ملکہ کا خواب اور ابنِ سیرین کی تعبیر

زبیدہ خلیفہ ہارون رشید کی بیوی کا نام ہے۔ یہ بڑی عابدہ، ذاہدہ، اور نیک خاتون تھی۔ اس نے ایک خواب دیکھا کہ میں ایک چوراہے پر ہوں اور جو شخص آ رہا ہے، مجھ سے گناہ کا ارتکاب کر کے جا رہا ہے۔ ایسی نیک خاتون کے لیے ظاہر ہے ایسا خواب بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ اس خواب کے بعد سخت پریشان اور رنجیدہ ہوئیں۔ علامہ ابنِ سیرینؒ حیات تھے۔ اس نے اپنی ایک معتبر خادمہ کو کہا کہ تم اس خواب کو اپنی طرف منسوب کر کے علامہ ابنِ سیرینؒ کو سناؤ اور اس کی تعبیر پوچھ کر آؤ۔
اپنا نام اس لیے ظاہر کرنے کو منع کیا کہ پتہ نہیں اس قسم کے خواب کی تعبیر کیا ہو۔ جو رسوائی کا سبب بنے۔ (ملکہ کی رسوائی امیرالمؤمنین کی بلکہ تمام رعایا کے لیے فتنہ کا سبب بن سکتی ہے) خادمہ حکم کے مطابق علامہ ابنِ سیرینؒ کے پاس پہنچی اور کہا: میں نے یہ خواب دیکھا ہے۔ اس کی تعبیر کیا ہے؟ علامہ ابنِ سیرینؒ جن کو حق تعالیٰ نے تعبیر کا حیرت انگیز علم عطا فرمایا تھا۔ انہوں نے خواب سن کر فرمایا: ’’ یہ تمہارا خواب نہیں ہو سکتا۔ یہ تو کسی خوش نصیب شخص کا خواب ہے۔ سچ سچ بتاؤ، کس کا خواب ہے، پھر تعبیر بتاؤں گا۔‘‘ خادمہ نے کہا ’’مجھے نام بتانے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ فرمایا: ’’پہلے اس سے اجازت لے کر آؤ، پھر تعبیر بتاؤں گا۔‘‘
(زبیدہ کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی تعبیر سے کسی قسم کی رسوائی کا اندیشہ نہیں ہے، کیونکہ خادمہ نے واپس آ کر علامہ ابنِ سیرینؒ کے الفاظ نقل کر دیئے تھے) اس لئے زبیدہ نے خادمہ سے کہا: ’’اچھا! جا کر میرا نام بتا دو۔‘‘ خادمہ دوبارہ ابنِ سیرینؒ کے پاس آئی اور کہا کہ یہ خواب ملکہ زبیدہ نے دیکھا ہے۔ علامہ ابن سیرینؒ نے خوش ہو کر یہ تعبیر دی کہ حق تعالیٰ ملکہ کے ہاتھ سے ایسا صدقہ جاریہ قائم فرما دیں گے، جس رہتی دنیا تک لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ سن کر زبیدہ نے فوراً حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ بظاہر خواب تو بڑا عجیب تھا ،لیکن تعبیر بہت اچھی پائی۔
حقیقت یہ ہے کہ خواب میں اور تعبیر میں بظاہر کوئی مناسبت نہیں ہے، لیکن ایک دقیق مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ خواب میں جو عمل دیکھا گیا، اسی عمل سے دنیا کی آبادی قائم ہے۔ چونکہ یہ خواب ایک ملکہ نے دیکھا تھا۔ اس لیے لوگوں کو اس سے کوئی بڑا فائدہ پہنچنے کی طرف اشارہ ہو سکتا تھا۔
پھر چند برسوں کے بعد ہارون رشید نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو ملکہ زبیدہ بھی ساتھ تھی۔ تقریباً تیرہ سوسال پہلے مکہ میں پانی کی بےحد تنگی تھی اور حاجیوں کو سخت مشقت کا سامنا تھا۔ ملکہ زبیدہ کی نیکی اور نرم مزاجی مشہور تھی، اس لئے حاجیوں نے ملکہ سے اس پریشانی کا ذکر کر کے درخواست کی کہ آپ یہاں بہ آسانی پانی ملنے کا کوئی انتظام کر دیں۔ ملکہ زبیدہ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہاں دوردراز کے ملکوں سے بھی لوگ آتے ہیں۔ یہاں پانی کا کوئی بندوبست ہونا چاہئے۔
