں ہیں کہ ہم بانیانِ پاکستان کی اولاد اور محبّ وطن پاکستانی ہیں لہٰذا ہمیں شہریت دی جائے؟ پاکستان میں شہریت کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟
آئینِ پاکستان میں شہریت کے حوالے سے کوئی شِق موجود نہیں ہے کہ شہری کون ہوتا ہے؟ شہریت کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟ ہمارا آئین اس معاملے میں بالکل خاموش ہے۔ قانون شہریت کی رہنمائی ہمیں Citizen Act of 1951 میں ملتی ہے جسے آئین میں درج نہیں کیا گیا، بلکہ 1951ء میں Act of Parliament کے ذریعے اسمبلی سے منظور کیا گیا ہے۔ بعد میں اس میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئی ہیں مگر ہم میں سے بہت لوگ ایسے ہیں جو اس ایکٹ کے مطابق شہریت حاصل کرنے کے لیے Eligible ہیں۔ مگر شاید ہم اس طرف دھیان نہیں دیتے۔
اس قانونِ شہریت کے چند سیکشنز میں یہاں بیان کر رہا ہوں جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔۔۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں نسل در نسل شہریت حاصل کی جاتی ہے۔ یعنی جس کے ماں باپ کے پاس شہریت ہو گی اس کی اولاد کو بھی شہریت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ پہلے یہ سلسلہ صرف والد کی طرف سے چلتا تھا مگر 2001ء میں اس قانون میں ترمیم ہوئی ہے اور اس کے بعد سے ماں کے پاکستانی ہونے سے بھی بچے کو شہریت مل سکتی ہے۔ ہم میں سے کئی افراد ایسے ہیں جن کی صرف والدہ کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے اور والد شہریت سے محروم ہیں، مگر ہمارے لوگ اسے نا کافی سمجھتے ہوئے قدم نہیں بڑھاتے جبکہ انہیں والدہ کی طرف سے شہریت حاصل ہو سکتی ہے۔۔۔
قانونِ شہریت کے سیکشن نمبر 4 کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پاکستانی شمار ہو گا ماسوائے سفیروں اور قابض افواج کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس قانون کے تحت افغان پناہ گزینوں کے بچے بھی آتے ہیں جنہیں شہریت دی جا سکتی ہے۔ اس سیکشن کے مطابق ہماری دو نسلیں جو یہاں پیدا ہوئی ہیں وہ پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی مجاز ہیں مگر کیا ہم نے کبھی اس سیکشن پر توجہ دی ہے؟
شہریت کے حامل پاکستانی مرد کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے پر اس کی زوجہ بھی شہریت کی حقدار ہو جاتی ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس خود تو نیشنلٹی ہے مگر ان کی اہلیہ شہریت سے محروم ہیں۔ مگر کیا ہم اس جانب متوجہ ہیں؟
یہ چند سیکشن میں نے یہاں بیان کیے ہیں ذیل میں قانونِ شہریت کے PDF ورژن کا ڈاؤنلوڈ لِنک دیا جا رہا ہے تفصیل اس میں دیکھی جا سکتی ہے۔

https://bit.ly/3EGVe35

واضح رہے کہ ان سیکشنز کے مطابق غیر ملکی افرد بھی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ یعنی کوئی بھارتی یا بنگلہ دیشی آج پاکستان آ جائے تو اس قانون کے تحت اسے شہریت مل سکتی ہے۔ اگر کوئی عورت پاکستان سیاحت کی غرض سے آتی ہے اور یہاں اس کے بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ تو قانونِ شہریت کے سیکشن 4 کے مطابق وہ بچہ پاکستانی شہریت حاصل کرنے کا مجاز ہو گا۔ گزشتہ برس صدر پاکستان نے ویسٹ انڈین کرکٹر Darren Sammy کو اعزازی طور پر شہریت سے نوازا تھا۔ یہاں شہریت اس طرح بانٹی جا رہی ہے مگر اس سے محروم ہیں تو وہ ہم لوگ ہیں، اگر اس سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں تو وہ ہم ہیں۔۔۔
میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ہماری شہریت کا مسئلہ آئین میں ترمیم کر کے یا اسمبلی سے قرارداد منظور کروا کر حل ہو سکتا ہے۔ مگر ہم اس ترمیم کی طرف ہی کیوں نظریں جمائے بیٹھے ہیں؟ جبکہ قانون ہمیں متبادل حل بتا رہا ہے۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے لوگ جب اس قانون کے تحت شناخت حاصل کرنے جائیں گے تب بھی انہیں اسی طرح دُھتکارا جائے گا جس طرح ابھی دُھتکارا جاتا ہے۔ نادرا کے عملے کی سرد مہری سے کون واقف نہیں ہے؟ وہاں تو وہ عام پاکستانی بھی رُلتے نظر آتے ہیں جن کی شہریت کو لے کر کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر ہم ان سیکشنز کے مطابق شہریت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو کم از کم ہم انہیں قانونی طور پر جواز تو فراہم کر سکتے ہیں کہ ہم شہریت حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔ اس قانون کا سہارا لے کر ہم اجتماعی سطح پر تحریک چلا کر عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکا سکتے ہیں کہ قانون ہمیں شہریت دے رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمیں محروم رکھا جارہا ہے۔ یقین جانیے! اگر ہم اپنی ایک نسل کو شہریت جاری کروانے ميں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمارا یہ جھگڑا از خود ختم ہو جائے گا اور ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔۔۔
