ملکہ سبا (بلقیس) کا تخت اور اسم اعظم کا کرشمہ

قرآن کریم میں حق تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ تخت بلقیس کو کون میرے پاس لا سکتا ہے؟ تو جنات میں سے ایک عفریت نے کہا کہ میں آپ کی مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی اسے آپ کے سامنے حاضر کر سکتا ہوں۔ علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں تخت لانے والے اس عفریت کا کیا نام تھا، اس میں اختلاف ہے۔ چنانچہ وہب نے اس کا نام کوذا بتایا ہے، بعض نے اس کا نام ذکوان بتایا ہے اور حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس کا نام صخر جنی تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے اس تخت کو کیوں اور کس مقصد سے منگوایا تھا، اس میں بھی مفسرین کا اختلاف ہے۔ چنانچہ قتادہ اور دیگر مفسرین کی رائے ہے کہ جب ہدہد نے آ کر اس تخت کے اوصاف، خوبیاں اور عظمت کو بیان کیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کو پسند آ گیا اور آپؑ نے بلقیس اور اس کی قوم کے مشرف بہ اسلام ہونے سے قبل ہی اس پر دسترس حاصل کرنے کا خیال کیا۔ کیونکہ بلقیس اور اس کی قوم کے اسلام لانے کے بعد شرعاً حضرت سلیمانؑ اس کے مالک نہیں بن سکتے تھے۔
ابن زید کا قول ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے تخت منگوانے کی منشاء یہ تھی کہ بلقیس کے سامنے حق تعالیٰ کی عطا کردہ قدرت و سلطنت کا مظاہرہ ہو سکے۔
منقول ہے کہ بلقیس کا تخت سونے اور چاندی کا بنا ہوا تھا اور اس میں یاقوت اور دیگر جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ یہ تخت سات مقفل کمروں میں بند تھا۔ ثعلبی کی ’’الکشف والبیان‘‘ میں لکھا ہے کہ تخت بلقیس بھاری اور خوبصورت تھا اور اس کا اگلا حصہ سونے اور پچھلا حصہ چاندی کا تھا۔ اگلے حصے میں سرخ یاقوت اور سبز زمرد اور پچھلے حصے میں مختلف قسم کے رنگ برنگ موتی اور جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ اس تخت میں چار پائے تھے۔ ایک پایا سرخ یاقوت کا دوسرا زرد یاقوت کا تھا اور ایک پایا سبز برجد کا اور دوسرا سفید موتیوں کا تھا اور اس کے تختے خالص سونے کے تھے۔ بلقیس کے سات محلوں میں جو سب سے پچھلا محل تھا، اس میں سات کمرے تھے اور ساتوں کمرے مقفل تھے۔ بلقیس کے حکم کے مطابق یہ تخت سب سے آخر والے کمرے میں رکھا گیا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ کے مطابق یہ تخت تیس گز لمبا، تیس گز چوڑا اور تیس گز اونچا تھا۔ مقاتلؒ کے مطابق یہ اسی ہاتھ لمبا، اسی ہاتھ چوڑا تھا اور ایک قول کے مطابق اس کا طول اسی ہاتھ اور عرض چالیس ہاتھ اور بلندی تیس ہاتھ تھی۔
حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ حضرت سلیمانؑ نہایت رعب اور دبدبہ کے مالک تھے۔ کسی شخص میں آپ کو مخاطب کرنے اور سلسلہ کلام شروع کرنے کی جرأت نہ تھی، تا وقتیکہ آپ خود ہی سلسلہ کلام شروع نہ فرمائیں۔ ایک دن آپ نے خواب میں اپنے نزدیک ایک آگ جیسی چمک دیکھی۔ اسے دیکھ کر آپ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ تخت بلقیس ہے۔ آپ نے صبح کو اہل دربار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص بلقیس کے تخت کو میرے پاس لا سکتاہے؟ قبل اس کے کہ بلقیس اور اس کی قوم مطیع ہو کر میرے پاس آئیں۔ حاضرین میں سے ایک دیو نے کہا میں لا سکتا ہوں اور آپ کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ تخت آپ کے پاس آ جائے گا۔
حضرت سلیمانؑ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ ظہر تک لوگوں کے معاملات سننے کے لیے دربار لگایا کرتے تھے۔ بعد ازاں اس عفریت نے کہا کہ میرے اندر اتنی طاقت ہے کہ اس تخت کو اس مدت میں آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ میں امین بھی ہوں اور اس تخت میں چوری اور خیانت جیسا کوئی تصرف نہیں کروں گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا شخص جس کو کتاب (تورات) کا علم تھا، بولا کہ اس سے پہلے کہ آپ کی نگاہ اس کی طرف لوٹے، میں اس کو آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔
یہ دوسرا شخص کون تھا؟ اس کے بارے میں علامہ بغویؒ اور اکثر علما کا خیال ہے کہ یہ آصف ابن برخیا تھا، یہ صدیق تھا اور اس کو اسم اعظم معلوم تھا۔ اسم اعظم کے وسیلے سے جو بھی دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔
نگاہ لوٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اس بارے میں اختلاف ہے۔ سعید ابن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ نگاہ لوٹنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو منتہائے نظر پر جو آدمی نظر آئے، اس کے آپ تک پہنچنے سے قبل تخت حاضر کر دیا جائے گا۔ قتادہ نے اس کے معنی یہ لیے ہیں کہ نگاہ گھومنے سے پہلے وہ شخص آپ کے پاس آ جائے۔ مجاہد نے یہ بیان کیا ہے کہ جب تک نگاہ تھک کر ٹھہر جائے۔ وہب نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آپ اپنی نگاہ پھیلائیں۔ آپ کی نگاہ پھیلنے بھی نہ پائے گی کہ میں تخت کو لا کر حاضر کر دوں گا۔
بعض کہتے ہیں کہ قصہ حضرت سلیمانؑ میں جس شخص کی جانب علم منسوب ہے، وہ اسطوم تھے۔ بہرکیف بنی اسرائیل کے اسطوم نامی عالم نے جس کو حق تعالیٰ نے فہم معرفت سے نوازا تھا، حضرت سلیمانؑ سے کہا کہ میں تخت بلقیس کو اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ آپ کی جانب لوٹے، آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا تو لے آؤ۔ ان عالم صاحب نے کہا کہ آپ نبی ہیں اور نبی کے جگر گوشہ ہیں اور حق تعالیٰ کے نزدیک آپؑ سے زیادہ کوئی مقرب نہیں۔ اس لیے آپ حق تعالیٰ سے دعا فرمائیں اور اس کو طلب کریں تو وہ تخت آپ کی خدمت میں آ جائے گا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ تمہاری بات صحیح ہے۔ کہتے ہیں کہ اسطوم کو اسم اعظم عطا کیا گیا تھا اور انہوں نے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا فرمائی تھی۔
علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں ملکہ سبا بلقیس کا تخت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں کیسے پہنچا، اس بارے میں کلبیؒ کا بیان ہے کہ زمین شق ہوئی اور تخت اس میں سما گیا۔ بعد ازاں اندر ہی اندر چشمہ کی طرح بہتا رہا اور پھر حضرت سلیمانؑ کے روبرو زمین شق ہوئی اور تخت برآمد ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا، انہوں نے تخت کو اٹھایا اور زمین کو اندر ہی اندر چیرتے ہوئے لے کر چلے اور پھر حضرت سلیمانؑ کے پاس روبرو زمین شق ہوئی اور تخت برآمد ہوا۔
بعض حضرات نے کہا ہے کہ تخت بلقیس ہوا میں اڑا کر لایا گیا تھا۔ یہ تخت حضرت سلیمانؑ کی قیام گاہ سے اتنی دوری پر تھا کہ ایک تیز رفتار شخص اس دوری کو دو ماہ میں قطع کرے۔ جب تخت بلقیس آپؑ کی خدمت میں حاضر ہو گیا توآپؑ نے خدائے قادر کا شکر ادا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ اس تخت کی ہیئت بدل دو۔
چونکہ ملکہ بلقیس بھی مطیع و فرمانبردار ہو کر سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ اس کے پہنچنے سے پہلے ہی تخت کی ہیئت تبدیل فرما کر آپ ملکہ کی ذہانت و فراست کو آزمانا چاہتے تھے اور اس کے اعجاب میں زیادتی کرنا مقصود تھا۔ مفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ جب جنات کی جماعت کو یہ محسوس ہوا کہ ممکن ہے حضرت سلیمانؑ بلقیس سے شادی فرما لیں اور پھر اس کے ذریعے آپ کو جنات کے تمام حالات معلوم ہو جائیں گے (کیونکہ بلقیس کی والدہ بھی ایک جنیہ تھی) اور پھر بلقیس کے اگر کوئی لڑکا پیدا ہوا تو وہ ہم پر حکمران ہو گا اور اس طرح سلیمانؑ اور اس کی اولاد کی حکمرانی ہمیشہ ہمارے سروں پر مسلط رہے گی۔ لہٰذا جنات نے آپ کے سامنے بلقیس کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔ تاکہ اس کی جانب سے آپ کا دل پھر جائے۔ چنانچہ جنات نے کہا کہ بلقیس ایک بےوقوف اور نادان عورت ہے۔ اس میں عقل و تمیز نہیں۔ نیر یہ کہ اس کے پیر گھوڑے کے سم کی مانند ہیں اور کبھی یہ کہتے کہ اس کے پیر گدھے کے پیروں کے مشابہ ہیں۔ لہٰذا آپ نے تخت کی صورت بدل کر اس کی عقل و فراست کا امتحان لیا اور شیشے کے حوض سے اس کی پنڈلیوں کی حالت دیکھی۔ تخت بلقیس کی ہیئت بایں طور پر تبدیل کی گئی تھی کہ اس کے کسی حصے میں اضافہ اور کسی میں نقص کر دیا گیا تھا۔ کتب تفسیر میں یہ قصہ شرح و بسط کے ساتھ منقول ہے۔
جب ملکہ بلقیس مسلمان ہو گئی اور حضرت سلیمانؑ کی اطاعت قبول کر کے اپنی ذات پر زیادتی کی معترف ہو گئی تو حضرت سلیمانؑ نے اس سے شادی کر لی اور اس کو اس کی سلطنت پر واپس بھیج دیا۔ حضرت سلیمانؑ ہر ماہ بذریعہ ہوا اس سے ملاقات کے لیے اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ بلقیس کے بطن سے حضرت سلیمانؑ کا ایک لڑکا پیدا ہوا۔ آپ نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر داؤد رکھا، مگر یہ لڑکا آپ کی حیات میں ہی خدا کو پیارا ہو گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ جب تخت بلقیس میں نقص و اضافہ یعنی سبز جوہر کی جگہ سرخ اور سرخ جوہر کی جگہ سبز جوہر لگا دیا گیا اور پھر بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کہ کیا یہی تیرا تخت ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہاں ہے تو ایسا ہی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نے تخت کو پہچان لیا تھا۔ لیکن اس نے شبہ میں ڈالنے کے لیے صراحتاً اس کا اقرار نہیں کیا تھا جیسا کہ ان لوگوں نے اس کو شبہ میں ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ یہ رائے مقاتلؒ کی ہے۔
عکرمہؒ کہتے ہیں کہ بلقیس نہایت دانا عورت تھی، اس نے تخت کے اپنا ہونے کا صراحتاً اقرار تکذیب کے خوف سے نہیں کیا تھا اور انکار نکتہ چینی کی وجہ سے نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے ابہاماً ’’ہاں ہے تو ایسا ہی‘‘ کہا۔ چنانچہ حضرت سلیمانؑ نے اس کی حکمت اور کمال عقل کو پرکھ لیا کہ نہ اس نے انکار کیا اور نہ اقرار۔
بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ تخت کا معاملہ اس پر مشتبہ ہو گیا تھا کیوں کہ جب اس نے حضرت سلیمانؑ کے پاس روانگی کا قصد کیا تھا تو اپنی قوم کو یکجا کر کے کہا تھا کہ بخدا یہ شخص صرف بادشاہ نہیں ہے اور ہم میں اس کے مقابلے کی سکت نہیں ہے۔ پھر بلقیس نے حضرت سلیمانؑ کے پاس قاصد بھیجا کہ میں آپ کے پاس آ رہی ہوں اور میری قوم کے رؤساء بھی میرے ہمراہ آ رہے ہیں، تا کہ آپ کے معاملے کی دیکھ بھال کریں اور جس دن کی آپ نے دعوت دی ہے اس کو دیکھیں۔ اس کے بعد بلقیس نے اپنے تخت کو جو سونے چاندی سے بنا اور یاقوت و جواہرات سے مرصع تھا، سات کمروں میں سات تالوں میں بند کرا دیا اور اس کی حفاظت کے لیے نگراں مقرر کر دیئے۔ پھر اپنے نائب اور قائم مقام کو حکم دیا کہ اس تخت کی حفاظت کرنا، کوئی اس تک نہ پہنچ سکے اور کسی کو بھی ہرگز یہ تخت نہ دکھلانا۔
اس کے بعد یمن کے رؤساء کو ہمراہ لے کر حضرت سلیمانؑ کی خدمت میں روانہ ہو گئی۔ ان بارہ ہزار رؤساء کے ماتحت بے شمار لشکر تھے۔ جب بلقیس حضرت سلیمانؑ کی خدمت میں پہنچی تو اس نے اسے کہہ دیا کہ ’’ہاں ہے تو ایسا ہی‘‘ پھر بلقیس سے کہا گیا کہ ’’اس محل میں داخل ہو جا‘‘ بعض کہتے ہیں کہ ’’صرح‘‘ (محل) سفید اور چمکدار شیشہ کا تھا، جو پانی سا معلوم ہوتا تھا اور بعض کا قول یہ ہے کہ ’’صرح‘‘ سے مراد گھر کا صحن ہے اور اس کے صحن کے نیچے پانی جاری کر دیا گیا تھا اور بہت سے بحری جانور مثلاً مچھلی، مینڈک وغیرہ اس میں ڈال دیئے گئے تھے۔ چنانچہ جب کوئی اس ’’صرح‘‘ کو دیکھتا تو اس کو کثیر پانی سمجھتا تھا۔ اس ’’صرح‘‘ کے درمیان حضرت سلیمانؑ کا تخت بچھا دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ یہ ’’صرح‘‘ حضرت سلیمانؑ نے اس لیے بنوایا تھا تا کہ اس سے بلقیس کی فہم و فراست کا امتحان مقصود تھا جیسا کہ بلقیس نے خدام اور خادمات کے ذریعے امتحان لیا تھا۔ پھر جب حضرت سلیمانؑ تخت پر بیٹھ گئے اور بلقیس کو بلا کر اس محل میں داخل ہونے کی دعوت دی تو بلقیس نے اس کو پانی سے بھرا ہوا سمجھا اور اس نے اس میں داخل ہونے کے لیے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ حضرت سلیمانؑ نے دیکھا تو اس کی پنڈلیوں اور قدموں میں وہ عیوب نہ تھے جو جنات نے بتلائے تھے۔ حضرت سلیمانؑ نے ایک نظر دیکھ کر اس سے نظر ہٹا لی اور فرمایا کہ یہ پانی نہیں ہے بلکہ شیشوں سے تیار کردہ ایک محل ہے۔ بعد ازاں آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی اور بلقیس پہلے ہی ’’تخت‘‘ اور ’’صرح ممرد‘‘ کا حال دیکھ کر آپ کی نبوت کی دل سے قائل ہو چکی تھی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں جب بلقیس اس بلوری محل کے قریب پہنچی اور اس کو پانی سے بھرا ہوا سمجھا تو اس کے دل میں یہ بدگمانی پیدا ہو گئی کہ حضرت سلیمانؑ اسے اس میں غرق کے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔
(حیات الحیوان، جلد دوم)

اپنا تبصرہ بھیجیں