ملکہ زبیدہ نے بادشاہ وقت اور اپنے شوہر سے اس کی اجازت لی۔ جو اس نے خوشی سے دے دی۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام اپنے شباب پر تھا۔ ایک عالمی طاقت کی حیثیت تھی۔ غیر مسلم طاقتیں مسلمانوں کے زیرِ نگیں تھیں۔ اس وقت ہر فن کے بڑے بڑے ماہرین مسلمانوں کے اندر موجود تھے۔ ملکہ نے پوری سلطنت کے اندر یہ اعلان کرا دیا کہ جہاں جہاں کوئی ماہر انجینئر موجود ہیں، وہ سب مکہ مکرمہ آ کر جمع ہو جائیں۔
مختلف شہروں سے بڑے بڑے ماہرین کی ایک جماعت وہاں جمع ہو گئی۔ ملکہ زبیدہ نے اس کانفرنس میں مختصر خطاب کیا اور کہا کہ مجھے مکہ مکرمہ کے کونے کونے اور گلی گلی میں پانی چاہئے۔ یہ کام کیسے ہوگا؟ اور پانی کہاں سے آئے گا؟ یہ سوچنا اور اس پر عمل کرنا تمہارا کام ہے۔
سارے انجینئر سر جوڑ کر بیٹھے۔ سب نے باہم مشورہ کر کے شہر کا جائزہ لیا اور جہاں جہاں پانی کے چشمے تھے اور پانی کی موجودگی کے امکانات تھے، پہاڑیوں میں نالیوں کی شکلوں میں کہیں پانی جاری تھا ہا پتھروں کی کھدائی کر کے جہاں پانی کے نکلنے کے امکانات تھے۔ ان سب کو جمع کرنے کا نظام بنایا۔ نہر کی کھدائی کر کے پانی کے اس زخیرے کو نہر میں ڈالا گیا۔ شہر کے چاروں طرف تقریباً چودہ میل لمبی نہر تیار کر دی گئی۔ جگہ جگہ ایسے ٹینک بنا دئیے گئے جہاں پانی آ کر جمع ہوتا رہے۔ جگہ جگہ ڈھکن والے پانی کے ایسے ذخائر بنائے گئے تاکہ اگر کوئی شہر کے باہر ہو تو ڈھکن اٹھا کر ان سے پانی حاصل کر سکے۔
جب نہر زبیدہ تیار ہو گئی۔ تو وہ انجینئر جو اس عظیم منصوبے کا ذمہ دار تھا اس نے منصوبے کے اخراجات کی فائل تیار کر کے دارلخلافہ بغداد حاضری دی اور ملکہ زبیدہ کے محل میں پہنچا۔ ملکہ زبیدہ اس وقت دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھیں۔ اطلاع دی گئی کہ مکہ مکرمہ سے نہر زبیدہ کا حساب لے کر انجینئر حاضر ہوا ہے۔ اسی وقت انجینئر کو طلب کیا گیا۔ اس نے ملکہ کی خدمت میں نہر زبیدہ کے حساب کی فائل پیش کر کے کہا کہ آپ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ کے گلی گلی کوچے کوچے میں پانی کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اب شہریوں کو اور حج و عمرہ کرنے والوں کو پانی کی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ یہ اس کا حساب ہے، آپ حساب لے لیجئے۔ ملکہ نے وہ فائل لی، اس پر دستخط کئے اور اس کو درمیان سے چاک کر کے دریائے دجلہ میں ڈال دیا۔ اور وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ نے اپنی گود میں آج تک محفوظ کیا ہوا ہے۔ ملکہ زبیدہ نے کہا:
’’ترکناالحساب لیوم الحساب‘‘
’’ہم نے آخرت کے حساب کے لئے اس کا حساب چھوڑ دیا۔‘‘
اور کہا کہ: ’’اگر ہماری طرف کوئی حساب نکلتا ہے تو ہم سے لے لو اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ نکلتا ہے تو ہم نے معاف کر دیا۔‘‘
(حکایات و واقعات؛ صفحہ ۲۲۹)

اپنا تبصرہ بھیجیں