ہمارے لیڈران وزیراعظم ہاؤس میں جا کر اور میڈیا ہاؤسز میں بیٹھ کر جہاں یہ بات کرتے ہیں کہ ہم بانیانِ پاکستان کی اولاد ہیں وہیں انہیں یہ بات بھی رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے ”قانونِ شہریت مجریہ 1951ء“ کے مطابق ہماری دو نسلیں جو یہاں پیدا ہو چکی ہیں وہ ہم پر لگائے جانے والے تمام تر بے بنیاد اعتراضات کے باوجود شہریت حاصل کرنے کی مجاز ہیں اور قانون انہیں صریح پاکستانی تسلیم کرتا ہے مگر انہیں اس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔۔۔
اس کے بعد میں آپ کی توجہ اسی قانون کے سیکشن نمبر 16/A کی طرف لے کر جانا چاہتا ہوں جس کے مطابق؛
”16 دسمبر 1971ء کو پاکستان میں رہنے یا پاکستان ہجرت کر کے آنے والے مشرقی پاکستانی افراد کی پاکستانی شہریت برقرار ہے۔‘‘
یہ شرط صرف اُس فرد کے لیے ہے جو 1971ء کے وقت مشرقی پاکستان سے یہاں آیا تھا۔ نئی نسل اس شرط سے مستثنیٰ ہے، نسل نَو سے اُس دور کا ثبوت طلب نہیں کیا جا سکتا۔۔۔
میں کبھی لاء کا اسٹوڈنٹ نہیں رہا مگر جو تھوڑی بہت قانونی شُدبُد رکھتا ہوں اس کے مطابق میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں ہے جتنا ہم نے بنا رکھا ہے، قانون میں پہلے سے ہمارے لیے حل موجود ہے مگر ہم اس سے نظریں چرا رہے ہیں۔ چوٹ ہمارے گٹھنے پر لگی ہوئی ہے اور ہم کہنیاں مل رہے ہیں۔۔۔
یہاں پر میں ایک بات واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ قانونِ شہریت میں موجود جن سکشنز کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں زیادہ تر سیکشنز غیر ملکیوں کے لیے ہیں جیسا کہ میں اوپر بھی بیان کر چکا ہوں کہ جب کوئی غیر ملکی فرد پاکستان کی شہریت حاصل کرنا چاہے گا تو اسے ان طریقوں کے مطابق شہریت ملے گی۔ ہمارا مسئلہ ذرا مختلف ہے، ہم غیر ملکی نہیں بلکہ بنیادی طور پر پاکستانی ہیں، معاملہ ہماری حیثیت کو تسلیم نہ کرنے کا ہے۔ لیکن اگر ہم قانون شہریت کے مطابق شہریت حاصل کرنا چاہیں تو اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ اس طریقے کے مطابق شہریت حاصل کرنے سے ہماری حیثیت کوئی تیسرے درجے کے شہری کی سی ہو گی، نہیں! نہیں! بالکل نہیں! یاد رکھیں ایسا کرنے سے ہماری اور باقی پاکستانیوں کی شناخت میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔۔۔
حق تو یہ ہے کہ ہمیں بنیادی طور پر پاکستانی تسلیم کیا جائے۔ تا کہ ہماری خودداری پر حرف نہ آئے، ہماری عزت نفس مجروح نہ ہو۔ لیکن میں آپ سے دست بستہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ چالیس برس سے ہم اس حق کو حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، اتنے برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، اگر ہم نے اپنے رویے میں لچک پیدا نہ کی تو ممکن ہے کہ اتنے برس مزید گزر جائیں اور ہم اسی مقام پر کھڑے ہوں۔۔۔
کیا ہو جائے گا؟ زیادہ سے زیادہ ہماری انا کا گلہ گھٹ جائے گا؟ ہمارے پیشروؤں کی محنتوں پر پانی پھر جائے گا کہ انہوں نے اپنی حیثیت منوانے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا تھا؟ لیکن یاد رکھیں! ہمارے بچوں کا مستقبل سنور ہو جائے گا۔ وہ پڑھ لکھ جائیں گے، ایک اچھی اور معیاری زندگی بسر کر کے باعزت شہری بن جائیں گے۔ ہم فقط اپنی انا کی تسکین کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کے مجرم نہیں بن سکتے۔ ہمارا ایک صحیح فیصلہ اُن کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔۔۔
اور پھر ہمیں اپنی پوزیشن پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جو حل ہم چاہ رہے ہیں کیا اس کے لیے ہماری تیاری مکمل ہے؟ کیا ہم اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ اسمبلیوں تک پہنچ سکیں؟ اور کیا پاکستان میں بسنے والی دیگر اقوام اپنے دل میں ہمارے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں کہ وہ ہماری طرف سے ایوان میں ہمارا مقدمہ لڑیں؟ سیاسی جماعتیں ہمیشہ ہمیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ اگر ہم نے یہی روش اپنائے رکھی تو ہم مزید استعمال ہوتے رہیں گے۔ اگر آپ اپنے بچوں کے ہاتھوں سے اوزار چھین کر قلم تھمانا چاہتے ہیں، اگر آپ اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کے خواہاں ہیں تو قانونِ شہریت میں موجود اپنے لیے مفید سیکشنز سے فائدہ اٹھائیے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں