منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

ذیشان احمد

۱۶ دسمبر ۲۰۲۱ء

آج سولہ دسمبر ہے، تاریخ پاکستان کا ایک سیاہ ترین دن، سقوطِ ڈھاکہ کا وحشت ناک دن، وہ دن جب ہم نے اپنا مشرقی بازو خود سے جدا کر کے پرے پھینکا تھا۔ جی ہاں! وہ مشرقی بازو کہ اگر وہ نہ ہوتا تو آج ہم سرخروئی کی زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے بلکہ ہندوؤں کے رحم و کرم پر جینا ہمارا مقدر ہوتا اور جو حالات آج ہندوستان کے مسلمانوں کے ہیں ہم بھی انہی حالات سے دوچار ہوتے۔
سقوطِ ڈھاکہ پر بہت لوگ بہت کچھ لکھتے ہیں میں نے بھی اس موضوع پر کئی مرتبہ خامہ کشی کی ہے، مگر آج میں مشرقی بنگال کے ان لوگوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں دھتکارتے دھتکارتے ہم  نے انہیں خود سے الگ ہی کر دیا۔ ان دھتکارے ہوئے لوگوں کا تشکیل پاکستان میں کیا کردار تھا آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو چلیے پاکستان کے قبل از قیام سے شروع کرتے ہیں بلکہ بیسویں صدی کے ابتدائی وقتوں پر چلتے ہیں۔۔۔
نومبر 1906ء کے آخری ایام تھے ڈھاکہ میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس پر برصغیر کے مختلف حصوں سے مسلم عمائدین ڈھاکہ تشریف لائے ہوئے تھے، اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ڈھاکہ کے نواب خواجہ سلیم اللہ خاں کو ایک تجویز سوجھی انہوں نے تمام مسلم زعماء کو ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس اجلاس میں مسلمانوں کے ابتر حالات اور زبوں حالی پر گفت و شنید ہوتی ہے نیز انگریزوں کی جانب سے ہندوؤں کو نوازے جانے اور مسلمانوں کو محروم رکھنے پر بھی حیص بیص کی جاتی ہے، تمام شرکاء کے اتفاق سے وہاں یہ طے پاتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی راہنمائی کے لیے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی جائے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رکھا ہوا تھا ان کا رجحان سیاست کی بجائے تعلیم و تربیت کی طرف تھا یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر ان کے جانے بعد بھی مسلمانوں میں باقی رہا اور وہ سیاست میں حصہ لینے سے باز رہے، مگر بیدار مغز اور دور اندیش رہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت کو محسوس کیا اور یوں نواب ڈھاکہ خواجہ سلیم اللہ خاں کی کاوشوں سے مسلمانوں کو آل انڈیا مسلم لیگ نامی ایک سیاسی جماعت میسر آ گئی جس  نے بعد میں ہندوستان کو بانٹ کر رکھ دیا اور برصغیر کا نقشہ تبدیل کر کے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست دلانے میں کامیاب ہوئی۔ 1913ء میں قائداعظمؒ بھی کانگریس کی مسلم دشمن پالیسیوں سے مایوس ہونے کے بعد کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ برصغیر کے مسلمان بھی سیاسی و معاشی استحصال کے خوف سے اور اپنے مذہب، تہذیب اور تمدن کے تحفظ کی خاطر قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔
برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو منتقل کرنے کے پہلے مرحلے یعنی 1937ء میں جو عام انتخابات ہوئے تھے ان میں آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حصہ لیا تھا اور خوب تیاری کے ساتھ میدان میں اتری تھی مگر ان انتخابات میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس کے اس دعوے کو شدید زک پہنچی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ یوپی، بہار، اڑیسہ اور مدراس میں کانگریس کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی، آسام اور سندھ کے علاقے میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں بھی کانگریس نمایاں رہی، بمبئی اور سرحدی علاقوں میں بھی اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کر لی جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے کسی ایک صوبے میں بھی مسلم لیگ حکومت نہیں بنا سکی۔ اس شکست کے بعد مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنان بے بسی کے عالم میں تھے اور ان کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔
کانگریس اپنی پہلی اور بڑی کامیابی کی وجہ سے ترنگ میں آ گئی تھی اور اس زعم میں اس نے چند ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں مختلف خدشات جنم لینے لگے، مثلاً کانگریس نے ہندی زبان کو قومی زبان قرار دے دیا، گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کر دی اور کانگریس کے جھنڈے کو قومی پرچم کا درجہ دے دیا۔ ان اقدامات کے بعد مسلمانوں کو احساس ہونے لگا کہ ان کی مسلم لیگ اقتدار سے صرف اس وجہ سے محروم کر دی گئی کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے لہٰذا مسلمانوں میں جداگانہ قومیت کا احساس بیدار ہونے لگا۔ اس موقع پر قائداعظمؒ بھی سر سید احمد خان کے مفقود ہوتے ”دو قومی نظریے“ کو دہرانے لگے جس سے اس نظریے کے تن مردہ میں نئی جان پیدا ہو گئی۔
