حضرت طالوت اور حضرت داؤدؑ کی بادشاہی کا واقعہ

حضرت طالوت بادشاہ کیسے بنے؟

بنی اسرائیل کا نظام یوں چلتا تھا کہ ہمیشہ ان لوگوں میں ایک بادشاہ ہوتا تھا جو ملکی نظام چلاتا تھا اور ایک نبی ہوتا تھا جو نظام شریعت اور دینی امور کی ہدایت و رہنمائی کیا کرتا تھا اور یوں دستور چلا آتا تھا کہ بادشاہی یہود ابنِ یعقوبؑ کے خاندان میں رہتی تھی اور نبوت لاوی بن یعقوبؑ کے خاندان کا طرہ امتیاز تھا۔

حضرت شمویلؑ جب نبوت سے سرفراز کیے گئے تو ان کے زمانے میں کوئی بادشاہ نہیں تھا تو بنی اسرائیل نے آپ سے درخواست کی کہ آپ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے، تو آپؑ نے حکم خداوندی کے مطابق حضرت طالوت کو بادشاہ بنا دیا۔ حضرت طالوت بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے بڑے عالم تھے لیکن تھے بہت ہی غریب اور مفلس۔ چمڑے کی دباغت یا بکریوں کی چرواہی کر کے زندگی بسر کرتے تھے۔ پس بنی اسرائیل کو اعتراض ہوا کہ طالوت شاہی خاندان سے نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کیونکر اور کیسے ہمارا بادشاہ ہو سکتا ہے؟ اس سے زیادہ تو بادشاہت کے حقدار ہم لوگ ہیں کیوں کہ ہم لوگ شاہی خاندان سے ہیں۔ پھر طالوت کے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے۔ ایک غریب و مفلس انسان بھلا تخت شاہی کے لائق کیونکر ہو سکتا ہے؟ بنی اسرائیل کے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حضرت شمویلؑ نے یہ تقریر فرمائی:

’’طالوت کو میں نے نہیں بلکہ اللہ نے بادشاہی کے لیے چن لیا ہے اور ملک اللہ ہی کا ہے وہ جس کو چاہے اپنا ملک عطا فرما دے۔ اگر طالوت کے پاس مال و دولت نہیں تو کیا ہوا؟ دیکھو وہ کتنا طاقتور اور کتنا بڑا صاحب علم ہے اور سلطنت چلانے کے لیے مال سے زیادہ علم کی ضرورت ہے۔ پھر ان باتوں کے علاوہ طالوت کی بادشاہی کا نشان یہ ہے کہ تمہارا صندوق جو تم سے چھین لیا گیا ہے وہ تمہارے پاس آ جائے گا۔ ‘‘ (البقرہ، رکوع ۳۲)

چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد فرشتے صندوق لے کر آ گئے اور صندوق کو حضرت شمویلؑ کے پاس رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے حضرت طالوت کی بادشاہی کو تسلیم کر لیا اور آپ نے بادشاہ بن کر نہ صرف انتظام ملکی کو سنبھالا بلکہ بنی اسرائیل کی فوج بھرتی کر کے قوم عمالقہ کے کفار سے جہاد بھی فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں فرماتے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا:

’’اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا! بے شک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ ان لوگوں نے کہا: ہم پر اس کی بادشاہی کیونکر ہو گی؟ حالانکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہی کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی۔ آپ نے فرمایا: ان کو اللہ نے تم پر بادشاہی کے لیے چن لیا ہے اور اس کو علم اور جسم میں کشادگی دی ہے اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہے عطا فرما دے اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔ اور ان (بنی اسرائیل) سے ان کے نبی نے فرمایا! اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آ جائے گا تمہارے پاس وہ صندوق جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور موسیٰ و ہارون کے ترکہ کی بچی ہوئی چیزیں ہیں۔ جس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے بے شک اس میں تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (البقرہ، رکوع ۳۲)

حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ کیسے بنے؟

جب حضرت طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لیے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ جالوت سے جنگ کرنے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہوا ہے۔
جالوت بہت ہی قدآور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا۔ وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا ،اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب دونوں فوجیں میدان جنگ میں لڑائی کے لیے صف آرائی کر چکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرمایا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کروں گا اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کر دوں گا۔
یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤدؑ آگے بڑھے، جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔
روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت داؤدؑ گھر سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے تھے تو راستے میں ایک پتھر نے بول کر کہا کہ اے داؤدؑ مجھے اٹھا لیجئے، کیونکہ میں حضرت موسیٰؑ کا پتھر ہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے پکارا کہ اے داؤدؑ مجھے اٹھا لیجئے میں حضرت ہارونؑ کا پتھرہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپؑ کو پکار کر عرض کیا اے داؤدؑ مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔
آپؑ نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے تھیلے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤدؑ اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپؑ کی نظر پڑی تو آپؑ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور خدا کا بابرکت نام لے کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب مقتول ہو کر گر پڑے۔
حضرت داؤدؑ نے جالوت کی لاش گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا۔ اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حدخوش ہوئے۔ جالوت کے قتل ہو جانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلا اور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤدؑ کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور اپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔
پھر پورے چالیس برس کے بعد حضرت طالوت کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤدؑ پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویلؑ کی وفات ہو گئی تو حق تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملے تھے۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپؑ کے بعد آپؑ کے فرزند جلیل حضرت سلیمانؑ کو بھی حق تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔
(جمل علی الجلالین، جلد ۱، صفحہ ۲۰۸)

اپنا تبصرہ بھیجیں