اسی پس منظر میں 22 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سہ روزہ اجلاس لاہور کے منٹو پارک میں منعقد ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے 23 مارچ کو بنگالی رہنماء ابوالقاسم فضل الحق نے قراردادِ پاکستان پیش کی اس قرارداد میں یہ مطالبہ رکھا گیا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے انہیں یکجا کر کے آزاد اور خود مختار ریاستیں بنا دی جائیں۔ انہی دنوں دوسری جنگ عظیم بھی زوروں پر تھی، اس جنگ میں برطانیہ بری طرح جکڑ گیا تھا اور جنگ کے اختتام تک اس کی معیشت کمزور پڑ چکی تھی لہٰذا وہ برصغیر میں مزید قدم نہیں جما سکتا تھا اس لیے اس نے اس خطے کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور پھر 1946ء کے انتخابات آ گئے یہ الیکشن تشکیل پاکستان کے لیے ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے 561 امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں سے 453 امیدوار کامیاب ہوئے، مسلم لیگ نے چھیالیس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ مسلم لیگ کو پڑنے والے تمام ووٹوں ميں سے 96 فیصد ووٹ بنگالیوں کے تھے، یہ چھیانوے فیصد ووٹ پاکستان کے قیام کی بنیاد بنے، اگر بنگالی مسلم لیگ کو ووٹ نہ ڈالتے تو اس بار بھی نتائج 1937ء کے انتخابات سے مختلف نہ ہوتے اور اقبالؒ کا خواب محض خواب بن کر ہی رہ جاتا۔ اُس وقت ہندوستان کے گیارہ صوبے تھے۔ اُن میں سے چار مسلم اکثریتی صوبوں، بنگال، پنجاب، سندھ اور سرحد میں سے صرف بنگال میں مسلم لیگ بلا شرکتِ غیرے حکومت بنا پائی تھی۔ لہٰذا مسلم لیگ کی اس کامیابی اور تشکیلِ پاکستان کا سہرا بنگالیوں کے سر جاتا ہے۔
یہ لوگ بانیانِ پاکستان تھے اور یہی پاکستان کے اصل وارث بھی تھے مگر پاکستان کے قیام کے بعد ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بعینہ وہی سلوک تھا جو کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ اپنایا تھا، اگر کانگریس نے ہندی زبان کو مسلط کرنا چاہا تو مغربی پاکستان نے بھی بنگالیوں کی مرضی جانے بغیر اُردو کو سرکاری زبان ڈکلئیر کر دیا، اصولی طور پر سرکاری زبان بنگالی ہونی چاہیے تھی کیوں کہ بنگالی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی برادری تھی اور اُردو جسے سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا اسے بولنے والی اُردو اسپینگ کمیونٹی سب سے چھوٹی کمیونٹی تھی۔ مگر اس کے باوجود بنگالیوں کے مؤقف میں لچک تھی، اُردو کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا مطالبہ تھا کہ بنگالی زبان کو بھی اُردو کے ساتھ ساتھ سرکاری زبان قرار دیا جائے، جسے اس وقت تسلیم نہ کیا گیا مگر بعد میں حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بنگالی زبان کو بھی سرکاری حیثیت میں تسلیم کر لیا گیا۔
یہ ان کی پاکستانیت ہی تھی کہ جب 1962ء میں جسٹس محمد منیر نے جنرل ایوب خان کے کہنے پر مشرقی پاکستان کے بنگالی رہنما رمیز الدین سے کہا کہ آپ لوگ اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ہم سے علیحدہ ہو جائیں تو ان کا جواب دو ٹوک تھا کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے اور ہم اکثریت میں بھی ہیں لہٰذا پاکستان ہم ہیں، اگر آپ نے الگ ہونا ہے تو آپ شوق سے ہو جائیں۔
اور پھر 1970ء کے انتخابات ہوتے ہیں، یہ انتخابات دھاندلی کی ایک ایسی مثال قائم کرتے ہیں جس کی نظیر پاکستانی تاریخ تو کیا دنیا بھر کی جمہوری تاریخ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ شیخ مجیب الرّحمٰن ایک کروڑ تیس لاکھ کے قریب ووٹوں کے ساتھ 160 نشستیں جیت کر پہلے نمبر پر آتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں ذوالفقار علی بھٹو محض اکسٹھ لاکھ ووٹوں کے ساتھ 81 نشستیں ہی حاصل کر پاتے ہیں، اس واضح برتری اور اکثریت کے باوجود شیخ مجیب الرّحمٰن کو اقتدار نہیں سونپا جاتا بلکہ مختلف الزامات کی آڑ لے کر انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور یوں برملا انداز میں بڑے دھڑلے کے ساتھ بنگالیوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، یہ ایسی دھاندلی تھی جو نتائج تبدیل کر کے نہیں بلکہ نتائج کو تسلیم کرنے کے بعد ڈنکے کی چوٹ پر کی گئی تھی۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کیا گیا، بلکہ اس اکثریت کو طاقت کے زور پر مغلوب کرنے کے لیے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا جاتا ہے، اس آپریشن میں کیا کچھ ہوا ہے ،Collateral Damage کے نام پر کتنا خون بہایا گیا ہے یہ ایک الگ داستان ہے اگر میں یہ سب بھی لکھوں گا تو میں خود خائن اور غدار ٹھہرا دیا جاؤں گا لہٰذا اسی پر اکتفا کرتے ہوئے میں اپنی حُبّ الوطنی کے سرٹیفکیٹ کو بچا لینا چاہتا ہوں اور اس سند کو برقرار رکھنے اور وطن سے وفاداری کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرنے کے واسطے میں شیخ مجیب الرّحمٰن اور ان کے ساتھوں کو غدار بھی ٹھہراتا ہوں۔
پاکستان زندہ باد! The real heirs of Pakistan

اپنا تبصرہ بھیجیں